برطانیہ و یورپی یونین میں دفاعی تعاون پر نئے مذاکرات کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ وہ برسلز کے ساتھ برطانیہ کے تعلقات کو مزید آگے بڑھانا چاہتے ہیں، جبکہ حکومتی وزرا تعطل کا شکار مذاکرات بحال کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ برطانیہ اور یورپی یونین دفاعی شعبے میں قریبی تعاون کے لیے نئے سرے سے مذاکرات کے امکانات پر غور کر رہے ہیں۔ برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ وہ برسلز کے ساتھ برطانیہ کے تعلقات کو مزید آگے بڑھانا چاہتے ہیں، جبکہ حکومتی وزرا تعطل کا شکار مذاکرات بحال کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ یورپی یونین کے تجارتی کمشنر ماروش شیفچووچ آئندہ ہفتے لندن کا دورہ کریں گے، جہاں تجارت، توانائی اور ماہی گیری سے متعلق امور پر بات چیت متوقع ہے، تاہم سفارتی ذرائع کے مطابق برطانیہ کی خواہش ہے کہ دفاعی تعاون پر بھی جلد از جلد باضابطہ مذاکرات دوبارہ شروع کیے جائیں۔ واضح رہے کہ برطانیہ کی یورپی یونین کے 150 ارب یورو (تقریباً 130 ارب پاؤنڈ) کے دفاعی فنڈ سکیورٹی ایکشن فار یورپ (SAFE) میں شمولیت سے متعلق مذاکرات نومبر 2025ء میں ناکام ہو گئے تھے، اس وقت یہ مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ یورپی یونین نے اس پروگرام میں شمولیت کے لیے سخت مالی شرائط عائد کر رکھی تھیں۔ فرانس نے مذاکرات کی ناکامی کی ذمے داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے، تاہم سفارتی ذرائع کے مطابق پیرس اور بعض دیگر یورپی ممالک کے درمیان اختلافات خاص طور پر جرمنی کے ساتھ، اب بھی موجود ہیں۔ جرمن ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ برطانیہ کو SAFE پروگرام میں جلد از جلد شامل کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: یورپی یونین
پڑھیں:
گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ترک سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو نے ملاقات کی،جس میں پاک ترک تعلقات، باہمی تعاون اور دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔منگل کو گورنر آفس اسلام آباد سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور ترکیہ کے برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر گفتگو ہوئی اورخیبرپختونخوا اور ترکیہ کے درمیان اقتصادی روابط کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پرگورنر خیبرپختونخوانے کہا کہ پاک۔بھارت جنگ میں ترکیہ نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا،نئی نسل کو پاک ترک دوستی میں متحرک کرنا انتہائی ضروری ہے۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے تاجروں اور طلبہ کے ترکیہ دوروں کا سلسلہ شروع کیا جائے،دونوں ممالک کے ثقافتی اور ادبی وفود کے دورے بھی انتہائی ضروری ہیں، ایسے اقدامات سے ترکیہ اور پاکستان دوستی مزید مضبوط ہو گی۔گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ زراعت کے شعبہ میں بھی دونوں ممالک بالخصوص خیبرپختونخوا میں ترقی اور سرمایہ کاری کے وسیع امکانات ہیں۔ گورنر خیبرپختونخوا نے پشاور کو ترکیہ کے کسی بڑے شہر کے ساتھ سسٹر سٹی قرار دینے کی تجویز پیش کی۔ترک سفیر نے بتایا کہ پشاور کو ترکیہ کے ایک شہر کے ساتھ سسٹر سٹی قرار دیا جائے گا، پاکستان کے نوجوانوں کو آئی ٹی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تربیت کے مواقع فراہم کرنے کے لئے تعاون کریں گے۔ ترک سفیر نے وزیراعظم یوتھ پروگرام کو نوجوانوں کی ترقی کے لئے ایک مثبت اور موثر اقدام قرار دیا۔ترک سفیر نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلیم، ٹیکنالوجی اور نوجوانوں کی استعداد کار بڑھانے کے شعبوں میں تعاون مزید فروغ پائے گا۔ملاقات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے خیبر پختونخوا اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر احمد کنڈی بھی موجود تھے۔