data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سکھر (نمائندہ جسارت) پاکستان ریلوے پریم یونین (سی بی اے ) کے مرکزی سیکرٹری جنرل خیر محمد تنیو نے کہا ہے کہ فوتی کوٹہ (پرائم منسٹر اسسٹنٹ پیکج کے حوالے سے عدالتی فیصلہ پر عملدرآمد کیا جائے، ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی واضح ہدایات اور ارڈر موجود ھے حکومت کو اس پر عمل کرنا چاہیے۔ان ملازمین کو ان کا حق ملنا چاھییئے، 2 ستمبر 2025 کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے فوتی کوٹہ (پرائم منسٹر اسسٹنٹ پیکج) کے حوالے سے ایک واضح اور دوٹوک فیصلہ صادر کیاجس میں کٹ آف ڈیٹ 18 اکتوبر 2024 مقرر کی گئی۔ عدالتِ عظمیٰ نے یہ اصول طے کیا کہ اس تاریخ سے قبل جن امیدواران نے اپنی درخواستیں متعلقہ محکموں میں جمع کروا دی تھیں، وہ تمام ملازمت کے اہل قرار پائیں گے۔ یاد رہے کہ لاہور ہائی کورٹ سے ایک تاریخی فیصلہ حاصل ہوا جس پر ایک ملازم کا بچے جس درخواست دائر کے اور اس میں کامیاب ہوا۔ یہ فیصلہ لاہور کے علاقے مغل پورہ سے تعلق رکھنے والی ایک بچی مریم اسماعیل کے حق میں آیا، جسے میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلوں کی مستند نقول فراہم کیں۔ لاہور ہائی کورٹ نے اس مقدمے میں واضح طور پر قرار دیا کہ ریلوے ملازم اگر دورانِ سروس وفات پا جائے یا میڈیکلی اَن فِٹ ہو جائے تو اس کے بچوں کے لیے وہی قانون ہوگا، جس میں کاغذاتِ ملازمت 18 اکتوبر 2024 سے قبل جمع کروا دیے گئے ہوں۔یہ مقدمہ لاہور ہائی کورٹ سے جیتا گیا، مگر پاکستان ریلوے نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کی غلط تشریح کرتے ہوئے بے شمار دیگر بچوں کی ملازمتیں نہیں دیں۔

جسارت نیوز گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سپریم کورٹ ا ف پاکستان ہائی کورٹ

پڑھیں:

اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔

اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔

انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔

سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار