کراچی میں تقریب سے خطاب میں مراد علی شاہ نے کہا کہ جہاں ہمیں فیصلے کرنے ہوں گے ہم وہ کریں گے، جس کے خلاف کارروائی کرنی تھی، ہم نے کی ہے، جوڈیشل کمیشن کے لیے خط لکھا ہے، چیف جسٹس نے ٹرم آف ریفرنس کا کہا ہے، پیپلز پارٹی کے ارکان نے متاثرین کے گھر جا کر تعزیت کی، مگر کیمرے نہیں لے گئے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ امیرِ جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن اسمبلی میں آئیں یا سیٹ خالی کریں۔ کراچی میں تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ میں نے بھی حافظ نعیم الرحمٰن کا دھرنا دینے کا بیان سنا ہے، انہیں سندھ اسمبلی کی سیٹ ملی ہے، وہ اپنے حلقے کے عوام کا خیال کریں، حلف لیں، یہ صاحب تو اسمبلی میں آتے نہیں اور نہ ہی آئین کے مطابق حلف اٹھاتے ہیں، جنہیں وہ قبضہ حکومت کہتے ہیں وہ عوام کے ووٹوں سے آئی ہے، عوام نے پیپیلز پارٹی پر اعتماد کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب ہم بڑی شاہراہوں پر دھرنوں اور احتجاج کے خلاف سختی کریں گے، عوام کا راستہ بند نہیں ہونا چاہیئے۔ مراد علی شاہ نے سانحۂ گل پلازا پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جہاں ہمیں فیصلے کرنے ہوں گے ہم وہ کریں گے، جس کے خلاف کارروائی کرنی تھی، ہم نے کی ہے، جوڈیشل کمیشن کے لیے خط لکھا ہے، چیف جسٹس نے ٹرم آف ریفرنس کا کہا ہے، پیپلز پارٹی کے ارکان نے متاثرین کے گھر جا کر تعزیت کی، مگر کیمرے نہیں لے گئے۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ اس سانحے کی تشہیر کی جا رہی ہے، مجھے اعتراض ان پر ہے جو اس سانحے کو سیاست کے لیے استعمال کر رہے ہیں، سانحے میں جن کی جان گئی حکومت ہر اس شخص کے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سانحۂ گل پلازا میں تقریباً 80 افراد شہید ہوئے، سانحے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو 1 کروڑ روپے دیں گے، گل پلازا کے ہر دکاندار کو 5 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ چیئرمین نیب نے سندھ حکومت کی تعریف کی، 2018ء میں ہم تقریباً پولیو سے نجات پا چکے تھے، سندھ میں پولیو کے کیس نہیں آ رہے تھے، 2018ء کی عبوری حکومت نے انسدادِ پولیو پر توجہ نہیں دی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مراد علی شاہ نے نے کہا کہ

پڑھیں:

ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط

پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

متعلقہ مضامین

  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن