ایران میں فسادات یا بغاوت؟ خامنہ ای نے امریکا اور اسرائیل پر سنگین الزام لگا دیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے ملک میں حالیہ فسادات کو امریکا اور اسرائیل کی سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دراصل بغاوت کی ایک منظم کوشش تھی، جسے ایرانی قوم نے ناکام بنا دیا۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں خامنہ ای نے کہا کہ یہ محض الزام نہیں بلکہ شواہد سے ثابت ہے کہ ان واقعات کی منصوبہ بندی بیرونِ ملک کی گئی۔ ان کے مطابق امریکی صدر کے بیانات خود اس بات کا ثبوت ہیں، جن میں انہوں نے فسادی عناصر کو آگے بڑھنے اور مدد فراہم کرنے کے اشارے دیے۔
ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ حالیہ فسادات بیرونِ ملک سے کنٹرول کی جانے والی بغاوت کی کوشش تھے، جنہیں ہوا دینے کے لیے سی آئی اے اور اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے تمام وسائل استعمال کیے، تاہم یہ منصوبہ ناکام ہو گیا۔
مزید پڑھیںخامنہ ای کی دھمکی کے بعد ٹرمپ نے ایران سے ممکنہ معاہدے کیلئے امید ظاہر کردی
انہوں نے کہا کہ ایران عالمی جارح طاقتوں کے مفادات سے ٹکرا رہا ہے، اسی لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس نوعیت کے واقعات دوبارہ پیش نہیں آئیں گے۔ ان کے مطابق یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہ سکتا ہے جب تک دشمن مکمل طور پر مایوس نہ ہو جائے۔
خامنہ ای نے کہا کہ دکانداروں اور تاجروں کے بعض مطالبات جائز تھے، مگر فسادی عناصر نے پُرامن احتجاج کو تشدد میں بدلنے کی کوشش کی۔ جیسے ہی تاجروں کو صورتِ حال کا ادراک ہوا، انہوں نے خود کو ان عناصر سے الگ کر لیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایرانی قوم کی بیداری، اتحاد اور شعور نے اس سازش کو ناکام بنایا اور ثابت کر دیا کہ دشمن اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: خامنہ ای نے نے کہا کہ
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔