جینے دو کراچی مارچ: منعم ظفر خان سمیت دیگر رہنماؤں کے خلاف ایف آئی آردرج
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی:سندھ حکومت کی جانب سے جینے دو کراچی مارچ شاہراہِ فیصل پر کرنے کے خلاف جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر خان اور دیگر ذمہ داران کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
ترجمان جماعت اسلامی کراچی کے مطابق یہ ایف آئی آر سیاسی انتقام، فسطائیت اور عوامی آواز دبانے کی ناکام کوشش ہے، جماعت اسلامی کے جینے دو کراچی مارچ کے خلاف ٹیپو سلطان تھانے میں ایف آئی آر نمبر 26/37 درج کی گئی ہے۔ ایف آئی آر میں امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان سمیت دیگر پارٹی رہنماؤں کو نامزد کیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا مؤقف ہے کہ مارچ کے باعث ٹریفک میں رکاوٹ اور امن و امان کی صورتحال متاثر ہونے کا خدشہ تھا، تاہم جماعت اسلامی نے اس مؤقف کو مسترد کردیا ہے۔
ترجمان جماعت اسلامی کراچی نے کہا ہے کہ پُرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کے استعمال پر مقدمات درج کرنا فسطائیت کی بدترین مثال ہے، ایف آئی آر دراصل کراچی کے مسائل پر اٹھنے والی عوامی آواز کو دبانے کی کوشش ہے، جو کسی صورت کامیاب نہیں ہوگی۔
ترجمان نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی ایف آئی آرز سے ڈرنے والی نہیں اور نہ ہی ایسے ہتھکنڈوں سے اس کی جدوجہد روکی جا سکتی ہے، کراچی کے حقوق کی تحریک پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی اور شہر کے عوام کو ان کے جائز حقوق دلانے تک جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
جماعت اسلامی کراچی کے ترجمان کے مطابق سندھ حکومت نے عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے سیاسی کارکنوں کے خلاف مقدمات درج کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے جو جمہوری روایات کے منافی ہے، اگر حکومت سمجھتی ہے کہ ایف آئی آرز کے ذریعے جماعت اسلامی کو دبایا جا سکتا ہے تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔
ترجمان نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی 14 فروری کو سندھ اسمبلی کے باہر بھرپور دھرنا دے گی، جس میں کراچی کے مسائل، شہریوں کے حقوق اور حکومتی نااہلی کے خلاف آواز بلند کی جائے گی،جماعت اسلامی ہر سطح پر عوام کے ساتھ کھڑی رہے گی اور کراچی کو اس کا حق دلانے کی جدوجہد جاری رکھے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کراچی ایف آئی آر کراچی کے کے خلاف
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
پاکستان سمیت 8 عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف میں اسرائیلی اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل سے فوری طور پر ان اقدامات کو روکنے اور عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں انتہا پسند اسرائیلی وزراء کی قیادت میں یہودی آبادکاروں کی مسلسل اجتماعی دراندازی، مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانا، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنا اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات نہایت خطرناک اور ناقابل قبول ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ میں دراندازی پر اکسانے اور تشدد پر مبنی بیانات کی بھی شدید مذمت کی۔ اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یروشلم کے قدیم شہر اور اس کے مذہبی مقامات تک رسائی پر پابندیاں، خصوصاً مسلمانوں اور دیگر عبادت گزاروں کے ساتھ امتیازی سلوک، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایک غیرقانونی کوشش ہیں۔
وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل بطور قابض طاقت مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کر رہا ہے، جو اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔
آٹھوں ممالک نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیا۔ اعلامیے میں مقدس مقامات کی نگرانی کے حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35 ایکڑ) رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ مزید کہا گیا کہ اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جو مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے معاملات کا مجاز ہے۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بطور قابض طاقت فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر میں عائد تمام پابندیاں ختم کرے، مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے سے باز آئے اور مقدس مقامات کے تقدس کا احترام کرے۔
مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری غیرقانونی اقدامات اور خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے واضح، مضبوط اور مؤثر موقف اختیار کرے، تاکہ مقدس مقامات کی حرمت اور تاریخی حیثیت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں