Jasarat News:
2026-07-24@01:55:36 GMT

دھاگے ہی بیچیں

اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

وزیراعظم شہباز شریف کا صنعت کاروں؍ برآمد کنندگان کے لیے مراعات پیکیج کا سن کر مجھے دو دن پہلے سینیٹ کی فارن آفس کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس یاد آیا جہاں باقی ایشوز کے علاوہ تجارت اور برآمدات بڑھانے پر بھی بات ہورہی تھی۔ فارن سیکرٹری آمنہ بلوچ اور ان کی ٹیم بریفنگ دے رہی تھی۔ برسوں سے یہی ایجنڈا اور گفتگو ہے۔ نہ ایشوز بدلے نہ ایجنڈے‘ نہ ان پر اٹھنے والے سوالات اور نہ ہی جوابات۔ مجھے تو اب حیرانی نہیں ہوتی۔ اسمبلی میں وقفہ ٔ سوالات میں یہ بات دس سال پہلے سنی تھی کہ پاکستان اور چین کے درمیان بہت بڑا تجارتی گیپ ہے۔ پاکستان چند سو ملین ڈالر کی اشیا چین کو بھیجتا ہے جبکہ چین پاکستان کو بیس ارب ڈالر کی چیزیں بیچ رہا ہے۔ اب پتا چلا ہم دو ارب ڈالر تک اپنی برآمدات لے گئے ہیں۔ اب بھی اٹھارہ ارب ڈالر کا گیپ ہے۔ اس پر بحث ہو رہی تھی کہ یہ گیپ کیسے پورا کیا جائے۔ اس ملک میں اٹھارہ ارب ڈالر بڑا گیپ ہے جس میں برآمدات اور ترسیلاتِ زر ملا کر تقریباً ساٹھ ارب ڈالر اکائونٹ میں ہوں اور سالانہ 80 ارب ڈالر سے زیادہ درآمدات ہو رہی ہوں۔ بیس ارب ڈالر کا گیپ پورا کرنے کے لیے آپ سعودی عرب‘ چین‘ متحدہ عرب امارت یا آئی ایم ایف سے چار سے پانچ فی صد مارک پر قرض ہی لیں گے۔

اصل سوال مگر یہ ہے کہ آپ چین کو کیا بیچیں گے تاکہ آپ کا ٹریڈ بیلنس بہتر ہو۔ وہ چین جو اس وقت عالمی مارکیٹ پر یورپ‘ انڈیا اور امریکا تک کو برآمدی شعبے میں ٹکر دے رہا ہے۔ ابھی برطانوی وزیراعظم چین کے دورے پر ہیں جس پر صدر ٹرمپ کافی غصے میں ہیں۔ صدر ٹرمپ کا غصہ چین کے کام آرہا ہے۔ پہلے بھارتی وزیراعظم مودی چین کی پاکستان کو جنگ میں حمایت بھلا کر چین جا پہنچے تاکہ وہ امریکی ٹیرف سے ہونے والے نقصان کی تلافی کا راستہ ڈھونڈ سکیں۔ اب برطانوی وزیراعظم وہاں جا پہنچے ہیں۔ برطانیہ کے بعد یورپی ممالک کے سربراہان کی وزٹ کی خبریں بھی آرہی ہیں۔ سوال وہی ہے جو سینیٹر انوشہ رحمن نے اجلاس میں اٹھایا تھا کہ چین سے ہماری ستر سال پرانی‘ پہاڑوں سے اونچی اور سمندروں سے گہری دوستی ہے لیکن ہم اس دوستی اور تعلق کا کیا فائدہ اٹھا سکے ہیں کہ آج ہمارا ٹریڈ گیپ اٹھارہ ارب ڈالر کا ہے؟ پھر انکشاف ہوا کہ اتنے برسوں کی دوستی کے باوجود نہ بیجنگ میں پاکستانی تاجروں کا چیمبر آف کامرس ہے‘ نہ ہی چین کے تاجروں کا پاکستان میں کوئی چیمبر ہے۔ قصور چین کا ہے یا ہمارے تاجروں اور بیوروکریسی کا‘ جو ان معاملات کو دیکھ رہی ہے؟ پھر وہی بات جو ملک امریکا‘ انڈیا اور یورپ تک کو اپنی اشیا کی ڈیمانڈ اور سپلائی پر مات دے رہا ہے‘ آپ اسے کیا بیچیں گے؟ آپ کے پاس بیچنے کو ہے کیا؟ ہمارے صدر سے وزیراعظم تک تقریباً ہر چند ماہ بعد چین پہنچے ہوتے ہیں‘ وزیر اور اب تو بیوروکریٹس بھی چین کے ویکلی ٹرپ کرتے ہیں۔ برسوں سے سن رہے ہیں کہ چین سے سیکھ رہے ہیں۔ گیم چینجر منصوبے لارہے ہیں۔ یہ گیم چینجر منصوبے لائے کہ چین نے 2014ء میں اپنے ہاں بڑھتی آلودگی سے تنگ آکر جو کوئلہ پلانٹس بند کر دیے‘ ہمارے دانشمند حکمران وہ پلانٹس خرید کر ساہیوال لے آئے جہاں اب ڈالروں میں درآمدی کوئلہ لایا جاتا ہے۔ یہ پلانٹ بھی شریف خاندان کا ہی ہے۔ ایک اور پلانٹ سیف الرحمن نے‘ جو کبھی شریف خاندان کے سمدھی تھے‘ گدو میں لگایا۔ ان سب کو جو ٹیرف دیا گیا اور جس طرح دلوایا گیا‘ اس کی تفصیل آپ وزیر برائے نجکاری محمد علی کی پاور سیکٹر پر لکھی گئی رپورٹ میں پڑھ لیں کہ کیسے لوٹ مار کی نئی داستانیں رقم کی گئیں۔

شریف برادرز کا پرانا طریقہ کار ہے کہ جہاں بڑی وارداتیں کرنی ہوں تو وہ اس محکمے کا چارج اضافی طور پر ایک جونیئر افسر کو دیتے ہیں‘ جسے یہ لالچ ہوتی ہے کہ اگر میں امیدوں پر پورا اترا تو یہ چارج ترقی دے کر مجھے مستقل مل جائے گا۔ ان کوئلہ پلانٹس کو مرضی کا ٹیرف دلوانے کی ذمے داری دو ڈی ایم جی افسران کو سونپی گئی۔ دونوں بعد میں انعام کے طور پر نگران وزیر بنائے گئے۔ بابوز اور سیاستدانوں کے گٹھ جوڑ کے بغیر اس ملک میں کرپشن نہیں ہو سکتی۔ پاور پلانٹس کو ڈالر ریٹس؍ کپیسٹی چارجز کے نام پر جو ڈیلز دی گئی وہ ملک کو گھٹنوں پر لے آئی ہیں۔ حکومت کے پاس سنہرا موقع تھا کہ سولر ٹیکنالوجی کو عام کرتی تاکہ نہ صرف گیس فیول پر بننے والی مہنگی بجلی سے جان چھوٹتی بلکہ جو اس وقت انرجی امپورٹ پر اندازاً 20 ارب ڈالر سالانہ خرچ ہوتے ہیں‘ اس کے بل میں بھی کمی ہوتی۔ آپ کا ٹریڈ گیپ کم ہوتا اور ڈالروں میں قرض نہ لینا پڑتے۔ وہی قرض جو بقول وزیر خزانہ اورنگزیب ’’اگر‘‘ صحیح استعمال ہو تو اس کا بڑا فائدہ ہے۔ وزیر خزانہ کی بات پر غور فرمائیں کہ ’’اگر‘‘ ٹھیک استعمال ہو تو بڑا فائدہ ہے۔ مطلب قرض صحیح استعمال نہیں ہو رہا یا شاید بقول خواجہ آصف اس قرض سے پاکستانی بیوروکریٹ پرتگال میں جائدادیں خرید رہے ہیں۔ الٹا اب تو سولر پر پابندیاں لگ رہی ہیں کیونکہ سیاسی حکمرانوں نے بابوز کے ساتھ مل کر اپنے بجلی گھر لگا رکھے ہیں جن کا ٹیرف ڈالروں میں ہے اور کیپسٹی چارجز بھی دینے ہیں۔ ملک کا سرکاری بابو اور حکمران کتنا بے رحم ہے کہ ملک میں بجلی کی کل ضرورت یا کھپت 26 ہزار میگا واٹ ہے اور انہوں نے جو بجلی گھر لگائے ہیں‘ وہ 41 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اندازہ کریں کہ پندرہ ہزار میگا واٹ زیادہ کے بجلی گھر لگا کر انہیں ڈالروں میں ٹیرف بھی دیا اور معاہدہ بھی کیا کہ اگر ہم نے بجلی نہ خریدی تو بھی آپ کو اربوں ملتے رہیں گے۔

کسی بیوروکریٹ کو شرم نہ آئی‘ حکمرانوں کو تو آنی ہی نہ تھی کہ ان کے اپنے بچے وہ پلانٹس لگا رہے تھے کہ پندرہ ہزار میگا واٹ اضافی بجلی ہم کیا کریں گے۔ صرف عوام کی کھال اُتاریں گے۔ عوام بھاگ کر سولر کی طرف گئے تو انہی بابوز اور سیاسی حکمرانوں اور وزیروں کو فکر پڑ گئی کہ اگر سب سولر کی طرف چل پڑے تو پھر 41 ہزار میگا واٹ کی ادائیگیاں ان کے بچوں اور فرنٹ مینوں کو کون کرے گا‘ یوں ساتھ ہی سولر پر پابندیاں اور شرائط سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ اس وقت ملک میں اندازاً دس ہزار میگا واٹ بجلی سولر سے پیدا ہورہی ہے۔ یوں صرف پندرہ ہزار میگا واٹ ان بجلی گھروں سے آرہی ہے یا تربیلا ڈیم اور نیلم جہلم سے۔ اب آپ پچیس ہزار میگا واٹ کی قیمت ادا کریں گے جو آپ استعمال بھی نہیں کررہے۔ میں موجود تھا جب سابق وفاقی سیکرٹری واٹر اینڈ پاور نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا تھا کہ ہم نے ہاتھ جوڑ کرچھے بجلی گھروں کو کہا کہ آپ بجلی پیدا نہ کریں۔ پلانٹ بند رکھیں کیونکہ آپ کے ساتھ معاہدے کے تحت ہمیں فیول بھی خرید کر دینا ہے۔ اب وہ چھے پلانٹس بند ہیں اور مالکان گھر بیٹھے ہر ماہ اربوں لے رہے ہیں‘ بغیر ایک یونٹ بنائے۔ یہ تھے وہ معاہدے جو ہمارے تجربہ کار سیاستدانوں نے کیے جن کی ایک پارٹی 1971ء سے اقتدار میں تو دوسری پارٹی کے لیڈر 1984ء سے پاور میں آئے اور آج تک وہ اقتدار میں ہیں۔ باقی آپ تسلی رکھیں‘ پاکستانی بزنس مین مراعات لے کر بھی خوش اور مطمئن نہیں ہوں گے۔ یہ ہر جنرل کے پاس جاتے ہیں۔ وہاں رونا دھونا کرتے ہیں‘ مراعات لے کر لوٹتے ہیں‘ اور چند ماہ بعد پھر وہی رونا دھونا۔ جو برآمد کنندگان ڈالر کو 2018ء میں 110 سے 280 روپے تک لے جا کر بھی برآمد ڈبل نہیں کر سکے‘ آپ کا کیا خیال ہے وہ بجلی کی قیمت چار روپے فی یونٹ کم ہونے سے برآمدات بڑھا لیں گے؟ ان سب کا کچا چٹھا پانامہ لیکس میں کھلا تھا کہ ایکسپورٹ کے سارے ڈالر واپس لانے کے بجائے بیرونِ ملک جائدادیں خرید رہے ہیں۔ چند ماہ بعد پھر کشکول لے کر رو رہے ہوں گے۔ وہی فارن آفس سینیٹ اجلاس والی بات کہ ان کے پاس دھاگے کے علاوہ دنیا کو بیچنے کے لیے ہے ہی کیا؟ آپ ان کو ہزاروں مراعات دے دیں بیچنے انہوں نے دھاگے ہی ہیں۔ (بشکریہ: روز نامہ دنیا)

رؤف کلاسرا سیف اللہ

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ہزار میگا واٹ ڈالروں میں ارب ڈالر بجلی گھر برا مدات نہیں ہو ملک میں کے پاس چین کے رہا ہے تھا کہ کہ چین

پڑھیں:

سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا

کراچی: پاکستان میں سونے کی قیمت میں اضافہ مسلسل دوسرے روز بھی جاری رہا، جس کے بعد مقامی صرافہ بازاروں میں فی تولہ سونا 4 ہزار 600 روپے مہنگا ہو گیا۔

آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق اضافے کے بعد 24 قیراط فی تولہ سونے کی نئی قیمت 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے مقرر کی گئی ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 3 ہزار 944 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 3 لاکھ 71 ہزار 944 روپے ہو گئی۔

دوسری جانب چاندی کی قیمت میں بھی معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ فی تولہ چاندی 7 روپے اضافے کے بعد 6 ہزار 403 روپے جبکہ 10 گرام چاندی 6 روپے مہنگی ہو کر 5 ہزار 489 روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی سونے کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا تھا، جب فی تولہ سونا 4 ہزار 700 روپے مہنگا ہو کر 4 لاکھ 29 ہزار 236 روپے تک پہنچ گیا تھا، جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت 4 ہزار 29 روپے اضافے کے بعد 3 لاکھ 68 ہزار روپے ہوگئی تھی۔

عالمی مارکیٹ میں بھی قیمتی دھاتوں کے نرخ بڑھنے کا رجحان برقرار ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 46 ڈالر اضافے کے بعد 4 ہزار 114 ڈالر ریکارڈ کی گئی، جبکہ چاندی کی عالمی قیمت 0.07 ڈالر اضافے سے 59.24 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں اضافے، امریکی ڈالر کی نقل و حرکت، شرح سود اور جغرافیائی کشیدگی جیسے عوامل مقامی مارکیٹ پر بھی براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں، جس کے باعث پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی