میئر کراچی نے موبائل مارکیٹ آتشزدگی کو ’’واردات‘‘کہہ دیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر) میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی جانب سے صدر گل پلازہ کے قریب النجیبی موبائل مارکیٹ میں لگنے والی آگ کو سوشل میڈیا پر ’’واردات‘‘ قرار دینے پر صحافتی حلقوں اور شہریوں کی جانب سے تنقید سامنے آئی ہے۔کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) نے اپنے آفیشل فیس بک پیج پر آگ کے حوالے سے بیان جاری کیا، جس میں میئر کراچی کی طرف سے آتشزدگی کے مقام کو ’’موقع واردات‘‘ قرار دیا گیا تاہم قانونی اور صحافتی اصطلاحات کے مطابق ‘‘موقع واردات’’ اس جگہ کو کہا جاتا ہے جہاں کوئی مجرمانہ فعل، جیسے قتل، ڈکیتی یا کوئی اور قابل تعزیر جرم پیش آئے۔ اس بیان پر سوشل میڈیا صارفین اور صحافیوں نے اعتراض کیا کہ ایسے الفاظ استعمال کرنے سے قانونی اور صحافتی معیار متاثر ہوتے ہیں۔ بعض صارفین کا کہنا تھا کہ میئر کراچی نے خبر میں بازی لے جانے کیلیے غیر تجربہ کار عملے کے ذریعے فیس بک پر حادثے کی جگہ کو ’’موقع واردات‘‘ لکھوا کر پیش کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میئر کراچی
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔