پی ٹی آئی کیخلاف سندھ حکومت کا منظم پولیس کریک ڈاؤن، 124کارکن گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
کراچی سمیت سندھ میں رہنماؤں ، سینئر صوبائی قیادت ،منتخب نمائندوں اور کارکنان کے گھروں پرتابڑ توڑ چھاپے،متعدد کارکنان نامعلوم مقامات پر منتقل،8 فروری میں 7 دن باقی،حکمران خوفزدہ
کریک ڈاؤن کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ منصوبہ بند ی کے تحت کارروائی ہے، گرفتاریوں، دھمکیوں اور حکومتی جبرسے ڈرنے والے نہیں نہ جھکنے والے ہیں،تحریک انصاف کی شدید الفاظ میں مذمت
سندھ میں پی ٹی آئی کے خلاف سندھ حکومت کا منظم پولیس کریک ڈاؤن، 124 سے زائد کارکنان کی غیر قانونی گرفتار، پاکستان تحریک انصاف سندھ میں جاری حکومتی جبر اور منظم سیاسی کریک ڈاؤن کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ یکم فروری 2026 کو دوپہر 12 بجے تک موصول ہونے والی مصدقہ اطلاعات کے مطابق کراچی ڈویژن کے مختلف علاقوں میں پاکستان تحریک انصاف کی سینئر صوبائی قیادت، ڈویژنل عہدیداران، منتخب نمائندوں اور کارکنان کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، اب تک 93 کارکنان اور رہنماؤں کی گرفتاریاں کنفرم ہو چکی ہیں، جبکہ اطلاعات کے مطابق گرفتار شدگان کی مجموعی تعداد 124 سے تجاوز کر چکی ہے۔ متعدد کارکنان کو نامعلوم مقامات پر منتقل کیا گیا ہے اور کئی مقدمات میں 3-MPO کے احکامات بھی جاری کیے جا چکے ہیں، جو آئین، قانون اور بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔یہ کریک ڈاؤن کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منصوبہ بند کارروائی ہے، جو اس وقت تیز کی گئی ہے جب 8 فروری میں صرف 7 دن باقی ہیں, جس سے واضح ہے کہ حکمران خوفزدہ ہو چکے ہیں اور پرامن سیاسی جدوجہد کو طاقت کے زور پر دبانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔پاکستان تحریک انصاف واضح کرتی ہے کہ ہماری 8 فروری کی کال مکمل طور پر پُرامن سیاسی جدوجہد پر مشتمل ہے۔ گرفتاریوں، دھمکیوں اور حکومتی جبر کے باوجود ہم نہ ڈرنے والے ہیں اور نہ جھکنے والے کارکنان کی گرفتاریاں ہمارے عزم کو کمزور نہیں بلکہ مزید مضبوط کریں گی۔ہم خبردار کرتے ہیں کہ سیاسی اختلاف کو جرم بنانا، گھروں پر چھاپے، جبری گرفتاریاں اور نظربندی ملک کو مزید انتشار کی طرف لے جا رہی ہیں۔ اس تمام صورتحال کی مکمل ذمہ داری سندھ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عائد ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: تحریک انصاف کریک ڈاو ن
پڑھیں:
سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن
فائل فوٹو
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کا سفری الاؤنس بڑھا دیا گیا ہے۔
سندھ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس اسٹاف کی ہیلتھ انشورنس میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے، معیشت، سرمایہ کاری، مالیات، آبی وسائل سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے گٹکا اور مین پوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی منظوری دی ہے، گٹکا ماوا کیخلاف کارروائی نارکوٹکس کنٹرول کا محکمہ کرے گا، قانون سازی کر رہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو نقصان نہ ہو، قانون میں گندم کی ترسیل روکنے کی ممانعت ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل روکی ہوئی ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل کیلئے بارڈر سیل کیے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں، گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی، سندھ میں کچھ لوگوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرے گی، پاسکو سے بھی گندم خریدی جائے گی، ان اقدامات سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو بہت نقصان ہوگا، ناردرن بائی پاس پر 4 سو ایکڑ پر ٹرک اسٹینڈ بنانے جارہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہےان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مون سون کے موقع پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کے پی کے اور پنجاب میں بارشوں سے اموات ہوئی ہیں، حیرت کی بات ہے ہمارے میڈیا نے پر اس پر خاموشی رکھی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کر بارش سے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کے حالات خراب ہیں، ملک بھر میں بارشوں سے بہت تباہی ہوئی ہے، پنجاب میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہوئے، خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 20 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ کشمیر میں انتخابات چل رہے ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔