لفظ ’’پاکستان‘‘ کے خالق چودھری رحمت علی کی 75ویں برسی آج منائی جا رہی ہے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
ویب ڈیسک: لفظ پاکستان کے خالق چودھری رحمت علی کی 75 ویں برسی آج منائی جارہی ہے۔
چودھری رحمت علی نے اپنے قول و فعل، قانون اور قلم کے میدان میں آزادی کا نعرہ بلند کیا اور اس حوالے سے ہر فورم پر متحرک رہے، چودھری رحمت علی 16 نومبر 1897ء کو مشرقی پنجاب کے ضلع ہوشیار پور میں پیدا ہوئے، 1915ء میں اجلاس بزمِ شبلی کے دوران چودھری رحمت علی نے ہی پہلی بار ہندوستان کے شمالی علاقوں کو مسلم ریاست میں تبدیل کرنے کی تجویز پیش کی۔
ورلڈ کپ میچ بائیکاٹ، اگر بھارت اور پاکستان سپر 12، سیمی فائنل اور فائنل میں ٹاکرا ہوا تو پھر کیا ہوگا ؟
1918ء میں اسلامیہ کالج لاہور سے بی اے کرنے کے بعد اخبار "کشمیر گزٹ" سے بطور اسسٹنٹ ایڈیٹر منسلک ہوگئے، 1928ء میں ایچی سن کالج میں لیکچرار مقرر ہوئے، تاہم کچھ عرصہ بعد انگلستان تشریف لے گئے اور ڈبلن یونیورسٹی کیمبرج سے سیاسیات اور قانون میں اعلیٰ ڈگری حاصل کی۔
28 جنوری 1933ء کو دوسری گول میز کا نفرنس کے موقع پر چودھری رحمت علی نے مشہور کتابچہ ’’ابھی یا کبھی نہیں‘‘ شائع کیا، اس کتابچے میں بھی برصغیر کے مسلمانوں کیلئے علیحدہ وطن کا تصور پیش کیا گیا تھا۔
موسم تبدیل ؛ سکولوں کے اوقات کار بھی تبدیل ہوگئے
کہا جاتا ہے کہ اسی روز ہندوستان میں بسنے والے مسلمان لفظ ’’پاکستان‘‘ سے آشنا ہوئے، برطانیہ اور ہندوستان کے طول و عرض میں اس کتابچے کا بہت چرچا ہوا اور پھر 14 اگست 1947ء کو مسلمانانِ برصغیر کو ان کے خواب کی تعبیر مل گئی۔
3 فروری 1951ء میں نقاشِ پاکستان چودھری رحمت علی نمونیا کے باعث خالقِ حقیقی سے جا ملے اور انگلستان کے شہر کیمبرج کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔
ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کا جماعت دہم کے طلبہ کیلئے اہم اعلان
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: چودھری رحمت علی
پڑھیں:
لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔
ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔