ہر سال نیوزی لینڈ کی آبادی سے زیادہ لوگ پیدا کررہے ہیں، آبادی پر کنٹرول ناگزیر ہے، مصطفیٰ کمال
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
وفاقی وزیر برائے صحت مصطفیٰ کمال نے ملک کی آبادی میں تیزی سے اضافے اور صحت کی سہولیات کے فقدان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اسلام آباد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بچوں کو 13 خطرناک بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ٹیکے لگائے جاتے ہیں جن میں پولیو بھی شامل ہے، مگر بدقسمتی سے اس حوالے سے اب بھی سنجیدگی کا فقدان ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان کی آبادی میں اس سال کتنا اضافہ ہوا؟
انہوں نے آبادی میں تیزی سے اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘دنیا میں شرحِ پیدائش 2 فیصد ہونی چاہیے، اس سے زیادہ ہو تو ترقی ممکن نہیں رہتی، جبکہ پاکستان میں یہ شرح 3.
سید مصطفیٰ کمال نے زچگی کے دوران اموات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ‘پاکستان میں ہر 10 ہزار حمل کے کیسز میں 400 مائیں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں، جبکہ دنیا میں یہ شرح ایک فیصد سے بھی کم ہے’۔ انہوں نے بتایا کہ ‘ہر سال ملک میں تقریباً 10 ہزار خواتین حمل یا زچگی کے دوران انتقال کر جاتی ہیں، جو ایک انتہائی تشویشناک صورتحال ہے’۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ‘ہم ابھی تک صرف بیمار افراد کا علاج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر اس بات پر توجہ نہیں دی جا رہی کہ لوگ بیمار ہی نہ ہوں’۔ ان کے مطابق حقیقی صحت کا تصور بیماریوں سے بچاؤ، آگاہی اور احتیاطی تدابیر سے جڑا ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پنجاب اسمبلی: اسموگ اور موسمی بیماریوں کے تدارک سے متعلق قرارداد منظور
انہوں نے کہا: ‘صحت کا شعبہ محض نوکری نہیں بلکہ ایک خدمت اور مشن ہے، مریض سے اچھا برتاؤ، نرمی اور احترام کسی خرچ کے بغیر صحت یابی پر گہرا اثر ڈالتا ہے’۔
سید مصطفیٰ کمال نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ پاکستان میں تقریباً 68 فیصد بیماریاں آلودہ پانی کے باعث پیدا ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صاف پینے کے پانی کی فراہمی، عوامی شعور اور اجتماعی کوششوں کے بغیر بیماریوں کی روک تھام ممکن نہیں۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ حکومت صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لیے اقدامات کر رہی ہے، تاہم ‘عوامی تعاون کے بغیر صحت مند پاکستان کا خواب پورا نہیں ہو سکتا’۔ انہوں نے صحت کو ایک عظیم نعمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے بغیر انسان نہ اپنی ذمہ داریاں نبھا سکتا ہے اور نہ ہی زندگی مؤثر انداز میں گزار سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
Pakistan Population پاکستان کی آبادی مصطفٰی کمال
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان کی آبادی مصطف ی کمال پاکستان میں کی آبادی انہوں نے کے بغیر نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کیلئےحاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سٹاک مارکیٹ میں مندی، انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا
دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔
سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔
دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔
ٹرمپ کو بغیر سوچے سمجھے جارحیت کی قیمت چکانا پڑے گی: عباس عراقچی
حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت کا اعلان
وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔