مودی کے ناک رگڑنے کے بعد، ٹرمپ نے انڈیا کے لیے ٹیرف 18 فیصد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
واشنگٹن میں پیر کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا نے بھارت کی مصنوعات پر عائد ٹیرِف کو 25٪ سے کم کرکے 18٪ کر دیا ہے۔
اس فیصلہ کا تعلق ایک وسیع دوطرفہ تجارتی معاہدے سے ہے جس میں بھارت نے روس سے تیل خریدنے کو روکنے کا عہد کیا ہے، جبکہ وہ امریکا سے بڑے پیمانے پر اشیاء خریدنے پر رضامند ہوا ہے۔
گویا ٹیرف میں یہ کمی تب کی گئی جب مودی نے زمین پر ناک سے لکیریں نکالیں، روس سے تیل نہ خریدنے کا فیصلہ کیا اور امریکا سے بڑے پیمانے پر اشیا خریدنے کا وعدہ کیا۔
یہ معاہدہ ان مہینوں پر محیط کشیدہ مذاکرات کے بعد سامنے آیا ہے، جن میں واشنگٹن نے نئی دہلی پر سخت اقتصادی دباؤ ڈالا تھا۔
ٹیرِف میں کمی کا تزویراتی تبادلہ: روسی تیل، امریکی خریداری اور ٹیکس میں نرمینئے سمجھوتے کے تحت امریکی ٹیرِف بھارت کے لیے 18٪ تک نیچے آئے گی، جو پہلے مجموعی طور پر تقریباً 50٪ تھی (25٪ عمومی + 25٪ روسی تیل پر اضافی)۔
روس سے تیل کی خریداری ختم کرنے یا کم کرنے کا وعدہ واشنگٹن کی شرط بنائی گئی۔
بھارت نے امریکی درآمدات پر محصولات گھٹانے اور امریکا سے تقریباً $500 ارب مال خریدنے پر اتفاق ظاہر کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق، 18٪ کی سطح دیگر ایشیائی مقابل ممالک کے مقابلے میں فائدہ مند تو ہے، مگر اسے کچھ مبصر متاثرین کے مطالبات کے سامنے ’پسپائی‘ یا ’سَرْجَر‘ قرار دیتے ہیں کیونکہ بھارت نے اپنی توانائی پالیسی پر بڑی تبدیلی قبول کی ہے۔
سفارتی اور سیاسی تناظریہ معاملہ صرف تجارت تک محدود نہیں رہا۔ بھارت نے ایران کے ساتھ چابہار بندرگاہ کی فنڈنگ کو 2026 کے بجٹ میں برقرار نہ رکھنے کا فیصلہ کیا جسے کچھ ناقدین نے امریکی دباؤ کے تحت حکمت عملی کی تبدیلی بتایا ہے۔
حزبِ اختلاف کے کچھ رہنماؤں نے اس فیصلے کو ’سَرْجَر‘ یا ’قومی مفادات کی قربانی‘ قرار دیا ہے، حالانکہ حکومت نے تاحال اس کے بارے میں حتمی موقف نہیں دیا۔
توانائی اور تجارتی اثرات: مواقع اور خدشاتروس سے سستے تیل کی خریداری بند کرنا بھارت کے لیے اقتصادی طور پر مفید نہیں ہو سکتا کیونکہ روسی خام تیل کی قیمت عالمی معیار سے کم رہی ہے۔ نئے معاہدے کے تحت بھارت کو امریکی یا وینزویلا سے تیل خریدنا پڑ سکتا ہے، جس کی قیمتیں عام طور پر زیادہ ہیں۔
تجارتی حکمت عملیٹیرِف میں کمی بھارتی مصنوعات کا امریکی منڈی میں مزید داخلہ ممکن بنائیں گی لیکن اس طرح صنعتی تحفظ اور ’میڈ ان انڈیا‘ پالیسیوں پر سوالات کھڑے ہوتے ہیں کیونکہ بھارت کو اب امریکی مصنوعات پر محصولات صفر کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔
اب کیا؟ اگلے مراحلبھارت اور امریکا آئندہ ہفتوں میں مزید تکنیکی مذاکرات کریں گے تاکہ طے شدہ وعدوں کو عملی شکل دی جا سکے۔ روسی توانائی سپلائی چینلز میں تبدیلی بھارتی توانائی سیکٹر اور بین الاقوامی قیمتوں پر اثر ڈال سکتی ہے۔ چابہار جیسے علاقائی منصوبوں کی حکمت عملی کی حیثیت پر بھی بحث جاری ہے۔
سیاسی حلقوں میں معاہدہ پر مخالفانہ بیانات سامنے آئے ہیں جن میں کہا جا رہا ہے کہ بھارت نے بنیادی طور پر واشنگٹن کے مطالبات مان لیے اور اقتصادی و جغرافیائی پالیسیوں میں بڑی تبدیلی کی ہے جو بعض لوگوں کے نزدیک مضبوط مذاکرات نہیں بلکہ پسپائی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت نے سے تیل کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔