سکھر ، فوتگی کوٹے پر جاری عدالتی احکامات پر عمل کیا جائے، پریم یونین
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سکھر (نمائندہ جسارت) پاکستان ریلوے پریم یونین (سی بی اے ) کے مرکزی سیکرٹری جنرل خیر محمد تنیو نے کہا ہے کہ فوتی کوٹہ (پرائم منسٹر اسسٹنٹ پیکج کے حوالے سے عدالتی فیصلہ پر عملدرآمد کیا جائے، ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی واضح ہدایات اور ارڈر موجود ھے حکومت کو اس پر عمل کرنا چاہیے۔ان ملازمین کو ان کا حق ملنا چاھییئے، 2 ستمبر 2025 کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے فوتی کوٹہ (پرائم منسٹر اسسٹنٹ پیکج) کے حوالے سے ایک واضح اور دوٹوک فیصلہ صادر کیاجس میں کٹ آف ڈیٹ 18 اکتوبر 2024 مقرر کی گئی۔ عدالتِ عظمیٰ نے یہ اصول طے کیا کہ اس تاریخ سے قبل جن امیدواران نے اپنی درخواستیں متعلقہ محکموں میں جمع کروا دی تھیں، وہ تمام ملازمت کے اہل قرار پائیں گے۔ یاد رہے کہ لاہور ہائی کورٹ سے ایک تاریخی فیصلہ حاصل ہوا جس پر ایک ملازم کا بچے جس درخواست دائر کے اور اس میں کامیاب ہوا۔ یہ فیصلہ لاہور کے علاقے مغل پورہ سے تعلق رکھنے والی ایک بچی مریم اسماعیل کے حق میں آیا، جسے میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلوں کی مستند نقول فراہم کیں۔ لاہور ہائی کورٹ نے اس مقدمے میں واضح طور پر قرار دیا کہ ریلوے ملازم اگر دورانِ سروس وفات پا جائے یا میڈیکلی اَن فِٹ ہو جائے تو اس کے بچوں کے لیے وہی قانون ہوگا، جس میں کاغذاتِ ملازمت 18 اکتوبر 2024 سے قبل جمع کروا دیے گئے ہوں۔یہ مقدمہ لاہور ہائی کورٹ سے جیتا گیا، مگر پاکستان ریلوے نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کی غلط تشریح کرتے ہوئے بے شمار دیگر بچوں کی ملازمتیں نہیں دیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ ا ف پاکستان ہائی کورٹ
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز