ضمیر اور ہمدردی قانون کا نعم البدل نہیں‘ وفاقی آئینی عدالت کا اہم فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260203-08-32
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی آئینی عدالت نے ایک اہم اور نظیری نوعیت کے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ضمیر اور ہمدردی قانون کا نعم البدل نہیں۔ ہائی کورٹس آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت قانون کی عدم موجودگی میں ہمدردی، مساوات (Equity) یا ذاتی احساسات کی بنیاد پر کوئی حکم جاری نہیں کر سکتیں اور نہ ہی تعلیمی اداروں کو ایسے خصوصی یا سپر سپلیمنٹری امتحانات کے انعقاد کا پابند کیا جا سکتا ہے جن کی اجازت کسی قانون، قاعدے یا ضابطے میں موجود نہ ہو۔ وفاقی آئینی عدالت پاکستان کی جانب سے رپورٹنگ کے لئے 18 صفحات پر مشتمل منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلے کے مطابق یہ فیصلہ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس روزی خان باریچ پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے ایف سی پی ایل اے نمبر 14 آف 2025 کی سماعت کے بعد جاری کیا۔ کیس سندھ ہائی کورٹ، سرکٹ کورٹ لاڑکانہ کے 6 نومبر 2025 کے حکم کے خلاف دائر کیا گیا تھا۔عدالتی فیصلے کے مطابق جواب دہندہ الطاف حسین سومروچانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ کے دوسرے سال کے ایم بی بی ایس طالب علم تھے جو گردے کی پیوندکاری (ٹرانسپلانٹ )کے باعث سالانہ امتحانات اور بعد ازاں فزیالوجی کے سپلیمنٹری امتحان میں شرکت نہ کر سکے۔ طالب علم نے یونیورسٹی انتظامیہ سے خصوصی رعایت کی درخواست کی تاہم وائس چانسلر نے دونوں درخواستیں مسترد کر دیں جس کے بعد طالب علم نے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ سندھ ہائی کورٹ نے معاملے کو غیر معمولی حالات قرار دیتے ہوئے شہید بے نظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کو طالب علم کے لیے خصوصی/سپر سپلیمنٹری امتحان منعقد کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف وائس چانسلر اور یونیورسٹی انتظامیہ نے وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کیا۔وفاقی آئینی عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب کوئی قانونی حق موجود نہ ہو تو رِٹ آف مینڈمس جاری نہیں کی جا سکتی۔ عدالت نے واضح کیا کہ ججز کا ضمیر، ہمدردی یا ذاتی احساسات قانون کی جگہ نہیں لے سکتے، اور عدالتیں قانون کے مطابق فیصلے دینے کی پابند ہیں نہ کہ جذبات کی بنیاد پر۔فیصلے میں کہا گیا کہ پاکستان ایک آئینی ریاست ہے جہاں تمام ادارے، بشمول عدلیہ، آئین اور قانون کے تابع ہیں۔ عدالت نے زور دیا کہ تعلیمی اداروں کے داخلی اور انتظامی معاملات میں عدالتی مداخلت انتہائی محدود ہونی چاہیے کیونکہ تعلیمی پالیسی سازی عدالتوں کا نہیں بلکہ متعلقہ اداروں کا اختیار ہے۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ سندھ ہائی کورٹ نے اضافی ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو امتحان کے انعقاد کی نگرانی کا جو حکم دیا، وہ بھی قانون سے ماورا تھا، کیونکہ اس عہدے کو ایسی کوئی ذمے داری تفویض نہیں کی جا سکتی جو قانون میں موجود نہ ہو۔ وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کے سابقہ عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالتیں صرف اسی حد تک مداخلت کر سکتی ہیں جہاں کسی بنیادی حق کی واضح خلاف ورزی یا قانون شکنی ثابت ہو۔ خصوصی یا اضافی امتحانات کا حکم دینا عدالتی اختیار سے تجاوز کے مترادف ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ کوئی عدالت اپنے فیصلے کی نظیری حیثیت کو خود محدود نہیں کر سکتی، کیونکہ عدالتی فیصلے عوامی ریکارڈ ہوتے ہیں اور مستقبل میں قانونی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ ایسا کرنا عدالتی غیر یقینی اور من مانے پن کو فروغ دے سکتا ہے۔ آخر میں وفاقی آئینی عدالت نے درخواست کو اپیل میں تبدیل کرتے ہوئے منظور کر لیا، سندھ ہائی کورٹ کا حکم کالعدم قرار دے دیا اور طالب علم کی جانب سے دائر آئینی درخواست مسترد کر دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وفاقی ا ئینی عدالت نے سندھ ہائی کورٹ طالب علم
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔