کاروباری تنازعہ پر اغوا برائے تاوان کے مقدمے کے اندراج کیخلاف آئی جی سندھ طلب
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے کاروباری تنازعہ پر اغوا برائے تاوان کے مقدمے کے اندراج کیخلاف آئندہ سماعت پر آئی جی سندھ کو طلب کرلیا۔
جسٹس عدنان الکریم میمن اور جسٹس ذولفقار علی سانگی پر مشتمل آئینی بینچ کے روبرو کاروباری تنازعہ پر اغوا برائے تاوان کے مقدمے کے اندراج کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔
درخواستگزار کے وکیل نے موقف دیا کہ مدعی مقدمہ دانش متین اور ملزم فیصل حمید کے درمیان 31 کروڑ لین دین کا تنازعہ ہے۔ 22 جنوری کو گزری پولیس نے اغوا کا مقدمہ درج کیا۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ فریقین نے ایک دوسرے کیخلاف چیک باؤنس کے مقدمات درج کروائے ہوئے ہیں۔ عدالت نے آبزرویشن دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آر میں تو اغواء برائے تاوان کا الزام شامل نہیں۔
پولیس نے اغواء برائے تاوان کا الزام کیسے شامل کیا، اس میں تو موت کی سزا ہوتی ہے۔ آئی او اے وی سی سی نے کہا کہ ضمنی کے تحت اغواء برائے تاوان کا الزام شامل کیا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ فریقین کے درمیان کاروباری تنازع پہلے سے چل رہا تھا تو اغوا کا مقدمہ کیوں درج کیا گیا؟ جسٹس ذوالفقار علی سانگی نے ریمارکس دیئے کہ ملزم کا سی آر او کیوں نہیں کروایا گیا؟
آپ جانتے تھے کہ سی آر او کروایا تو اغوا کا مقدمہ کمزور ہوگا۔ جسٹس عدنان الکریم میمن نے ریمارکس دیئے کہ اگر یہ ٹرینڈ بن گیا تو پولیس کیخلاف بھی مقدمہ درج ہوگا۔ پولیس بھی تو 3، 4 دن رکھنے کے بعد گرفتاری شو کرتی ہے۔
پولیس کیخلاف بھی اغوا کا مقدمہ درج ہونا چاہیئے؟ آئی جی سندھ کو انکوائری کا حکم دیا تھا، کچھ بھی نہیں کیا گیا۔ آپ جتنی چالاکیاں کرلیں عدالت سے چھپ نہیں سکتے۔ اسی وجہ سے آپ کے مقدمات میں سزائیں نہیں ہوتی ہیں۔ سچی ایف آئی آر داخل کریں گے تو سزا بھی ہوگی۔
عدالت نے آئی جی سندھ کی جانب سے رپورٹ نا کرنے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر آئی جی سندھ کو طلب کرلیا۔
عدالت نے ایف آئی آر لکھنے والے اے ایس آئی رشید کو بھی ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے سماعت 11 فروری تک ملتوی کردی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اغوا کا مقدمہ برائے تاوان
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔