امریکی بحری بیڑا ایران کی جانب : ٹرمپ کی مذاکرات میں ناکامی پر سنگین نتائج کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق انتہائی سخت اور جارحانہ لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی بحری افواج خطے میں متحرک ہو چکی ہیں اور اگر مذاکرات کسی معاہدے پر منتج نہ ہوئے تو صورتحال نہایت خطرناک رخ اختیار کر سکتی ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، تاہم ان کی اولین ترجیح اب بھی سفارتکاری اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل ہے۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کے ساتھ بات چیت ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے ۔ آنے والے دن فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جمعہ کے روز امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکوف ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات کریں گے، جسے واشنگٹن میں نہایت اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ اگر سفارتی راستہ کامیاب ہو گیا تو خطہ ایک بڑے تصادم سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو اس کے نتائج نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے اپنی گفتگو میں عالمی امور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اس وقت دنیا کے کئی تنازعات میں کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ کو ختم کرانے کے لیے واشنگٹن سرگرم ہے اور اس ضمن میں وہ مستقبل قریب میں مثبت پیش رفت کی توقع رکھتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے مطابق اس جنگ کے باعث ہر ماہ ہزاروں انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں، جو عالمی ضمیر کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی کے تعلقات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان شدید نفرت اور عدم اعتماد نہایت افسوسناک ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ امریکا اپنی کوششوں کے نتیجے میں اب تک دنیا میں 8 بڑی جنگیں رکوا چکا ہے ۔ ٹرمپ کے مطابق یورپی ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں۔
اپنی داخلی پالیسیوں پر بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ امریکا نے اپنی صنعتوں کے لیے اہم معدنیات کا اسٹریٹجک ذخیرہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت امریکی بینک 12 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات امریکی معیشت کو مضبوط بنانے اور بیرونی انحصار کم کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکی سرحدیں اب مکمل طور پر محفوظ ہیں اور غیر قانونی امیگریشن پر قابو پا لیا گیا ہے۔
ایران کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ کسی معاہدے تک پہنچنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ اگر ایران نے مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے میں سنجیدگی نہ دکھائی تو نتائج انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اپنی گفتگو کے اختتام پر یہ بھی کہا کہ ان کا جیفری ایپسٹین اسکینڈل سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ، اس معاملے میں ان پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کرتے ہوئے کہ امریکا کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔
ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔