ووٹ خریدنے والوں کو پولیس کے حوالے کیا جائے، امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر شفیق الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ آئندہ 13ویں پارلیمانی انتخابات کے دوران جو بھی شخص پیسے کے ذریعے ووٹ خریدنے کی کوشش کرے اسے گرفتار کر کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈھاکا: چینی سفیر کی جماعتِ اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان سے ملاقات
ڈاکٹر شفیق الرحمان نے پیر کو سیتاکنڈا ہائی اسکول و مدرسہ گراؤنڈ میں منعقدہ 11 جماعتی انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قوم کرپشن، ووٹوں کی خرید و فروخت اور خوف و ہراس کی سیاست کو ہرگز قبول نہیں کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ غیر قانونی پیسے کے ساتھ آتے ہیں وہ مدد نہیں بلکہ آپ کی عزت اور ضمیر خریدنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عوام خود قانون ہاتھ میں نہ لیں بلکہ ایسے افراد کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کریں۔
’عوامی شعور بیدار ہوچکا ہے‘امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملک بھر میں ٹیکناف سے تتولیہ اور جافلونگ سے سندربن تک عوامی شعور بیدار ہو چکا ہے اور بنگلہ دیش نے مفاہمتی سیاست اور کسی کے تابع بن کر رہنے کے رویے کو مسترد کر دیا ہے۔
مزید پڑھیے: جماعتِ اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان کا طارق رحمان کی وطن واپسی کا خیرمقدم
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی انصاف، شفافیت اور ایک خودمختار بنگلہ دیش پر یقین رکھتی ہے اور کسی کو بھی مذہبی یا سماجی بنیادوں پر قوم کو تقسیم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ماضی کی حکومتوں پر تنقیدڈاکٹر شفیق الرحمان نے کہا کہ آزادی کے بعد کئی حکومتیں آئیں اور گئیں مگر فائدہ صرف حکمران طبقے کو ہوا جبکہ عام آدمی کی زندگی میں حقیقی تبدیلی نہ آ سکی۔
انہوں نے انتخابی مہم کے دوران دکھاوے کی دینداری اور محبت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انتخات کے بعد عوام کو بھول جانے کا دور اب ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نےئ مزید کہا کہ ووٹ خریدنا صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی جرم بھی ہے۔
نوجوانوں کے لیے روزگار کا وژننوجوانوں اور طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نوجوان خیرات نہیں بلکہ عزت کے ساتھ روزگار چاہتے ہیں۔
جماعت اسلامی تعلیم، مہارت اور روزگار پر مبنی پالیسی کو ترجیح دے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہم ہر نوجوان ہاتھ کو قوم کی تعمیر کا ذریعہ بنانا چاہتے ہیں۔
خواتین کی سلامتی اور ووٹ کا حقڈاکٹر شفیق الرحمان نے خواتین کی سلامتی اور عزت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مائیں اور بہنیں اب خاموش نہیں رہیں گی اور بلا خوف ووٹ ڈالیں گی۔
مزید پڑھیں: جماعتِ اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان برطانیہ پہنچ گئے
انہوں نے پولنگ اسٹیشنز پر کسی بھی قسم کی دھمکی سے خبردار کرتے ہوئے خواتین کو اپنے آئینی حق کے استعمال کی ترغیب دی۔
بین المذاہب ہم آہنگی کا پیغامانہوں نے کہا کہ مسلمان، ہندو، بدھ اور عیسائی مل کر بنگلہ دیش کو پھولوں کے باغ کی طرح تعمیر کریں گے جہاں ہر شہری کو مساوی عزت حاصل ہو گی۔
انہوں نے بھتہ خوری اور کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اس عمل میں ملوث افراد اصلاح کا راستہ اختیار کریں۔
ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی اقتدار کسی فرد، خاندان یا گروہ کے لیے نہیں بلکہ 18 کروڑ عوام کی فلاح کے لیے چاہتی ہے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ 12 فروری کو ووٹ کے ذریعے واضح فیصلہ دیں اور وعدہ کیا کہ اگر موقع ملا تو عوامی اعتماد پر پورا اترا جائے گا بصورت دیگر انصاف کی جدوجہد جاری رہے گی۔
یہ بھی پڑھیے: عوامی سروے: بنگلہ دیش کے اگلے وزیراعظم کے لیے اکثریت نے کس کا نام لیا؟
جلسے میں جماعت اسلامی کی قیادت، اتحادی جماعتوں کے نمائندے، مزدور فیڈریشن کے رہنما، طلبہ تنظیموں کے نمائندے اور چٹاگانگ کے حلقوں سے امیدواران بھی شریک تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش شفیق الرحمان جماعت اسلامی بنگلہ دیش.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش شفیق الرحمان جماعت اسلامی بنگلہ دیش اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان ڈاکٹر شفیق الرحمان نے انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہوئے کہا کہ نہیں بلکہ بنگلہ دیش کرتے ہوئے کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔