کراچی سے کشمور پوراسندھ ڈاکوراج کے حوالے ہے ‘عوام غیرمحفوظ ہوگئے ‘ محمد یوسف
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260202-08-13
کراچی /کندھکوٹ(نمائندہ جسارت/ اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی سندھ کے جنرل سیکرٹری و ٹاؤن ناظم محمد یوسف نے کہا ہے کہ کراچی سے کشمور پوراسندھ ڈاکوراج کے حوالے ہے عوام غیرمحفوظ ہوگئے ہیں۔۔سندھ میںعام آدمی تو کیا خود پولیس بھی غیرمحفوظ بن چکی ہے ،شکارپورمیں ایس ایچ اوکا ڈاکوئوں کے ہاتھوں قتل واضح مثال ہے۔عملی طور پرملک میں چند خاندان حکومت اور ملکی وسائل پر قابض ہیں۔اس لیے جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں بدل دونظام تحریک چلا رہی ہے۔ وفاق کے حوالے اور نہ ہی نیا صوبہ شہر کراچی کے مسائل کا حل بااختیاربلدیاتی نظام ہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے کندھکوٹ میں ڈسٹرکٹ بار سے خطاب اورپریس کلب کے نومنتخب عہدادران کو مبارکباد کے موقع پربات چیت کے داروان کیا۔ قبل ازیں انہوں نے شہری اتحاد کے صدر اور پیپلزپارٹی منارٹی ونگ سندھ کے نائب صدر صدرڈاکٹر مہرچندکی والدہ کی وفات پر اظہار افسوس بھی کیا۔صوبائی ڈپٹی جنرل سیکریٹری امداداللہ بجارانی ،ضلعی امیرغلام مصطفی میرانی ودیگر مقامی ذمے داران بھی انکے ہمراہ موجود تھے۔انہوں نے مزید کہاکہ سانحہ گل پلازہ میں قیمتی انسانی جانوں و املاک کا نقصان حکومتی غفلت کا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں 17 سال سے پیپلز پارٹی کی حکومت ہے میئر کراچی کے پاس 55 ارب روپے کا بجٹ ہے اس کے باوجود کراچی میں 250 افراد ڈمپر کی زد میں آ کر جانبحق ہو گئے 27 بچے کھلے ہوئے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہوئے ۔ واحد صوبہ سندھ ہے جہاں جمہوریت کی نرسری بلدیاتی نظام قائم ہے اسے بھی تباہ کیا جا رہا ہے نہ اختیار ہے نہ وسائل ہیں عوام موبائل فون بجلی بل بیلنس اور ماچس تک پر ٹیکس ادا کرتے ہیں لیکن سہولیات ناپید ہیں انہوں نے کہا کہ شہر میں سڑکیں تباہ حال ہیں پینے کا پانی تک میسر نہیں سول ہسپتال میں مریضوں کے لیے سہولیات نہیں سول ہسپتال کو شہر سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے نوجوان نسل کو تباہ کرنے کے لیے شراب خانہ کھولنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں ہم عوام سے براہ راست رابطے میں ہیں اور عوامی طاقت کے ذریعے نظام کی تبدیلی کی جدوجہد کا اغاز کر دیا گیا ہے۔
کندھ کوٹ: جماعت اسلامی سندھ کے جنرل سیکرٹری محمد یوسف کا پریس کلب کے نومنتخب عہدیداروں کے ساتھ گروپ فوٹو‘ دوسری جانب ڈسٹرکٹ بارکشمور میں وکلا سے خطاب اور بار کے نومنتخب صدر آفتاب احمد چنا کو مبارکبادجبکہ اقلیتی رہنما وشہری اتحاد کے صدر ڈاکٹر مہرچند سے والدہ کے انتقال پر تعزیت کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔