مشرق وسطیٰ: جنگ ہوئی تو…! اردن نے ایران کو بڑی یقین دہانی کروادی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
مشرق وسطیٰ میں جنگ کے بادلوں کے درمیان اردن نے ایران کو بڑی یقین دہانی کروا دی۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اردن کے وزیرخارجہ ایمن الصفادی نے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے یقین دلایا کہ اپنی سرزمین یا فضائی حدود ایران کیخلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
ایمن الصفادی نے کہا کہ کسی علاقائی تنازع کامیدانِ جنگ نہیں بنیں گے اور کسی فریق کو اپنے شہریوں کی سلامتی اور خودمختاری سے کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے اردن کے اصولی مؤقف کو سراہتے ہوئے مؤقف کو خطے کے امن کیلئے خوش آئند قرار دیا۔
چند روز قبل آذربائیجان کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔
آذربائیجان کی وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق، آذربائیجان کے وزیر خارجہ جیہون بیراموف نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ فون پر بات کی۔
ٹیلیفونک رابطے میں وزیر خارجہ جیہون بیراموف نے کہا کہ خطے میں حالیہ کشیدگی میں اضافہ تشویش کا باعث ہے، انہوں نے کہا کہ آذربائیجان نے مسلسل تمام فریقوں کو ایسے اقدامات اور بیان بازی سے باز رہنے کی ضرورت پر زور دیا ہے جو ایران اور اس کے ارد گرد کے علاقے میں عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں۔
انہوں نے بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے مطابق صرف اور صرف مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے مسائل کے حل کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل نے ایران کے وزیر
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔