امریکا اور بھارت کے درمیان تجارتی معاہدہ طے پا گیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مودی اور ٹرمپ کا رابطہ، امریکا نے بھارت پر عائد ٹیرف پاکستان سے بھی کر دیا
نئی دہلی: امریکا اور بھارت کے درمیان تجارتی معاہدہ طے پا گیا، مودی اور ٹرمپ کا رابطہ، امریکا نے بھارت پر عائد ٹیرف پاکستان سے بھی کم کر دیا۔
بھارت اور امریکا کے درمیان اہم تجارتی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس حوالے سے بھارتی وزیر اعظم کا اہم پیغام سامنے آیا ہے۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا کہ آج میری اپنے دوست ڈونلڈ ٹرمپ سے خوشگوار گفتگو ہوئی۔
مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ امریکا نے بھارت پر عائد ٹیرف اب کم کر کے 18 فیصد کر دیا ہے۔ بھارت کے 140 کروڑ لوگ اس اقدام کےلیے امریکی صدر کےممنون ہیں۔
بھارت امریکی صدر کی امن کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
دوسری جانب امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ بھارت نے روس سے تیل کی خریداری روکنے پر اتفاق کیا ہے اور اب وہ بھارت کو امریکا اور ممکنہ طور پر وینیزویلا سے زیادہ تیل خریدنے کی اجازت دے گا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے 500 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی امریکی توانائی، ٹیکنالوجی، زرعی اور دیگر اشیا خریدنے پر بھی اتفاق کیا ہے جس سے امریکی برآمدات میں اضافہ متوقع ہے۔
بھارت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ امریکی اشیا پر اپنے ٹیرف اور غیر ٹیرف رکاوٹوں کو صفر تک کم کرے گا۔ معاہدے کے تحت امریکی حکومت بھی بھارت پر عائد جوابی ٹیرف کو 25 فیصد سے گھٹا کر 18 فیصد کردے گی۔
واضح رہے کہ کچھ ماہ قبل امریکی صدر نے بھارت پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے بھارت پر 25 فیصد ٹیرف عائد کر دیاتھا، جبکہ پاکستان پر بھارت کے مقابلے میں 19 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بھارت پر عائد نے بھارت پر بھارت کے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔