ہم حکومت میں وزارتوں کے لیے نہیں، ایک آئینی نکتے کے لیے گئے، مصطفیٰ کمال
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
وفاقی وزیر صحت اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رہنما مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے اختیارات اگرچہ وفاق سے صوبوں کو منتقل ہوئے، لیکن گزشتہ 18 برسوں میں یہ اختیارات صوبوں سے آگے ضلعی اور مقامی سطح تک منتقل نہیں کیے گئے، جس کے باعث عوام کو حقیقی فائدہ نہیں پہنچ سکا۔
ایم کیو ایم کے رہنما کا کہنا ہے کہ اختیارات صوبائی وزرائے اعلیٰ کے پاس ’پارک‘ ہو کر رہ گئے ہیں، جبکہ آئین کا آرٹیکل 140-A مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے کی واضح ہدایت دیتا ہے۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی نظر انداز کر دیا گیامصطفیٰ کمال کے مطابق جب اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی نہ ہوئی تو معاملہ سپریم کورٹ آف پاکستان لے جایا گیا۔ عدالتِ عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ کون سے محکمے لوکل گورنمنٹ کے تحت آئیں گے اور میئر، ٹاؤن کونسل اور یونین کونسلز کے لیے فنڈز کہاں سے فراہم کیے جائیں گے، مگر اس عدالتی فیصلے کو بھی عملی طور پر تسلیم نہیں کیا گیا۔
2024 کے انتخابات سے قبل آئینی مسودہ تیار کیا گیامصطفیٰ کمال نے بتایا کہ 2024 کے عام انتخابات سے قبل ایم کیو ایم نے 8 صفحات پر مشتمل ایک آئینی مسودہ تیار کیا، جس میں آرٹیکل 140-A کی واضح اور غیر مبہم تشریح شامل تھی۔ اس مسودے کی تیاری کے دوران تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی گئی اور اسے انتخابی منشور کا حصہ بنایا گیا۔
صرف ایک نکاتی ایجنڈے پر حکومت میں شمولیتانہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ اس کی 40 سالہ تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ ایم کیو ایم کسی طویل ایجنڈے کے بغیر، صرف ایک نکاتی ایجنڈے ’آئینی ترمیم‘ پر حکومت میں شامل ہوئی۔ ان کے مطابق، مسلم لیگ (ن) نے اس آئینی مسودے پر تحریری طور پر اتفاق کیا، جس کے بعد ایم کیو ایم نے بغیر کسی وزارت کا مطالبہ کیے حکومت میں شمولیت اختیار کی۔
26ویں اور 27ویں آئینی ترمیم کا پس منظروفاقی وزیر صحت کے مطابق، 26ویں آئینی ترمیم کے موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کی مخالفت کے باعث ان کے نکات شامل نہ ہو سکے۔ بعد ازاں وزیر اعظم نے 27ویں آئینی ترمیم میں ایم کیو ایم کے نکات شامل کرنے کا وعدہ کیا اور اس پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔
ان کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے یقین دہانی کرائی تھی کہ اس بار وعدہ پورا کیا جائے گا۔
کابینہ اور پنجاب اسمبلی کی متفقہ حمایتمصطفیٰ کمال کے مطابق، 27ویں آئینی ترمیم سے قبل ہونے والے کابینہ اجلاس میں تمام وفاقی وزراء نے متفقہ طور پر اس ترمیم کی حمایت کی۔ اس کے علاوہ پنجاب اسمبلی نے بھی ایم کیو ایم کے تمام نکات کو متفقہ طور پر منظور کر کے وفاق کو بھجوا دیا، جہاں تمام جماعتیں بشمول پیپلز پارٹی موجود تھیں۔
قائمہ کمیٹی میں مزاحمت اور دھمکیوں کا الزامایم کیو ایم کے رہنما کا کہنا ہے کہ قانون و انصاف کی قائمہ کمیٹی میں 2 روزہ بحث کے دوران تمام جماعتوں نے حمایت کی، سوائے پیپلز پارٹی کے۔ پیپلز پارٹی کے ارکان نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اگر یہ ترمیم 27ویں ترمیم کے ساتھ پیش کی گئی تو وہ دیگر اہم آئینی معاملات پر ووٹ نہیں دیں گے۔
عوامی مسائل اور بدانتظامی پر شدید تشویشانہوں نے کہا کہ اگر یہ آئینی ترمیم منظور ہو جاتی تو پاکستان کے 25 کروڑ عوام کو اختیارات اور وسائل ان کی دہلیز پر مل سکتے تھے، جس سے گورننس بہتر ہو سکتی تھی۔
ان کے مطابق، آج ملک بھر میں بچے نالوں میں گر کر جانیں گنوا رہے ہیں، ٹریفک حادثات میں شہری ہلاک ہو رہے ہیں اور کوئی شہر ایسا نہیں جہاں سے روزانہ اموات کی خبریں نہ آ رہی ہوں۔
ماضی کے الزامات سے موجودہ ناکامیوں کو نہیں چھپایا جا سکتامصطفیٰ کمال نے شکوہ کیا کہ جب وہ موجودہ بدانتظامی پر سوال اٹھاتے ہیں تو اسے ماضی کے واقعات کا حوالہ دے کر خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے، جو ان کے بقول موجودہ حکومتی کارکردگی سے توجہ ہٹانے کا حربہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایم کیو ایم کے پیپلز پارٹی حکومت میں کے مطابق کیا کہ کے لیے
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم