ایران اور امریکا کے جوہری مذاکرات رواں ہفتے شروع ہونے کے امکانات
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تہران:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو ڈیڈ لائن دینے اور بڑے فوجی حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان جوہری معاہدے کے لیے مذاکرات شروع کرنے کی اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے ہدایت جاری کی ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جوہری فائل پر بات چیت کے لیے مذاکرات کا آغاز کیا جائے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی صدر کی ہدایت پر مذاکرات کا عمل جلد شروع ہوگا، جسے ایران کے سرکاری اخبار ایران اور اصلاح پسند روزنامہ نے بھی شائع کیا ہے، ابھی تک مذاکرات کی تاریخ اور مقام کے بارے میں کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ مذاکرات کے لیے طریقہ کار اور فریم ورک تیار کیا جا رہا ہے، جسے آنے والے دنوں میں حتمی شکل دی جائے گی، کئی نقاط پر کام جاری ہے اور امید ہے کہ ڈپلومیسی کے اگلے مراحل جلد مکمل ہوں گے، مذاکرات کے مواد کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔
عالمی خبررساں ادارے کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے بھی بتایا کہ مذاکرات رواں ہفتے شروع ہونے کے امکانات ہیں۔ امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کی ملاقات کے لیے قطر، ترکی اور مصر انتظامات کو حتمی شکل دے رہے ہیں جو اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ ممالک ثالثی کا کردار ادا کریں گے۔
یہ پیشرفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ممکنہ معاہدے کی امید ظاہر کی تاکہ مشرق وسطیٰ میں فوجی کارروائی کو روکا جا سکے۔ صدر ٹرمپ نے پہلے ہی واضح کیا تھا کہ جوہری پروگرام پر ڈیل نہ ہونے کی صورت میں ایران کے پاس وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
اسرائیل کی جانب سے لبنان پر خون ریز حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان واشنگٹن میں مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں شروع ہونے والے مذاکرات جنگ بندی مذاکرات کا تسلسل اور چوتھا دور ہے۔
لبنان کی سرکاری خبرایجنسی نے بتایا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور واشنگٹن میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ہیڈکوارٹرز میں شروع ہوگئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مذاکرات کے لیے دونوں فریق کے نمائندے واشنگٹن پہنچے، جس کے بعد مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو لبنان پر حملوں کے حوالے سے ٹیلی فون پر سخت الفاظ کا استعمال کیا تھا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو پاگل قرار دیا اور کہا کہ ہر کوئی تم سے نفرت کرتا ہے، اسی وجہ سے لوگ اسرائیل سے بھی نفرت کرتے ہیں۔
دوسری جانب لبنان پر اسرائیل کے حملے جاری ہیں جہاں جنوبی لبنان کے بڑے شہروں میں سے ایک نباطیہ پر شدید بم باری کی گئی ہے۔