پاکستان کا بھارت کیخلاف ٹی20 ورلڈکپ میچ کا بائیکاٹ، آئی سی سی کا قانون کیا کہتا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بھارت کے خلاف میچ کا بائیکاٹ پاکستان کے لیے پوائنٹس کے لحاظ سے نقصان دہ ثابت ہوگا، کیونکہ اس فیصلے کے نتیجے میں قومی ٹیم کو دو اہم پوائنٹس سے محروم ہونا پڑے گا۔
اتوار کے روز پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شرکت کرنے تاہم 15 فروری کو بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا باضابطہ اعلان کیا۔ یہ فیصلہ وزیر اعظم شہباز شریف اور چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آیا، جس میں ورلڈکپ میں شرکت سے متعلق اہم امور پر غور کیا گیا۔
ملاقات کے بعد حکومت پاکستان نے واضح کیا کہ پاکستان ٹورنامنٹ میں شریک رہے گا لیکن بھارت کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اس فیصلے کی ایک بڑی وجہ بنگلہ دیش سے متعلق آئی سی سی کا مبینہ جانبدارانہ رویہ ہے، جس پر پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کا فیصلہ کیا۔
آئی سی سی کے قوانین کے مطابق اگر کوئی ٹیم میچ کھیلنے سے انکار کرے تو اسے اس میچ کے دو پوائنٹس نہیں ملتے بلکہ وہ پوائنٹس حریف ٹیم کو دے دیے جاتے ہیں۔ اس طرح پاکستان کے بائیکاٹ کی صورت میں بھارت کو دو پوائنٹس مل جائیں گے۔
مزید یہ کہ آئی سی سی قوانین کے تحت بائیکاٹ کی صورت میں نیٹ رن ریٹ پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔ شق 16.
واضح رہے کہ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا آغاز 7 فروری سے ہوگا، اور پاکستان کے گروپ میں بھارت کے علاوہ نمیبیا، نیدرلینڈز اور امریکا شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان کے نیٹ رن ریٹ بھارت کے
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔