ہم فاشزم‘ آمریت اور کرپشن سے پاک انسانی بنگلا دیش چاہتے ہیں‘ ڈاکٹر شفیق الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
چودھگرام (صباح نیوز)بنگلا دیش جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن نے کہا ہے کہ بنگلا دیش کے عوام اب حقیقی تبدیلی چاہتے ہیں اور یہ تبدیلی 21 تاریخ کے بعد31 تاریخ سے عوامی خواہشات کی بنیاد پر سامنے آئے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب ملک میں نہ آمریت قبول کی جائے گی، نہ فاشزم اور نہ ہی کرپشن زدہ حکومت۔وہ چودھگرام پائلٹ ہائی اسکول گراؤنڈ میں 11 جماعتی انتخابی اتحاد کے عوامی اجتماع سے بطور مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ڈاکٹر شفیق الرحمن نے کہا کہ ہم کسی ایک جماعت کی نہیں بلکہ 18 کروڑ عوام کی کامیابی چاہتے ہیں۔ چودھگرام میں 11 جماعتی اتحاد کا انتخابی نشان ترازو ہے اور تمام اتحادی جماعتیں اسی نشان کو سامنے رکھ کر جد و جہد کریں گی۔ جہاں جو نشان ہوگا، ہم اسی کے ساتھ کھڑے ہوں گے، ان شا اللہ۔انہوں نے سید عبداللہ محمد طاہر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چودھگرام کی سرزمین انہیں بخوبی جانتی ہے، اگر عوام نے انہیں منتخب کیا تو کومیلا کو کابینہ میں ایک سینئر وزیر ملے گا۔ مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہونے کا عزم دہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم ہر مظلوم کے ساتھ ہیں، چاہے وہ کہیں بھی ہو۔امیر جماعت اسلامی نے خواتین کے احترام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ ماؤں، بہنوں کی عزت پر ہاتھ ڈالتے ہیں، ان کے ہاتھوں میں کیا ملک کی مائیں محفوظ رہ سکتی ہیں؟ آج عام لباس میں ملبوس خواتین بھی جماعت اسلامی کو اقتدار میں دیکھنا چاہتی ہیں، یہی بات مخالفین کو پریشان کر رہی ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ ظلم کے راستے سے لوٹ آئیں، دوسروں کی رائے کا احترام کریں اور اپنے کردار کے ساتھ عوام کے سامنے آئیں، فیصلہ عوام کریں گے۔کرپشن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہمارا عزم واضح ہے، چاندہ بازی سمیت ہر قسم کی بدعنوانی کی جڑ کاٹ دی جائے گی۔ اس سے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں، ملک کو مزید تکلیف نہ دی جائے۔قومی مدارس کے بارے میں پھیلائی جانے والی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے ڈاکٹر شفیق الرحمن نے کہا کہ قوامی مدارس دین کی بنیاد ہیں، انہیں بند کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اگر حکومت بنانے کا موقع ملا تو وفاق المدارس کے ساتھ مشاورت سے فیصلے کیے جائیں گے۔انہوں نے نوجوانوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جولائی کے نوجوان بیکار الاونس نہیں، بلکہ روزگار کے مواقع چاہتے ہیں۔ ہماری جماعت کے 62 فیصد امیدوار نوجوان ہیں، یہ ہوگا نوجوانوں کا، توانائی سے بھرپور نیا بنگلا دیش۔انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ اتحاد کی حکومت قائم ہوگی اور اختلاف کرنے والوں کو بھی حکومت میں شمولیت کی دعوت دی جائے گی، بشرطیکہ وہ تین اصول مانیں: کرپشن سے مکمل اجتناب، سب کے لیے بلا امتیاز انصاف، اور جولائی اصلاحات پر مکمل عملدرآمد۔آخر میں انہوں نے کہا کہ ہم مذہب، نسل یا گروہ کی بنیاد پر تفریق نہیں کریں گے۔ بنگلا دیش میں بسنے والے تمام مذاہب کے ماننے والوں کو مکمل آزادی اور حقوق حاصل ہوں گے۔ ریاستی ذمے داریاں صرف میرٹ اور حب الوطنی کی بنیاد پر دی جائیں گی۔تعلیم کے نظام پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بہتر تعلیم کے بغیر بہتر قوم ممکن نہیں، موجودہ تعلیمی نظام میں بڑی تبدیلی ناگزیر ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر شفیق الرحمن انہوں نے کہا کہ نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں بنگلا دیش کی بنیاد کے ساتھ
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔