Jasarat News:
2026-06-03@01:38:13 GMT

شہری سانحات میں فوجداری احتساب کا سوال

اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260203-03-5
پاکستان میں بڑے شہری سانحات کا بار بار رونما ہونا محض اتفاق نہیں بلکہ ایک گہرے انتظامی، قانونی اور اخلاقی بحران کی علامت ہے۔ کراچی کے گل پلازہ میں آتش زدگی ہو یا لاہور میں کھلے مین ہول کے باعث انسانی جان کے ضیاع کا دل خراش واقعہ، یہ سانحات ایک ہی بنیادی سوال کو جنم دیتے ہیں: کیا ریاستی مشینری میں موجود غفلت، لاپروائی اور قانون شکنی واقعی ناقابل ِ گرفت ہے، یا پھر قوانین کی موجودگی کے باوجود عمل درآمد کی عدم موجودگی نے انسانی جان کو بے وقعت بنا دیا ہے؟ المیہ یہ ہے کہ پاکستان کے قانونی ڈھانچے میں نہ صرف ایسے جرائم کی واضح نشاندہی موجود ہے بلکہ ان کی سزا کا تعین بھی کیا گیا ہے، مگر عملی سطح پر قانون کی گرفت کمزور پڑ جاتی ہے اور ذمے دار افراد اکثر انتظامی کارروائیوں کی اوٹ میں فوجداری احتساب سے بچ نکلتے ہیں۔ پاکستان پینل کوڈ اور سول سرونٹس ایکٹ 1973ء کا مطالعہ یہ حقیقت واضح کرتا ہے کہ ریاستی ملازمین کسی بھی صورت قانون سے بالاتر نہیں۔ تعزیراتِ پاکستان کے تحت جلد بازی یا غفلت کے نتیجے میں کسی انسان کی موت واقع ہونا ایک قابل ِ سزا جرم ہے، اور اس میں سرکاری ملازم یا عام شہری کے درمیان کوئی امتیاز نہیں رکھا گیا۔ یہ اصول بذاتِ خود جدید قانونی ریاست کی بنیاد ہے کہ جرم، جرم ہوتا ہے، چاہے وہ اختیار کے ساتھ کیا جائے یا اختیار کی بدولت چھپایا جائے۔ قانون اس امر کی اجازت نہیں دیتا کہ کسی سرکاری عہدے کی آڑ میں انسانی جان کے ضیاع کو محض ایک انتظامی غلطی قرار دے کر معاملہ رفع دفع کر دیا جائے۔

سول سرونٹس ایکٹ 1973ء اس حوالے سے مزید وضاحت فراہم کرتا ہے کہ سرکاری ملازمین ملک کے تمام قوانین کے تابع ہیں، اور اگر ان کی غفلت، کوتاہی یا دانستہ خلاف ورزی کے نتیجے میں کوئی فوجداری جرم وقوع پذیر ہو جائے تو محکمانہ کارروائی اس جرم کے خلاف فوجداری مقدمے میں کسی طور رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ اس کے ساتھ ساتھ گورنمنٹ سرونٹس (کنڈکٹ) رولز 1964ء ہر سرکاری ملازم پر یہ اخلاقی اور قانونی ذمے داری عائد کرتے ہیں کہ وہ دیانت داری، فرض شناسی اور ذمے دارانہ طرزِ عمل کا مظاہرہ کرے۔ کسی ایسے عمل یا ترکِ عمل کی اجازت نہیں دی جا سکتی جو عوامی مفاد، انسانی جان یا ریاستی وقار کے منافی ہو۔ ان قانونی اصولوں کی روشنی میں دیکھا جائے تو گل پلازہ جیسے واقعات محض حادثات نہیں بلکہ ممکنہ طور پر مجرمانہ غفلت کے واضح کیسز ہیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق عمارت میں فائر ایگزٹس، الارم سسٹمز اور ہنگامی تیاری جیسے بنیادی حفاظتی تقاضے موجود نہیں تھے، حالانکہ بلدیاتی قوانین اور بلڈنگ کنٹرول ریگولیشنز ان تقاضوں کو لازمی قرار دیتے ہیں۔ اگر معائنہ، منظوری یا تجدید کے ذمے دار افسران نے ان خامیوں کو نظر انداز کیا، یا عوامی شکایات کے باوجود خاموشی اختیار کی، تو یہ محض بدانتظامی نہیں بلکہ ایسا طرزِ عمل ہے جو فوجداری قانون کے دائرے میں آتا ہے۔ یہی اصول لاہور کے مین ہول کے واقعے پر بھی لاگو ہوتا ہے، جہاں شہری انفرا اسٹرکچر کی ناقص دیکھ بھال اور حفاظتی اقدامات کی عدم موجودگی نے ایک قیمتی جان لے لی۔ سوال یہ نہیں کہ مین ہول کس محکمے کے دائرہ اختیار میں آتا تھا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا متعلقہ ذمے داران نے اپنے قانونی فرائض ادا کیے؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر قانون کے مطابق فوجداری کارروائی ناگزیر ہو جاتی ہے۔

پاکستان کی عدالتی تاریخ اس حوالے سے بھی واضح رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ عدالت عظمیٰ اپنے متعدد فیصلوں میں یہ اصول طے کر چکی ہے کہ جہاں کسی فوجداری جرم کا عنصر موجود ہو، وہاں محض تادیبی یا محکمانہ کارروائی کو کافی نہیں سمجھا جا سکتا۔ عدالت ِ عظمیٰ کے مطابق انتظامی انکوائری اور فوجداری مقدمہ دو الگ قانونی راستے ہیں، اور دونوں بیک وقت چل سکتے ہیں۔ اس کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ اگر تحقیقات میں مجرمانہ غفلت ثابت ہو جائے تو متعلقہ افسران نہ صرف معطلی یا برطرفی بلکہ فوجداری سزا کے بھی مستحق ہو سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے عملی صورتحال اس قانونی تصور سے کوسوں دور نظر آتی ہے۔ ہمارے ہاں بڑے سانحات کے بعد عموماً ایک رسمی سی انکوائری کا اعلان کیا جاتا ہے، چند افسران کو معطل کر کے معاملے کو وقت کی گرد میں دفن کر دیا جاتا ہے، اور متاثرہ خاندان انصاف کی دہلیز پر برسوں در بدر ٹھوکریں کھاتے رہتے ہیں۔ یہی رویہ قانون کی روح کو مجروح کرتا ہے اور ادارہ جاتی لاپروائی کو فروغ دیتا ہے۔

یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ جب تک سرکاری غفلت کو فوجداری ذمے داری کے ساتھ جوڑا نہیں جائے گا، اس وقت تک احتساب کا تصور محض ایک نعرہ رہے گا۔ انسانی جان کی قیمت تبھی بحال ہو سکتی ہے جب قانون بلا تفریق نافذ ہو اور یہ پیغام واضح ہو کہ اختیار امانت ہے، ڈھال نہیں۔ گل پلازہ اور لاہور کے مین ہول جیسے واقعات ریاست کے لیے ایک کڑا امتحان ہیں۔ اگر ان سانحات کے ذمے داران کو واقعی قانون کے کٹہرے میں لایا جاتا ہے تو یہ نہ صرف متاثرہ خاندانوں کے لیے انصاف ہوگا بلکہ مستقبل میں ایسے المیوں کی روک تھام کے لیے ایک مضبوط مثال بھی قائم کرے گا۔ بالآخر سوال یہی ہے کہ کیا ہم قانون کو صرف کتابوں تک محدود رکھنا چاہتے ہیں یا اسے انسانی جان کے تحفظ کا عملی ذریعہ بنانا چاہتے ہیں۔ فیصلہ ریاستی اداروں کے ہاتھ میں ہے، مگر اس فیصلے کے نتائج پوری قوم کو بھگتنا پڑتے ہیں۔

ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی سیف اللہ

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مین ہول

پڑھیں:

ناتمام (آخری قسط)

ہارون صاحب کی کتاب ’’ناتمام‘‘ میں کچھ غیر معمولی شخصیات کے بارے میں لکھی گئی تحریریں بے حد دلنشین ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’کبھی کبھی یہ طالب علم سوچتا ہے سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ کے بعد شاید اقبالؔ ہی وہ مفکر تھے، جنھوں نے امت کے ادبار پر دل سوزی کے ساتھ پیہم تدبر کیا، جس برصغیر میں وہ پیدا ہوئے تھے، اسے الوداع کہا تو وہ بدل چکا تھا، مسلم برصغیر کو امید اور امکان کی راہ دکھانے میں ان کا حصہ کسی بھی شخص سے زیادہ تھا، یہ اقبالؔ ہی تھے، جنھوں نے کہا تھا: جہاں کہیںجہاں میں روشنی ہے، مصطفیؐ کے طفیل ہے یا مصطفی ؐ کی تلاش میں! ۔۔۔۔‘‘

’’سیّد ابوالاعلیٰ نے آخری دنوں میں اقبالؔ سے فیض پایا۔ ان کی وفات پر اپنے مضمون ’’اقبالؔ، میرا نفسیاتی سہارا‘‘ میں لکھا ’قرآنِ کریم ان کے لیے ایک شاہ کلید تھا، تمام بند دروازے جس سے کھل جاتے‘آج کل کے دانشور کیا ہیں کہ مغرب کی چکاچوند نے جنھیں اندھا کردیا، جو یہ نہیں سمجھتے کہ ترقی، علم اور ارتقا، تقلید میں نہیں ہوتا، جہاں جو چیز اچھی ہے، وہ لے لی جاتی ہے اور جو ناقص ہو، وہ ترک کردینی چاہیے اور یہ عالمانِ دین ہیں کہ اکیسویں صدی میں قبائلی عہد میں زندہ رہنے پر مصر ہیں، جنھیں سرکارؐ کا پڑھایا ہوا اولین سبق ہی یاد نہیں۔ غوروفکر، حسنِ کلام، حکمت اور دلیل کے ساتھ مکالمہ، دردمندی اور دل سوزی کے ساتھ تفکّر اور تدبّر درکار ہے۔‘‘

مصنّف قائد اور اقبالؒ کا پھر ایک کالم میں ذکر کرتے ہیں ’’یہ قوم اپنے دو عظیم رہنماؤں کو بھول گئی۔ جناح ایسے تھے کہ عمر بھر تین باتوں کا طعنہ انھیں کبھی نہ دیا گیا۔ کبھی وعدہ نہ توڑا، کبھی مالی بے قاعدگی نہیں، کبھی جھوٹ نہ بولا۔ اقبالؔ ایسے کہ تمام فکری تعصبات سے اوپر اٹھ کر سوچ بچار کیا اور پیہم کیا، تمام خلوص، تمام صلابتِ کردار۔۔ نہیں، فقط سیاست سے ہماری زندگی نہیں بدلے گی، تعلیم، غوروفکر اور حسنِ کردار۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا تھا: اللہ جسے ہدایت دینا چاہے، اپنی آنکھ اس پر کھول دیتا ہے۔ دوسروں کے عیب چننے سے نہیں، حیات اپنی اصلاح سے ثمر بار ہوتی ہے۔‘‘ مصنّف نے کیا دلپذیر باتیں لکھی ہیں جو ہرشعبۂ حیات کے لیڈر کو پڑھنی چاہئیں۔

 ناتمام میں مصنف نے بھٹوصاحب کا بھی تجزیہ کیا ہے، لکھتے ہیں ’’بھٹو حیرت انگیز خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ 1965کی جنگ کے ہنگام وہ ایک قوم پرست بن کر ابھرے، جب بھارت کے خلاف ہزار سالہ جنگ کا انھوں نے نعرہ لگایا، غریب آدمی کے احساسات کا انھوں نے ادراک کیا، سندھ اور پنجاب میں وہ ایک مقبول رہنما بن کر ابھرے مگر 1970 کے انتخابی نتائج کو عملاً انھوں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو واضح اکثریت حاصل ہوئی تو جنرل یحییٰ سے انھوں نے گٹھ جوڑ کرلیا اور انتقالِ اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے، ان دو آدمیوں کی ہوسِ اقتدار نے پاکستان کے دولخت ہونے کی بنیاد فراہم کی۔‘‘

پھر لکھتے ہیں ’’ایک راز بھٹو نے پالیا تھا۔ لیڈر وہ شخص ہوتا ہے، جو کسی قوم کی عمیق ترین، سب سے بنیادی اور سب سے بڑی آرزو کو پوری طرح پہچان لے۔ جنگِ ستمبر تک، وہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے درباری تھے، کبھی اسے صلاح الدین قرار دیتے اور کبھی ایشیا کا ڈیگال۔ جنگِ ستمبر میں پہلی بار دلوں میں یہ امید جاگی کہ کشمیر پہ دشمن بھارت کا تسلّط تمام ہوسکتا ہے، بھٹو نے اس نجیب آرزو کو پہچانا اور اس کا مظہر بن گئے، اقوامِ متحدہ میں جاری مباحث کے دوران، جن کا ایک ایک لفظ غور سے پڑھا اور سنا جایا کرتا، بھٹو نے بھارت کے ’’میسنے‘‘ وزیرِ خارجہ سردار سورن سنگھ کو مخاطب کرکے کہا: لڑنا پڑا تو کشمیر کے لیے ایک ہزار برس تک بھی ہم لڑیں گے، تبھی وہ ہیرو بن کر ابھرے۔ ہاں! مگر ان کا کوئی عقیدہ نہ تھا، قوم پرست وہ یقیناً تھے اور بے شک انھوں نے پہلی بار Anti Estabhishment پارٹی تشکیل دی مگر خود پسند، اقتدار کے حریص اور نرگسیت کے مارے۔ باقی سب تاریخ ہے"

پاکستانی سیاست کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ پاکستانی سیاست اور معاشرے کا مرض یہ ہے کہ سائنسی اندازِ فکر سے وہ محروم ہے۔ تعصّبات اور جذبات کا غلبہ اس قدر ہے کہ کبھی نفرت چھا جاتی ہے اور کبھی محبت۔ بھٹو صاحب کے مداحوں سے عرض کیجیے کہ بے شک مقبول وہ بہت تھے۔

بجا کہ ملک کو انھوں نے دستور عطا کیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، جذباتی توازن سے مگر وہ محروم تھے اور پرلے درجے کے انتقام پسند۔ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا، اپنی پارٹی کے سیکریٹری جنرل جے رحیم کو پٹوایا۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکنِ اسمبلی ملک سلیمان اور ان کے خاندان کی تذلیل کی، اپنے وزیرِ اعلیٰ حنیف رامے کو شاہی قلعے میں قید رکھا۔ پارٹی کے ایک دوسرے لیڈر احمد رضا قصوری پر قاتلانہ حملے میں ان کے والد مارے گئے۔ کوئی نہیں سنتا، کوئی نہیں مانتا۔‘‘

کتاب کے مصنّف، عمران خان کے سب سے بڑے سپورٹر تھے اور شاید اب بھی ہیں مگر اس کتاب میں انھوں نے اس کی خامیاں بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی، لکھتے ہیں ’’لاہور میں موسم بہار کی ایک سویر جب میں زمان پارک میں اسے ملنے گیا تو وہ ورزش میں مصروف تھا۔ کچھ دیر کے بعد وہ نمودار ہوا اور ضرورت سے زیادہ پُراعتماد لہجے میں کہا’’اپنے جسم پر بھی آدمی کو سرمایہ کاری کرنی چاہیے‘‘ ۔ ’’جی ہاں‘‘۔ عرض کیا ’’اپنے ذہن پر بھی‘‘۔ اسے دھچکا لگا ’’تمہارا مطلب یہ ہے کہ میں نے ذہن پہ سرمایہ کاری نہیں کی‘‘۔ ہاں! میں نے جواب دیا ’’میرا مطلب یہی ہے‘‘۔ بدمزہ نہیں، وہ کچھ حیران سا ہوا اور ناشتے میں جُت گیا، پھل، دہی، ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے اور بہت سا جوس۔ مجال ہے کہ ایسے میں دوسروں کو وہ دعوت دے‘‘۔

 پھر لکھتے ہیں ’’عمران خان اپنی پہاڑ سی غلطیوں کو بھلا کر ظفرمندی کے خواب کا اسیر تھا، 11 مئی کی صبح احسن رشید سے کہا کہ انتخابی نتائج سنتے ہی شوکت خانم اسپتال آجانا کہ جشن منایا جاسکے۔ اپنے بچوں سے لندن میں کہہ آیا تھا کہ اگلی بار وزیراعظم کی حیثیت سے برطانیہ آئے گا۔ نتیجہ نکلا تو صرف اس کی نہیں، پارٹی کے تمام بزر جمہروں کی رائے یہ تھی کہ قبول کرلینا چاہیے۔

الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ کئی ماہ وہ مخمصے کا شکار رہا، پارٹی کو ان دنوں دو تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہ دیا کرتا۔ شاطروں نے سمجھ لیا کہ اسے الّو بنانے میں کامیاب رہے‘‘۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں ’’ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ دس حلقے کھولنے کی شرط کے ساتھ مفاہمت پہ آمادگی کے بعد تحریکِ انصاف کے سربراہ وزیراعظم کے استعفیٰ کی تاریخیں کیوں دینے لگے؟ نوبت پھر تھرڈ امپائر کی انگلی تک پہنچی، بلا استثنیٰ سبھی کا تاثر یہ تھا کہ کپتان کا اشارہ عسکری قیادت کی طرف ہے۔ کئی دن بعد کپتان نے اعلان کیا کہ ان کی مراد اللہ تعالیٰ سے تھی۔ اللہ تعالیٰ امپائر نہیں، وہ کائنات اور زندگی کا خالق ہے۔ حیات کی تمام حرکیات اور قوانین کا، وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ ذاتِ باری تعالیٰ کو کرکٹ کے امپائر سے تشبیہہ دینا پرلے درجے کی بدذوقی اور سطحیت تھی۔ کپتان اگر انھی لوگوں کے زیرِ اثر رہا، جن کے زیرِ اثر ہے تو مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے‘‘۔

کچھ دوسرے لیڈروں کے بارے میں لکھتے ہیں ’’چوہدری نثار علی میں صلاحیّت بے پایاں تھی مگر روحانی جہت معمولی۔ کھٹ سے اللہ کی رحمت کا دروازہ کھلتا مگر بن مانگے تو گاہے وہ گھاس بھی نہیں دیتا، چہ جائیکہ عظمت ورفعت۔ یوں بھی عظمت غریبوں، دکھ جھیلنے اور ایثار کرنے والوں کے لیے ہوتی ہے۔ چوہدری کہاں، شریف برادران کہاں، ان کے مقاصد محدود ہیں۔ اقتدار کا انبساط، جو دنیا کا سب سے تباہ کن نشہ ہے، جان چھوڑتا ہی نہیں، عزتِ نفس اور شان وشوکت کا ایک سطحی سا تصور۔عمران خان سمیت سبھی کا حال پتلا ہے۔ پانی پت کی تیسری جنگ لڑنے جاتے ہیں اور لشکر سراج الدولہ سے بدتر۔ رہے علّامہ طاہرالقادری تو جرأت ہی نہیں، جسارت ہی نہیں، فقط زورِ خطابت۔ کوئی دن میں غبارہ پھٹ جائے گا‘‘۔

’’اچھی حکمرانی کی بے تاب تمنا بھی بجا۔ بحث بہت ہوچکی۔ سیاست کے قرینوں سے اب ہم آگاہ ہیں مگراس کے لیے سیاست کافی نہیں زندگی جوڑ توڑ سے بہت بڑی ہے۔ علم اور اخلاق کے بغیر معاشرے، اقوام نہیں، ریوڑ ہوتے ہیں۔ علم، اخلاق اور تربیت۔ قرآن کریم اور اس کا صاحب انوار شارع۔۔ اور ہاں جدید علم!‘‘

ہر طبقۂ فکر کے لوگوں خصوصاً سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی