سعودی عرب امریکا ایران تنازع کے پر امن حل کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے: سعودی عہدیدار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ریاض: ایک سعودی عہدیدار نے کہا ہے کہ خطے میں کشیدگی کے حوالے سے سعودی عرب کے اصولی مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور مملکت امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کے پُرامن حل کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔
اتوار کو ایک اعلیٰ سطحی سعودی عہدیدار نے امریکی میڈیا کی ان رپورٹس کی تردید کی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ریاض نے واشنگٹن پر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے دباؤ ڈالا ہے۔
سعودی ملکیت کے اخبار الشرق الاوسط میں شائع بیان کے مطابق سعودی عہدیدار نے کہا کہ سعودی عرب اب بھی دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور تنازع کے پُرامن حل کی حمایت کرتا ہے، جو مکالمے اور سفارتی ذرائع کے ذریعے آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے اپنی فضائی حدود یا سرزمین کے استعمال کی اجازت نہیں دے گا۔
سعودی عہدیدار کے مطابق منگل کے روز سعودی ولی عہد نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس کے دوران ولی عہد نے اس بات کی توثیق کی کہ سعودی عرب ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔