سعودی عرب امریکا ایران تنازع کے پر امن حل کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے: سعودی عہدیدار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ریاض: ایک سعودی عہدیدار نے کہا ہے کہ خطے میں کشیدگی کے حوالے سے سعودی عرب کے اصولی مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور مملکت امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کے پُرامن حل کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔
اتوار کو ایک اعلیٰ سطحی سعودی عہدیدار نے امریکی میڈیا کی ان رپورٹس کی تردید کی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ریاض نے واشنگٹن پر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے دباؤ ڈالا ہے۔
سعودی ملکیت کے اخبار الشرق الاوسط میں شائع بیان کے مطابق سعودی عہدیدار نے کہا کہ سعودی عرب اب بھی دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور تنازع کے پُرامن حل کی حمایت کرتا ہے، جو مکالمے اور سفارتی ذرائع کے ذریعے آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے اپنی فضائی حدود یا سرزمین کے استعمال کی اجازت نہیں دے گا۔
سعودی عہدیدار کے مطابق منگل کے روز سعودی ولی عہد نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس کے دوران ولی عہد نے اس بات کی توثیق کی کہ سعودی عرب ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔