data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی:سندھ حکومت کی جانب سے جینے دو کراچی مارچ شاہراہِ فیصل پر کرنے کے خلاف جماعت اسلامی کراچی کے امیر منعم ظفر خان اور دیگر ذمہ داران کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

 ترجمان جماعت اسلامی کراچی کے مطابق یہ ایف آئی آر سیاسی انتقام، فسطائیت اور عوامی آواز دبانے کی ناکام کوشش ہے، جماعت اسلامی کے جینے دو کراچی مارچ کے خلاف ٹیپو سلطان تھانے میں ایف آئی آر نمبر 26/37 درج کی گئی ہے۔ ایف آئی آر میں امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان سمیت دیگر پارٹی رہنماؤں کو نامزد کیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا مؤقف ہے کہ مارچ کے باعث ٹریفک میں رکاوٹ اور امن و امان کی صورتحال متاثر ہونے کا خدشہ تھا، تاہم جماعت اسلامی نے اس مؤقف کو مسترد کردیا ہے۔

ترجمان جماعت اسلامی کراچی نے کہا ہے کہ پُرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کے استعمال پر مقدمات درج کرنا فسطائیت کی بدترین مثال ہے، ایف آئی آر دراصل کراچی کے مسائل پر اٹھنے والی عوامی آواز کو دبانے کی کوشش ہے، جو کسی صورت کامیاب نہیں ہوگی۔

ترجمان نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی ایف آئی آرز سے ڈرنے والی نہیں اور نہ ہی ایسے ہتھکنڈوں سے اس کی جدوجہد روکی جا سکتی ہے، کراچی کے حقوق کی تحریک پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی اور شہر کے عوام کو ان کے جائز حقوق دلانے تک جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

جماعت اسلامی کراچی کے ترجمان کے مطابق سندھ حکومت نے عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے سیاسی کارکنوں کے خلاف مقدمات درج کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے جو جمہوری روایات کے منافی ہے، اگر حکومت سمجھتی ہے کہ ایف آئی آرز کے ذریعے جماعت اسلامی کو دبایا جا سکتا ہے تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔

ترجمان نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی 14 فروری کو سندھ اسمبلی کے باہر بھرپور دھرنا دے گی، جس میں کراچی کے مسائل، شہریوں کے حقوق اور حکومتی نااہلی کے خلاف آواز بلند کی جائے گی،جماعت اسلامی ہر سطح پر عوام کے ساتھ کھڑی رہے گی اور کراچی کو اس کا حق دلانے کی جدوجہد جاری رکھے گی۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کراچی ایف آئی آر کراچی کے کے خلاف

پڑھیں:

کوہاٹ: ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، بچے سمیت 3 افراد قتل 

ڈیرہ اسماعیل خان+ کوہاٹ (نامہ نگاران) کوہاٹ شہر کے علاقہ چشمہ جات کے قریب فائرنگ سے ایک راہگیر بچے سمیت دو افراد کو قتل کر دیا گیا۔ قتل ہونے والا شخص کرم پولیس کا اہلکار ہے۔ تفصیلات کے مطابق کوہاٹ شہر کے علاقہ چشمہ جات کے قریب نامعلوم ملزموں کی جانب سے فائرنگ میں کرم پولیس کا اہلکار رحیم سکنہ جنگل خیل کوہاٹ اور ایک راہگیر بچہ نقیب اللہ سکنہ میاں گڑھی جو نہانے کے لئے چشمہ جات آیا ہوا تھا۔ لگ کر جان بحق ہوگئے۔ جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل پنیالہ کے گائوں کٹہ خیل میں نامعلوم ملزموں نے فائرنگ کرکے ایک نوجوان کو قتل کردیا۔ تفصیلات کے مطابق تحصیل پنیالہ کی گائوں کٹہ خیل میں نامعلوم ملزموں نے مسجد کے اندر نماز ادا کرنیوالے نوجوان وحید اللہ ولد عبدالرشید سکنہ محلہ بیگ خیل کو فائرنگ کرکے قتل کردیا اور موقع سے فرار ہوگئے۔

متعلقہ مضامین

  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • کوہاٹ: ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، بچے سمیت 3 افراد قتل 
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی