مودی نے گھٹنے ٹیک دیئے؛ روس سے پیٹرول لینا بند اور ٹرمپ سے تجارتی معاہدے پر مجبور
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور بھارت کے درمیان ایک اہم تجارتی معاہدے پر باہمی اتفاق ہوگیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے بتایا کہ بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدہ طے پا گیا ہے جو شراکت داری اور تجارتی تعاون کو مزید مستحکم کرے گا۔
معاہدے کے تحت امریکی حکومت بھارت پر عائد جوابی ٹیرف کو 25 فیصد سے گھٹا کر 18 فیصد کردے گی۔
جس کے بدلے میں بھارت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ امریکی اشیا پر اپنے ٹیرف اور غیر ٹیرف رکاوٹوں کو صفر تک کم کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ بھارت نے روس سے تیل کی خریداری روکنے پر اتفاق کیا ہے اور اب وہ بھارت کو امریکا اور ممکنہ طور پر وینیزویلا سے زیادہ تیل خریدنے کی اجازت دے گا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے 500 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی امریکی توانائی، ٹیکنالوجی، زرعی اور دیگر اشیا خریدنے پر بھی اتفاق کیا ہے جس سے امریکی برآمدات میں اضافہ متوقع ہے۔
یاد رہے کہ بھارت نے یوکرین جنگ کے تناظر میں روس پر عائد یورپی اور امریکی پابندیوں کے باوجود اُس سے سستے داموں تیل خریدنا بند نہیں کیا تھا۔
بار بار کی امریکی تنبیہ پر بھارت کا یہی مؤقف رہا ہے کہ امریکا خود بھی روس سے پیٹرول خریدتا ہے اور یہ بھارت کا داخلی معاملہ ہے۔
جس پر امریکی صدر ٹرمپ نے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ٹیرف میں اضافہ کرکے بھارت پر دباؤ برقرار رکھا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
روم: پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔