متحدہ عرب امارات نے پاکستان کا 2 ارب ڈالر قرض ایک ماہ کیلیے رول اوور کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
متحدہ عرب امارات نے پاکستان کے لیے 2 ارب ڈالر کے میچور قرض کو ایک ماہ کے لیے موجودہ شرح سود پر رول اوور کر دیا۔
میڈیا رپورٹس میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ قرض پاکستان کے مجموعی 16 ارب ڈالر کے زرِمبادلہ ذخائر کا حصہ ہے، جس پر پاکستان کو سالانہ تقریباً 13 کروڑ ڈالر سود ادا کرنا پڑتا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کو بیرونی مالی دباؤ اور زرِمبادلہ کے استحکام جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ متحدہ عرب امارات نے قرض کو صرف ایک ماہ کے لیے رول اوور کیا ہے، اس سے قبل یہ مدت عام طور پر ایک سال ہوا کرتی تھی۔ وفاقی حکومت اور اسٹیٹ بینک سے وابستہ ذرائع کے مطابق یو اے ای نے ایک ایک ارب ڈالر کے 2 الگ قرضوں کو ایک ماہ کے لیے توسیع دی ہے، جن میں سے ایک قرض جنوری کے وسط اور دوسرا جنوری کے آخر میں میچور ہونا تھا۔
حکام کے مطابق قرض کی مدت اور شرح سود پر مزید بات چیت کے لیے اس عارضی توسیع کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے گورنر نے دسمبر میں کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری اور عالمی سطح پر شرح سود میں کمی کا حوالہ دیتے ہوئے یو اے ای سے درخواست کی تھی کہ قرض کو کم از کم 2 سال کے لیے 3 فیصد شرح سود پر رول اوور کیا جائے۔ بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اماراتی صدر سے قرض کی مدت بڑھانے کی باضابطہ درخواست کی تھی۔
ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی کوشش ہے کہ زرِمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات کے ساتھ بہتر مالی شرائط طے کی جائیں۔ اگر قرض کی واپسی کا بوجھ فوری طور پر برداشت کرنا پڑا تو اس سے پیدا ہونے والا مالی خلا دیگر ذرائع سے پورا کرنا ہوگا، جو معیشت کے لیے ایک نیا چیلنج بن سکتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں قرض کی مدت اور مستقبل کی حکمت عملی سے متعلق صورتحال مزید واضح ہو جائے گی۔
اسٹیٹ بینک کے ذرائع کے مطابق یو اے ای نے پہلی مرتبہ 2018ء میں پاکستان کو 2 ارب ڈالر کا قرض 3 فیصد شرح سود پر فراہم کیا تھا، جو اب تک مسلسل رول اوور ہوتا آ رہا ہے۔ بعد ازاں 2023ء میں ایک ارب ڈالر کا اضافی قرض بھی دیا گیا، تاہم اس پر شرح سود بڑھا کر 6 اعشاریہ 5 فیصد کر دی گئی۔
بیرونی شعبے کے ماہرین کے مطابق پاکستان کے مالی استحکام کا انحصار موجودہ قرضوں کے رول اوور، آئی ایم ایف پروگرام اور عالمی مالیاتی اداروں سے نئے وسائل کے حصول پر ہے۔
واضح رہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ 7 ارب ڈالر کے معاہدے کے تحت پروگرام کے اختتام تک متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور چین نے اسٹیٹ بینک میں مجموعی طور پر 12.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: متحدہ عرب امارات ارب ڈالر کے اسٹیٹ بینک پاکستان کے کے مطابق رول اوور ذرائع کے ایک ماہ قرض کی کے لیے گیا ہے
پڑھیں:
بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
دنیا کی سب سے بڑی اور مقبول ترین کرپٹو کرنسی ’بٹ کوائن‘ کی قیمت میں اچانک تاریخی گراوٹ دیکھی گئی ہے، جس کے بعد یہ 70 ہزار ڈالر کی نفسیاتی سطح سے بھی نیچے گر گیا ہے۔
مارکیٹ رپورٹ کے مطابق اس اچانک کمی کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرپٹو مارکیٹ سے تقریباً 80 کروڑ (800 ملین) ڈالر مالیت کی لیوریجڈ ٹریڈنگ پوزیشنز یکدم ختم (لیکویڈیٹ) ہو گئی ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کو شدید ترین نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
قیمتوں میں گراوٹ اور مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں کمیمارکیٹ کے تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق منگل کو ’بٹ کوائن‘ کی قیمت گر کر تقریباً 69,400 ڈالر کی کم ترین سطح پرآگئی، جو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4.4 فیصد کی نمایاں ترین کمی کو ظاہر کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور، بٹ کوائن کی قیمت پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں؟
مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے لحاظ سے دنیا کی سرفہرست 10 کرپٹو کرنسیوں میں یہ سب سے بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ بٹ کوائن کے اس زوال کے اثرات پوری کرپٹو مارکیٹ پر مرتب ہوئے، جس کے باعث مجموعی ڈیجیٹل مارکیٹ ویلیو 3 فیصد سے زیادہ کمی کے بعد تقریباً 2.47 ٹریلین ڈالر تک نیچے آگئی ہے۔
ٹریڈرزکے کروڑوں ڈالر ڈوب گئےکرپٹو مارکیٹ کے اعداد و شمار فراہم کرنے والے معتبر عالمی ادارے ’کوائن گلاس‘ کے مطابق حالیہ فروخت کے شدید دباؤ کی وجہ سے 24 گھنٹوں میں 800 ملین ڈالر کی پوزیشنز مارکیٹ سے آؤٹ ہوئیں۔
ڈیٹا کے مطابق لانگ پوزیشنزمیں تقریباً 700 ملین ڈالر (قیمت بڑھنے کی امید پر لگائے گئے سودے) جبکہ شارٹ پوزیشنز میں تقریباً 100 ملین ڈالر (قیمت گرنے کی امید پر لگائے گئے سودے) شامل ہیں۔
سب سے زیادہ نقصان بٹ کوائن سے منسلک ٹریڈرز کو برداشت کرنا پڑا، جن کی تقریباً 500 ملین ڈالر مالیت کی پوزیشنز ڈوب گئیں، جو کہ مجموعی مارکیٹ لیکویڈیشنز کا سب سے بڑا حصہ ہے۔
’ای ٹی ایف‘ آؤٹ فلو دباؤ میں اضافہکرپٹو کرنسی سے وابستہ مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق اس بڑی فروخت کی سب سے بڑی وجہ اسپاٹ بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈ فنڈ (ای ٹی ایف) سے سرمایہ کاروں کا مسلسل پیسہ نکالنا ہے۔
مزید پڑھیں:مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران بٹ کوائن مضبوط، قیمت 80 ہزار ڈالر تک پہنچنے کا امکان
اسپاٹ بٹ کوائن ای ٹی ایف سے مسلسل 11 تجارتی سیشنز سے سرمایہ کا اخراج (نیٹ آؤٹ فلو) ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ اسپاٹ ’ایتھیریم ای ٹی ایف‘ سے بھی مسلسل 15 سیشنز سے سرمایہ نکالا جا رہا ہے۔
کرپٹو تجزیہ کار ’ایمبر سی این‘ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جب سے اسپاٹ ای ٹی ایف مصنوعات کا آغاز ہوا ہے، بٹ کوائن اور ایتھیریم کی قیمتیں ای ٹی ایف فنڈز کے بہاؤ سے بہت زیادہ منسلک ہو چکی ہیں، یہی وجہ ہے کہ فنڈز کے اخراج کا براہِ راست اور فوری اثر قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔
ایتھیریم مارکیٹ میں نسبتاً مستحکمدلچسپ بات یہ ہے کہ اس شدید مندی کے دوران دوسری بڑی کرپٹو کرنسی ’ایتھیریم‘ نے مارکیٹ میں نسبتاً بہتر اور مستحکم کارکردگی دکھائی۔ ایتھیریم کی قیمت تقریباً 1,970 ڈالر کے قریب برقرار رہی اور اس میں بٹ کوائن کے مقابلے میں کم اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔
ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اگر ای ٹی ایف سے سرمایہ کے اخراج کا یہ سلسلہ نہ رکا تو کرپٹو مارکیٹ پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی سرمایہ کار آنے والے چند دنوں میں مارکیٹ کے رجحان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اخراج ای ٹی ایف بٹ کوائن ڈالر سرمایہ کاروں عالمی سرمایہ کرپٹو مارکیٹ گراوٹ ماہرین معیشت ملین ڈالر