فیلڈ مارشل سے لیبیا کے کمانڈر انچیف اور وزیراعظم کی ملاقات، افواج میں تعاون پر زور
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
اسلام آباد (خبر نگار خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ) لیبیا کی مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف فیلڈ مارشل خلیفہ ابو القاسم حفتر اور لیبیا کے وزیر اعظم ڈاکٹر اسامہ سعد حماد نے جی ایچ کیو میں آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ملاقات کے دوران فریقین نے باہمی دلچسپی کے امور خاص طور پر اپنے اپنے علاقوں میں سکیورٹی کے حالات پر تبادلہ خیال اور پیشہ ورانہ تعاون پر زور دیا۔ اس موقع پر پاک فوج اور لیبیا کی افواج کے درمیان مسلسل رابطے اور تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔ ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے مہمانوں کا خیرمقدم کیا اور پاکستان کی جانب سے لیبیا کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کرنے کے عزم کو دہرایا۔ انہوں نے لیبیا میں امن، استحکام اور ادارہ جاتی ترقی کی حمایت پر بھی زور دیا۔ ملاقات دوستانہ اور تعمیری ماحول میں ہوئی جو پاکستان اور لیبیا کے طویل المدتی دوستانہ تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔ قبل ازیں نور خان ایئر بیس پہنچنے پر فیلڈ مارشل خلیفہ ابو القاسم حفتر کا استقبال فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کیا۔ اس موقع پر مہمانوں نے شہداء کو خراج عقیدت بھی پیش کیا اور جی ایچ کیو میں واقع شہداء کی یادگار پر پھولوں کی چادر بھی چڑھائی۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اسلامک ملٹری کائونٹر ٹیررزم کولیشن کے سیکرٹری جنرل میجر جنرل محمد بن سعید المغیدی نے ملاقات کی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سکیورٹی کی صورتحال اور دہشتگردی کے خلاف تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا ۔ فریقین نے دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے مشترکہ حکمت عملی کے عزم کا اعادہ اور انٹیلی جنس تبادلے اور رکن ممالک کی استعداد بڑھانے کے اقدامات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اسلامی دنیا میں استحکام کے فروغ اور انسداد دہشتگردی اقدامات میں آئی ایم سی ٹی سی کے کردار کی تعریف کی۔ میجر جنرل محمد بن سعید نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں اور خدمات کو تسلیم کیا اور پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کی۔ انہوں نے خطے میں امن و استحکام اور سکیورٹی کیلئے ادارہ جاتی تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم پر زور دیا۔ آئی ایم سی ٹی سی کا وفد دو سے 6 فروری تک پاکستان کے دورے پر ہے۔ وفد نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی میں انتہا پسندی سے متعلق ایک ہفتے کی تربیت کا انعقاد کرے گا۔ نائب کمانڈر انچیف لیبیا لیفٹیننٹ جنرل صدام خلیفہ حفتر نے ایئر ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا اور سربراہ پاک فضائیہ ائر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سکیورٹی صورتحال، دو طرفہ عسکری تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ائر چیف نے پاک فضائیہ کی آپریشنل تیاری اور جدیدیت کے اقدامات کو اجاگر اور لیبیا کی فضائیہ کے ساتھ پیشہ ورانہ تعاون مزید بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ظہیر احمد بابر سدھو نے لیبیا فضائیہ کی صلاحیتوں میں اضافے کیلئے پاک فضائیہ کی بھرپور معاونت کی یقین دہانی کرائی۔ لیفٹیننٹ جنرل صدام حسین حفتر نے اپنے اور وفد کے پرتپاک استقبال پر سربراہ پاک فضائیہ کا شکریہ ادا کیا اور پاک فضائیہ کے افسروں، جوانوں کی اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔ وفد نے پاک فضائیہ کے فضائی و زمینی عملے کے آپریشنل تجربے سے استفادہ کرنے میں گہری دلچسپی، مشترکہ تربیتی اقدامات بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پیشہ ورانہ فیلڈ مارشل پاک فضائیہ اور لیبیا لیبیا کے زور دیا کیا اور کے عزم
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
روم: پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔