اٹلی، مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں، 100 سے زائد اہلکار زخمی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے واقعہ پر ردعمل دیتے ہوئے تشدد کی شدید مذمت کی اور کہا کہ عوامی املاک اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے ناقابلِ قبول ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پولیس حکام کے مطابق مظاہرین نے احتجاج کے دوران پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا، جس کے بعد حالات کشیدہ ہو گئے، پولیس نے صورتحال پر قابو پانے اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا، جھڑپوں کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی سخت کر دی گئی جبکہ کئی سڑکیں عارضی طور پر بند رہیں۔ اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی نے واقعہ پر ردعمل دیتے ہوئے تشدد کی شدید مذمت کی اور کہا کہ عوامی املاک اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے ناقابلِ قبول ہیں، انہوں نے امن و امان برقرار رکھنے اور قانون کی عملداری یقینی بنانے پر زور دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔