وفاقی وزیر صحت اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رہنما مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے اختیارات اگرچہ وفاق سے صوبوں کو منتقل ہوئے، لیکن گزشتہ 18 برسوں میں یہ اختیارات صوبوں سے آگے ضلعی اور مقامی سطح تک منتقل نہیں کیے گئے، جس کے باعث عوام کو حقیقی فائدہ نہیں پہنچ سکا۔

ایم کیو ایم کے رہنما کا کہنا ہے کہ اختیارات صوبائی وزرائے اعلیٰ کے پاس ’پارک‘ ہو کر رہ گئے ہیں، جبکہ آئین کا آرٹیکل 140-A مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے کی واضح ہدایت دیتا ہے۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی نظر انداز کر دیا گیا

مصطفیٰ کمال کے مطابق جب اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی نہ ہوئی تو معاملہ سپریم کورٹ آف پاکستان لے جایا گیا۔ عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ کون سے محکمے لوکل گورنمنٹ کے تحت آئیں گے اور میئر، ٹاؤن کونسل اور یونین کونسلز کے لیے فنڈز کہاں سے فراہم کیے جائیں گے، مگر اس عدالتی فیصلے کو بھی عملی طور پر تسلیم نہیں کیا گیا۔

2024 کے انتخابات سے قبل آئینی مسودہ تیار کیا گیا

مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ 2024 کے عام انتخابات سے قبل ایم کیو ایم نے 8 صفحات پر مشتمل ایک آئینی مسودہ تیار کیا، جس میں آرٹیکل 140-A کی واضح اور غیر مبہم تشریح شامل تھی۔ اس مسودے کی تیاری کے دوران تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی گئی اور اسے انتخابی منشور کا حصہ بنایا گیا۔

صرف ایک نکاتی ایجنڈے پر حکومت میں شمولیت

انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ اس کی 40 سالہ تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ ایم کیو ایم کسی طویل ایجنڈے کے بغیر، صرف ایک نکاتی ایجنڈے ’آئینی ترمیم‘ پر حکومت میں شامل ہوئی۔ ان کے مطابق، مسلم لیگ (ن) نے اس آئینی مسودے پر تحریری طور پر اتفاق کیا، جس کے بعد ایم کیو ایم نے بغیر کسی وزارت کا مطالبہ کیے حکومت میں شمولیت اختیار کی۔

26ویں اور 27ویں آئینی ترمیم کا پس منظر

وفاقی وزیر صحت کے مطابق، 26ویں آئینی ترمیم کے موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کی مخالفت کے باعث ان کے نکات شامل نہ ہو سکے۔ بعد ازاں وزیر اعظم نے 27ویں آئینی ترمیم میں ایم کیو ایم کے نکات شامل کرنے کا وعدہ کیا اور اس پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے یقین دہانی کرائی تھی کہ اس بار وعدہ پورا کیا جائے گا۔

کابینہ اور پنجاب اسمبلی کی متفقہ حمایت

مصطفیٰ کمال کے مطابق، 27ویں آئینی ترمیم سے قبل ہونے والے کابینہ اجلاس میں تمام وفاقی وزراء نے متفقہ طور پر اس ترمیم کی حمایت کی۔ اس کے علاوہ پنجاب اسمبلی نے بھی ایم کیو ایم کے تمام نکات کو متفقہ طور پر منظور کر کے وفاق کو بھجوا دیا، جہاں تمام جماعتیں بشمول پیپلز پارٹی موجود تھیں۔

قائمہ کمیٹی میں مزاحمت اور دھمکیوں کا الزام

ایم کیو ایم کے رہنما کا کہنا ہے کہ قانون و انصاف کی قائمہ کمیٹی میں 2 روزہ بحث کے دوران تمام جماعتوں نے حمایت کی، سوائے پیپلز پارٹی کے۔ پیپلز پارٹی کے ارکان نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اگر یہ ترمیم 27ویں ترمیم کے ساتھ پیش کی گئی تو وہ دیگر اہم آئینی معاملات پر ووٹ نہیں دیں گے۔

عوامی مسائل اور بدانتظامی پر شدید تشویش

انہوں نے کہا کہ اگر یہ آئینی ترمیم منظور ہو جاتی تو پاکستان کے 25 کروڑ عوام کو اختیارات اور وسائل ان کی دہلیز پر مل سکتے تھے، جس سے گورننس بہتر ہو سکتی تھی۔

ان کے مطابق، آج ملک بھر میں بچے نالوں میں گر کر جانیں گنوا رہے ہیں، ٹریفک حادثات میں شہری ہلاک ہو رہے ہیں اور کوئی شہر ایسا نہیں جہاں سے روزانہ اموات کی خبریں نہ آ رہی ہوں۔

ماضی کے الزامات سے موجودہ ناکامیوں کو نہیں چھپایا جا سکتا

مصطفیٰ کمال نے شکوہ کیا کہ جب وہ موجودہ بدانتظامی پر سوال اٹھاتے ہیں تو اسے ماضی کے واقعات کا حوالہ دے کر خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے، جو ان کے بقول موجودہ حکومتی کارکردگی سے توجہ ہٹانے کا حربہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایم کیو ایم کے پیپلز پارٹی حکومت میں کے مطابق کیا کہ کے لیے

پڑھیں:

سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔

پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں،  وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔

کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان