سندھ ہائیکورٹ‘کاروباری تنازع پر اغوا برائے تاوان کیس‘ آئی جی سندھ طلب
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260203-08-19
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائیکورٹ میںکاروباری تنازع پر اغوا برائے تاوان کے مقدمے کا اندراج۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر آئی جی سندھ کو طلب کر لیا۔ سندھ ہائیکورٹ میں کاروباری تنازع پر اغوا برائے تاوان کے مقدمے کا اندراج سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی، جہاں عدالت نے آئی جی سندھ کی جانب سے رپورٹ نا کرنے پر اظہار برہمی کیا۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر آئی جی سندھ کو ایف آئی آر لکھنے والے اے ایس آئی رشید کو بھی ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ مدعی مقدمہ اور ملزم کے درمیان 31 کروڑ لین دین کا تنازع ہے، 22 جنوری کو گزری پولیس نے اغوا کا مقدمہ درج کیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ فریقین نے ایک دوسرے کے خلاف چیک باؤنس کے مقدمات درج کرائے ہوئے ہیں، فریقین کے درمیان کاروباری تنازع پہلے سے چل رہا تھا تو اغوا کا مقدمہ کیوں درج کیا گیا؟، ملزم کا سی آر او کیوں نہیں کرایا گیا؟، آپ جانتے تھے کہ سی آر او کرایا تو اغوا کا مقدمہ کمزور ہوگا، اگر یہ ٹرینڈ بن گیا تو پولیس کے خلاف بھی مقدمہ درج ہو گا، پولیس بھی تو 3، 4 دن رکھنے کے بعد گرفتاری شو کرتی ہے، پولیس کے خلاف بھی اغوا کا مقدمہ درج ہونا چاہیے؟، آئی جی سندھ کو انکوائری کا حکم دیا تھا، کچھ بھی نہیں کیا گیا، آپ جتنی چالاکیاں کرلیں، عدالت سے چھپ نہیں سکتے، اسی وجہ سے آپ کے مقدمات میں سزائیں نہیں ہوتی ہیں، سچی ایف آئی آر داخل کریں گے تو سزا بھی ہوگی۔ عدالت نے درخواست کی سماعت 11 فروری تک ملتوی کر دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اغوا کا مقدمہ عدالت نے
پڑھیں:
گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
گھوٹکی میں ڈہرکی سے سابق رکن صوبائی اسمبلی شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا گیا۔
ایس ایس پی گھوٹکی انور کھیتران کا کہنا ہے کہ جہانگیر شر کو نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان نے اغوا کیا تھا۔ واقعے کی اطلاع پر پولیس اور قبیلے لوگوں نے اغوا کاروں کا تعاقب کیا۔
انہوں نے بتایا کہ بچے کو پولیس نے مقابلے کے بعد بازیاب کروا لیا تاہم اس دوران ملزمان فرار ہوگئے۔
ایس ایس پی گھوٹی کا کہنا تھا کہ اغواکاروں کی نشاندہی ہوگئی ہے، ملزمان کا تعلق بھی شر قبیلے سے ہے۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے تعاقب جاری ہے۔