اسرائیل نے غزہ اور مصر کے درمیان رفح کراسنگ 2 سال بعد کھول دی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260203-01-19
غزہ (مانیٹرنگ ڈیسک ) اسرائیل نے 2سال بعد غزہ اور مصر کے درمیان رفح کراسنگ کھول دی۔ غزہ سے عرب میڈیا کے مطابق رفح کراسنگ سے مخصوص تعداد میں فلسطینیوں کو غزہ آنے جانے کی اجازت دی گئی۔ ادھر مصری سرحدی حکام نے کہا کہ رفح کراسنگ سے 24گھنٹوں کے دوران 150 فلسطینی غزہ سے مصر آسکتے ہیں۔ عرب میڈیا کے مطابق اس سے پہلے آج رفح کراسنگ سے صرف 50 فلسطینیوں کے آنے اور جانے کی اطلاعات تھیں، رفح کراسنگ یومیہ صرف 6 گھنٹے کے لیے کھولے جانے کی اطلاعات ہیں۔ عرب میڈیا کے مطابق اسرائیل نے مئی2024ء میں رفح کراسنگ کو آمد و رفت کے لیے بند کر دیا تھا۔علاوہ ازیں اسرائیل نے بین الاقوامی امدادی تنظیم ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) کو غزہ میں اپنی سرگرمیاں روکنے کا حکم دے دیا ہے۔اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز غزہ میں کام کرنے والے اپنے مقامی عملے کی مکمل فہرست فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کے باعث تنظیم کو علاقے میں کام کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اسرائیلی حکام کے مطابق ان کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں کام کرنے والی تمام امدادی تنظیموں کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کی تفصیلات فراہم کریں اور اس شرط پر عمل نہ کرنے کی صورت میں امدادی سرگرمیاں بند کر دی جائیں گی۔دوسری جانب ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے اسرائیلی فیصلے کو غزہ میں امدادی کام روکنے کا بہانہ قرار دیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اسرائیل انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں میں رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے اور امدادی اداروں کو ناممکن فیصلوں پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ایم ایس ایف کے مطابق اس اقدام سے غزہ میں پہلے سے سنگین انسانی بحران مزید شدت اختیار کرسکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسرائیل نے کے مطابق
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔