data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

متحدہ عرب امارات نے پاکستان کے لیے 2 ارب ڈالر کے میچور قرض کو ایک ماہ کے لیے موجودہ شرح سود پر رول اوور کر دیا۔

میڈیا رپورٹس میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ قرض پاکستان کے مجموعی 16 ارب ڈالر کے زرِمبادلہ ذخائر کا حصہ ہے، جس پر پاکستان کو سالانہ تقریباً 13 کروڑ ڈالر سود ادا کرنا پڑتا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کو بیرونی مالی دباؤ اور زرِمبادلہ کے استحکام جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ متحدہ عرب امارات نے قرض کو صرف ایک ماہ کے لیے رول اوور کیا ہے، اس سے قبل یہ مدت عام طور پر ایک سال ہوا کرتی تھی۔ وفاقی حکومت اور اسٹیٹ بینک سے وابستہ ذرائع کے مطابق یو اے ای نے ایک ایک ارب ڈالر کے 2 الگ قرضوں کو  ایک ماہ کے لیے توسیع دی ہے، جن میں سے ایک قرض جنوری کے وسط اور دوسرا جنوری کے آخر میں میچور ہونا تھا۔

حکام کے مطابق قرض کی مدت اور شرح سود پر مزید بات چیت کے لیے اس عارضی توسیع کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے گورنر نے دسمبر میں کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری اور عالمی سطح پر شرح سود میں کمی کا حوالہ دیتے ہوئے یو اے ای سے درخواست کی تھی کہ قرض کو کم از کم 2 سال کے لیے 3 فیصد شرح سود پر رول اوور کیا جائے۔ بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اماراتی صدر سے قرض کی مدت بڑھانے کی باضابطہ درخواست کی تھی۔

ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی کوشش ہے کہ زرِمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات کے ساتھ بہتر مالی شرائط طے کی جائیں۔ اگر قرض کی واپسی کا بوجھ فوری طور پر برداشت کرنا پڑا تو اس سے پیدا ہونے والا مالی خلا دیگر ذرائع سے پورا کرنا ہوگا، جو معیشت کے لیے ایک نیا چیلنج بن سکتا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں قرض کی مدت اور مستقبل کی حکمت عملی سے متعلق صورتحال مزید واضح ہو جائے گی۔

اسٹیٹ بینک کے ذرائع کے مطابق یو اے ای نے پہلی مرتبہ 2018ء  میں پاکستان کو 2 ارب ڈالر کا قرض 3 فیصد شرح سود پر فراہم کیا تھا، جو اب تک مسلسل رول اوور ہوتا آ رہا ہے۔ بعد ازاں 2023ء  میں ایک ارب ڈالر کا اضافی قرض بھی دیا گیا، تاہم اس پر شرح سود بڑھا کر 6 اعشاریہ 5 فیصد کر دی گئی۔

بیرونی شعبے کے ماہرین کے مطابق پاکستان کے مالی استحکام کا انحصار موجودہ قرضوں کے رول اوور، آئی ایم ایف پروگرام اور عالمی مالیاتی اداروں سے نئے وسائل کے حصول پر ہے۔

واضح رہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ 7 ارب ڈالر کے معاہدے کے تحت پروگرام کے اختتام تک متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور چین نے اسٹیٹ بینک میں مجموعی طور پر 12.

5 ارب ڈالر کے کیش ڈیپازٹس برقرار رکھنے کا وعدہ کر رکھا ہے، جو پاکستان کے لیے ایک اہم مالی سہارا تصور کیا جا رہا ہے۔

تنویر انجم

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: متحدہ عرب امارات ارب ڈالر کے اسٹیٹ بینک پاکستان کے کے مطابق رول اوور ذرائع کے ایک ماہ قرض کی کے لیے گیا ہے

پڑھیں:

چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ

اسلام آباد:

حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔

سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔

دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔

سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔

وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی