بلوچستان کے وزیرِ اعلیٰ رو رہے تھے
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
ایسا پہلی دفعہ نہیں ہوا کہ دہشتگردوں نے اپنے ناپاک ارادوں کے ساتھ اس ارضِ پاک پر حملہ کیا ہو۔ ایسا پہلی دفعہ نہیں ہوا کہ ان خوارجین نے بلوچستان میں نہتے عوام پر حملہ کیا ہو۔ ایسا پہلی دفعہ نہیں ہوا کہ دہشتگرد افغانستان سے تربیت لے کر آئے ہوں۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ ان دہشتگردوں کے پیچھے بھارتی معاونت کے واضح ثبوت ہوں۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ سیکیورٹی فورسز کے جوانوں نے جان کے نذرانے پیش کر کے اس ارضِ مقدس کی حفاظت کی ہو۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ ہم نے شہدا کے جنازے اٹھائے ہوں۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ ریاست نے دہشتگردوں کی کمر توڑ دی ہو۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ یوں لگا ہو کہ اب دہشتگرد قصۂ پارینہ ہو چکے ہیں، اب سرحد پار سے نفرت کے سلسلے بند ہو گئے ہیں اور اب ظلم اور قہر کی رات بیت گئی ہے۔
عجب بدقسمتی ہے کہ جب بھی اس ملک میں امن کی بات ہونے لگتی ہے، خوشحالی دروازہ کھٹکھٹانے لگتی ہے، جب بھی ہم خوشیاں منانے لگتے ہیں، جب بھی ہم متحد ہونے لگتے ہیں، کہیں نہ کہیں سے کوئی سازش ہمیں درپیش ہوتی ہے۔ کوئی سانحہ ہمارا منتظر ہوتا ہے۔ دہشتگردی کے کسی واقعے کا ہمیں سامنا ہوتا ہے۔
ظلم کی یہ ریت بہت پرانی ہو گئی۔ قہر کی اس رسم کو دہائیاں گزر گئیں۔ دہشتگردی کا عفریت زندہ ہی رہا۔ 80 ہزار لوگ جان سے گزر گئے۔ کتنے جوانوں نے شہادت کا سہرا پہنا، کتنے بچوں کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ گیا۔ کتنی عورتیں بیوہ ہوئیں۔ کتنی ماؤں نے جوانوں کے جنازوں پر ماتم کیا۔ اس دھرتی پر کتنا خون بہا، کتنی آفت آئی، یہ حساب ہم سب کو یاد ہے۔
یہ دھماکے، یہ دہشتگرد، یہ خودکش بمبار ہم سب کی یادداشت کا حصہ ہیں۔ ہم سب کے ماضی کا قصہ ہیں۔ ہم سب کا حال یہی ہے، اور اس حال سے نجات کی خواہش ہم سب کی ہے۔
بلوچستان آدھا پاکستان۔ مستقبل کی معاشی شہ رگ۔ غیور اور بہادر لوگوں کا صوبہ۔ شاندار روایات اور جری رسوم کا علاقہ۔ اس کے پہلو میں گوادر سا خزینہ، جو مستقبل کا راستہ، آنے والے زمانوں کی گزرگاہ۔ اس کے چٹیل پہاڑوں میں وہ سونا دفن، جس کی شناخت آنے والی صدیوں میں ہونی ہے۔ جس تک دسترس ایک عالم کا خواب ہے، جو بلوچستان کی خوشحالی کا زینہ اور پاکستان کی ترقی کا سفینہ ہے۔
اس صوبے پر دشمن کی نظر پرانی ہے۔ یہاں اختلافات کو ہوا دینے والے بہت ہیں۔ یہاں نفرتیں بڑھانے والے کم نہیں۔ لوگوں کو تقسیم کرنے والے زیادہ ہیں۔ یہاں لڑائی بڑھانے والے بہت ہیں۔ یہاں کے لوگوں کو ورغلانے والے کم نہیں۔
کوئی حقوق کا نام لیتا ہے۔ کوئی مسنگ پرسنز کی بات کرتا ہے۔ کسی جیب میں افغانستان کا سکہ ہے۔ کسی کی زبان پر ڈالر ہے۔ کسی کا مطمعِ نظر بھارت کی خوشنودی ہے۔ کسی کی تربیت گاہ افغانستان ہے۔ کوئی زبان کا مسئلہ بنا رہا ہے۔ کوئی فرقہ وارانہ معاملات کو ہوا دے رہا ہے۔ کوئی دہشتگردوں کا حامی بنا ہوا ہے۔ کوئی قبیلوں میں بٹا ہوا ہے۔ کسی کو سرداری نظام نے ڈس لیا۔ کسی کو غربت نے مار دیا۔ کسی کو سیاست نے ہڑپ کر لیا۔
اس دفعہ بھی یہی ہوا۔ ایک نہیں، 12 جگہوں پر حملہ کیا گیا۔ دہشتگرد زرغون روڈ اور سریاب روڈ تک پہنچ گئے۔ بینکوں کو بموں سے اڑا دیا گیا۔ ملک کے خلاف نعرے لگائے گئے۔ ان کے پاس جدید اسلحہ تھا، دہشتگردی کی ٹریننگ تھی۔ ان کی آنکھوں میں نفرت، ان کے عزائم میں خباثت، اور چہروں پر لعنت تھی۔ ان کے گروہ میں دہشتگرد عورتیں بھی شامل تھیں۔ وہ نہتے مزدوروں کو قتل کرنے نکلے تھے۔ وہ بچوں اور عورتوں پر حملے کرنے نکلے تھے۔ وہ معصوم شہریوں کی لاشوں پر جشن منانے نکلے تھے۔
بھارتی چینل اسی لمحے کے منتظر تھے۔ دہشتگردی یہاں ہو رہی تھی اور جشن بھارتی چینلز پر منایا جا رہا تھا ۔ وہ جھوٹ کا بازار گرم کرنے لگے۔ فیک نیوز کو بڑھاوا دینے لگے۔ ظالموں کے قصیدے گانے لگے۔ دہشتگردوں کو ہمدرد بتانے لگے۔ ان کی محبت میں گیت گانے لگے۔
دہشتگردوں کا ارادہ تھا کہ ہر جگہ پر قبضہ کر لیں۔ لوگوں کو خوف میں مبتلا کر دیں۔ سوئے ہوؤں کو ابدی نیند سلا دیں۔ دنیا کو پاکستان کی ابتری کی شکل دکھا دیں۔ خون ریزی کی یہ داستان بھارتی چینلوں پر دکھلا دیں۔ پاکستان کی ناموس کو مٹی میں ملا دیں۔
لیکن دشمن کے ارادے پھر ناکام ہوئے۔ وطن کے محافظ ان کے منتظر تھے۔ جتنی تیز رفتاری سے یہ دہشتگرد بلوچستان میں پھیلے، اتنی ہی سرعت سے انہیں جہنم واصل کیا گیا۔ ان کے پرخچے اڑا دیے گئے۔ ان کے ناپاک جسموں کے ڈھیر لگا دیے گئے۔ جری جوانوں نے دشمن کا حملہ ناکام بنایا۔ ان کی نسلوں کو سبق سکھایا۔ شجیع محافظوں نے ان کو عبرت کا نشان بنایا۔
سرحدوں کی حفاظت کرنے والے دلیروں کے حوصلے کو داد دینا قوموں کا فرض ہوتا ہے۔ یہ اس ملک کے عوام پر قرض ہوتا ہے۔ شام پڑتے ہی کلین اپ آپریشن تمام ہوا۔ دشمن اپنے ارادوں کے ساتھ خاک ہوا۔ ان کی باقیات نشانِ عبرت بننے لگیں۔ دنیا کو درست خبر ملنے لگی کہ دہشتگرد ناکام ہوئے، وطن کا دفاع کرنے والے سرفراز ہوئے۔ دشمن کی ناپاک سازش ناکام ہوئی۔ ارضِ پاکستان کے محافظ سرخرو ہوئے۔
وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی جوانوں کا حوصلہ بڑھانے نکلے۔ ان کی شجاعت کی داد دینے ان کے پاس گئے۔ ان کو بتانے گئے کہ ہم تمہارے قرض دار ہیں۔ ہم تمہارے حوصلوں کے احسان مند ہیں۔ ہم تمہاری شجاعت کے گواہ ہیں اور تمہارے قدموں کی خاک ہیں۔ یہ کہتے ہوئے وزیر اعلی بلوچستان سرفراز بگٹی آبدیدہ ہو گئے۔ آنسو ان کی آنکھوں سے ٹپکنے لگے۔ یہ دکھ کے آنسو نہیں تھے۔ یہ فخر اور انبساط کے آنسو تھے۔ یہ حوصلے اور ہمت کی داد کے آنسو تھے۔ یہ مناظر دیکھ کر یوں لگا جیسے صرف وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کی آنکھوں میں آنسو نہیں تھے بلکہ پوری قوم کی آنکھوں میں تشکر کے آنسو۔ یہ آنسو ان جوانوں کی دلیری کا خراج۔ یہ آنسو ان بہادروں کی عظمت کے گواہ۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
عمار مسعود کالم نگار، سیاسی تجزیہ کار، افسانہ نگار اور صحافی۔ کبھی کبھی ملنے پر اچھے آدمی ہیں۔ جمہوریت ان کا محبوب موضوع ہے۔ عوامی مسائل پر گہری نظر اور لہجے میں جدت اور ندرت ہے۔ مزاج میں مزاح اتنا ہے کہ خود کو سنجیدہ نہیں لیتے۔ تحریر اور لہجے میں بلا کی کاٹ ہے مگر دوست اچھے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کی آنکھوں کے آنسو ہوتا ہے
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز