ٹوبہ ٹیک سنگھ میں تیز رفتار بس کی رکشہ کو ٹکر، تین خواتین سمیت 6 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نواحی علاقے رجانہ میں افسوسناک ٹریفک حادثے کے نتیجے میں تین خواتین سمیت چھ افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ تین افراد شدید زخمی ہو گئے۔
حادثہ سمندری روڈ پر اس وقت پیش آیا جب فیصل آباد سے آنے والی تیز رفتار مسافر بس نے ایک رکشہ کو زور دار ٹکر مار دی۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق ٹکر اتنی شدید تھی کہ رکشہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا، جبکہ حادثے کے فوراً بعد بس کا ڈرائیور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں جائے حادثہ پر پہنچ گئیں۔
ریسکیو 1122 کے مطابق حادثے میں رکشہ سوار تین خواتین سمیت چھ افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے، جبکہ تین افراد کو شدید زخمی حالت میں قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔ اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے اور انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
پولیس نے واقعے کا نوٹس لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں جبکہ فرار ہونے والے بس ڈرائیور کی تلاش جاری ہے۔ حادثے کے باعث علاقے میں سوگ کی فضا چھا گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔