وفاقی آئینی عدالت نے ایک اہم اور نظیری نوعیت کے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ضمیر اور ہمدردی قانون کا نعم البدل نہیں۔

ہائی کورٹس آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت قانون کی عدم موجودگی میں ہمدردی، مساوات (Equity) یا ذاتی احساسات کی بنیاد پر کوئی حکم جاری نہیں کر سکتیں اور نہ ہی تعلیمی اداروں کو ایسے خصوصی یا سپر سپلیمنٹری امتحانات کے انعقاد کا پابند کیا جا سکتا ہے جن کی اجازت کسی قانون، قاعدے یا ضابطے میں موجود نہ ہو۔

وفاقی آئینی عدالت پاکستان کی جانب سے رپورٹنگ کے لئے اٹھارہ صفحات پر مشتمل منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق یہ فیصلہ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس روزی خان باریچ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے ایف سی پی ایل اے نمبر 14 آف 2025 کی سماعت کے بعد جاری کیا۔

کیس سندھ ہائی کورٹ، سرکٹ کورٹ لاڑکانہ کے 6 نومبر 2025 کے حکم کے خلاف دائر کیا گیا تھا۔عدالتی فیصلے کے مطابق جواب دہندہ الطاف حسین سومروچانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ کے دوسرے سال کے ایم بی بی ایس طالب علم تھے جو گردے کی پیوندکاری (ٹرانسپلانٹ )کے باعث سالانہ امتحانات اور بعد ازاں فزیالوجی کے سپلیمنٹری امتحان میں شرکت نہ کر سکے۔

طالب علم نے یونیورسٹی انتظامیہ سے خصوصی رعایت کی درخواست کی تاہم وائس چانسلر نے دونوں درخواستیں مسترد کر دیں جس کے بعد طالب علم نے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔

سندھ ہائی کورٹ نے معاملے کو غیر معمولی حالات قرار دیتے ہوئے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کو طالب علم کے لئے خصوصی/سپر سپلیمنٹری امتحان منعقد کرنے کا حکم دیا تھا۔

اس فیصلے کے خلاف وائس چانسلر اور یونیورسٹی انتظامیہ نے وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کیا۔وفاقی آئینی عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب کوئی قانونی حق موجود نہ ہو تو رِٹ آف مینڈمس جاری نہیں کی جا سکتی۔

عدالت نے واضح کیا کہ ججز کا ضمیر، ہمدردی یا ذاتی احساسات قانون کی جگہ نہیں لے سکتے، اور عدالتیں قانون کے مطابق فیصلے دینے کی پابند ہیں نہ کہ جذبات کی بنیاد پر۔فیصلے میں کہا گیا کہ پاکستان ایک آئینی ریاست ہے جہاں تمام ادارے، بشمول عدلیہ، آئین اور قانون کے تابع ہیں۔ عدالت نے زور دیا کہ تعلیمی اداروں کے داخلی اور انتظامی معاملات میں عدالتی مداخلت انتہائی محدود ہونی چاہئے کیونکہ تعلیمی پالیسی سازی عدالتوں کا نہیں بلکہ متعلقہ اداروں کا اختیار ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ سندھ ہائی کورٹ نے اضافی ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو امتحان کے انعقاد کی نگرانی کا جو حکم دیا، وہ بھی قانون سے ماورا تھا، کیونکہ اس عہدے کو ایسی کوئی ذمہ داری تفویض نہیں کی جا سکتی جو قانون میں موجود نہ ہو۔

وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کے سابقہ عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالتیں صرف اسی حد تک مداخلت کر سکتی ہیں جہاں کسی بنیادی حق کی واضح خلاف ورزی یا قانون شکنی ثابت ہو۔ خصوصی یا اضافی امتحانات کا حکم دینا عدالتی اختیار سے تجاوز کے مترادف ہے۔

عدالت نے مزید کہا کہ کوئی عدالت اپنے فیصلے کی نظیری حیثیت کو خود محدود نہیں کر سکتی، کیونکہ عدالتی فیصلے عوامی ریکارڈ ہوتے ہیں اور مستقبل میں قانونی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ ایسا کرنا عدالتی غیر یقینی اور من مانے پن کو فروغ دے سکتا ہے۔

آخر میں وفاقی آئینی عدالت نے درخواست کو اپیل میں تبدیل کرتے ہوئے منظور کر لیا، سندھ ہائی کورٹ کا حکم کالعدم قرار دے دیا اور طالب علم کی جانب سے دائر آئینی درخواست مسترد کر دی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وفاقی آئینی عدالت نے سندھ ہائی کورٹ طالب علم

پڑھیں:

زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سال 2026 کے لیے موسم گرما کی تعطیلات سے متعلق بڑا انتظامی فیصلہ کرلیا ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق عدالتی کارکردگی میں بہتری اور زیر التوا مقدمات کے جلد از جلد فیصلوں کو یقینی بنانے کے لیے تعطیلات کا نیا شیڈول مرتب کیا گیا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ اہم فیصلہ چیف جسٹس پاکستان کی درخواست اور ججز کے درمیان باہمی مشاورت کے بعد کیا گیا۔

نئے انتظامات کے تحت سپریم کورٹ کے ججز نے موسم گرما کی تعطیلات کے دوران اسلام آباد میں واقع پرنسپل سیٹ پر کام کے دورانیے میں اضافے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔

اعلامیے کے مطابق ماضی کی روایت کے برعکس اس بار سپریم کورٹ کی برانچ رجسٹریوں میں ججز کے بیٹھنے کے وقت میں کمی کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

تاہم ججز کی جانب سے اصل میں حاصل کی جانے والی تعطیلات کا دورانیہ گزشتہ برسوں کی طرح 4 ہفتے ہی برقرار رہے گا۔

سپریم کورٹ کے اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ نئے انتظامات کا بنیادی مقصد تعطیلات کے دوران بھی ججز کی دستیابی کو یقینی بنانا اور مقدمات کی سماعت کے عمل کو بلا تعطل جاری رکھنا ہے تاکہ زیر التوا کیسز کے بروقت فیصلوں میں مدد مل سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews انتظامی فیصلہ تعطیلات سپریم کورٹ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ