امیرِ جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن اسمبلی میں آئیں یا سیٹ خالی کریں، وزیرِ اعلیٰ سندھ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
کراچی میں تقریب سے خطاب میں مراد علی شاہ نے کہا کہ جہاں ہمیں فیصلے کرنے ہوں گے ہم وہ کریں گے، جس کے خلاف کارروائی کرنی تھی، ہم نے کی ہے، جوڈیشل کمیشن کے لیے خط لکھا ہے، چیف جسٹس نے ٹرم آف ریفرنس کا کہا ہے، پیپلز پارٹی کے ارکان نے متاثرین کے گھر جا کر تعزیت کی، مگر کیمرے نہیں لے گئے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ امیرِ جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن اسمبلی میں آئیں یا سیٹ خالی کریں۔ کراچی میں تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ میں نے بھی حافظ نعیم الرحمٰن کا دھرنا دینے کا بیان سنا ہے، انہیں سندھ اسمبلی کی سیٹ ملی ہے، وہ اپنے حلقے کے عوام کا خیال کریں، حلف لیں، یہ صاحب تو اسمبلی میں آتے نہیں اور نہ ہی آئین کے مطابق حلف اٹھاتے ہیں، جنہیں وہ قبضہ حکومت کہتے ہیں وہ عوام کے ووٹوں سے آئی ہے، عوام نے پیپیلز پارٹی پر اعتماد کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب ہم بڑی شاہراہوں پر دھرنوں اور احتجاج کے خلاف سختی کریں گے، عوام کا راستہ بند نہیں ہونا چاہیئے۔ مراد علی شاہ نے سانحۂ گل پلازا پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جہاں ہمیں فیصلے کرنے ہوں گے ہم وہ کریں گے، جس کے خلاف کارروائی کرنی تھی، ہم نے کی ہے، جوڈیشل کمیشن کے لیے خط لکھا ہے، چیف جسٹس نے ٹرم آف ریفرنس کا کہا ہے، پیپلز پارٹی کے ارکان نے متاثرین کے گھر جا کر تعزیت کی، مگر کیمرے نہیں لے گئے۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ اس سانحے کی تشہیر کی جا رہی ہے، مجھے اعتراض ان پر ہے جو اس سانحے کو سیاست کے لیے استعمال کر رہے ہیں، سانحے میں جن کی جان گئی حکومت ہر اس شخص کے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سانحۂ گل پلازا میں تقریباً 80 افراد شہید ہوئے، سانحے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو 1 کروڑ روپے دیں گے، گل پلازا کے ہر دکاندار کو 5 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ چیئرمین نیب نے سندھ حکومت کی تعریف کی، 2018ء میں ہم تقریباً پولیو سے نجات پا چکے تھے، سندھ میں پولیو کے کیس نہیں آ رہے تھے، 2018ء کی عبوری حکومت نے انسدادِ پولیو پر توجہ نہیں دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مراد علی شاہ نے نے کہا کہ
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔