سینیئر اداکار راشد محمود یوٹیوبرز پر برس پڑے، قانونی کارروائی کی دھمکی دیدی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
پاکستان ٹیلی وژن کے سینیئر اداکار راشد محمود نے حال ہی میں ایک ویڈیو کے ذریعے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر ان کے انٹرویوز کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے پر برہمی کا اظہار کیا ہے اور قانونی کارروائی کی دھمکی بھی دی ہے۔
راشد محمود نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ میرے پاس کوئی نہ آئے مجھے انٹرویو اور آپ کی مدد کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ آپ لوگ اپنے ویوز کے لیے میری باتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں اور ہیڈنگز ایسی بناتے ہیں جو حقیقت سے ہٹ کر ہیں۔ آئندہ کسی بھی انٹرویو کے لیے میرے پاس نہ آئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آپ مجھے یتیم یا فقیر دکھا کر پیش کر رہے ہیں، جس سے میرے وقار کو نقصان پہنچا ہے اور میں اس معاملے پر بہت پریشان ہوں۔ براہ کرم مجھے فون نہ کریں، مجھے آپ سے کسی قسم کی مدد نہیں چاہیے۔ اگر آئندہ کوئی اس طرح کی کوشش کرے گا تو میں اس پر کیس کر دوں گا۔
گزشتہ دنوں انہوں نے اپنی صحت کے حوالے سے تفصیلات شیئر کی تھیں اور مداحوں سے دعاؤں کی اپیل کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں ایک محنت کش انسان ہوں اور اپنے خاندان کی کفالت کے لیے محنت کرتا ہوں تب ہی میرا گھر چلتا ہے۔ میں آپ سب سے دعا کی درخواست کرتا ہوں براہِ کرم میری صحت کے لیے دعا کریں۔ اگر میں صحتیاب ہو گیا تو میں اپنے خاندان کے لیے کما سکوں گا‘۔
یہ بھی پڑھیں: صحتیاب ہوا تو خاندان کے لیے کما سکوں گا، سینیئر اداکار راشد محمود کی مداحوں سے دعا کی اپیل
واضح رہے کہ راشد محمود کا شمار پاکستان کی فلم اور ٹی وی انڈسٹری کے سینیئر اداکاروں میں ہوتا ہے، اداکار پی ٹی وی کے ساتھ ایک طویل عرصے تک وابستہ رہے، ان کے مقبول ڈراموں میں شاہین، کاجل گھر، مرزا غالب، ریاست، محبت روٹھ جائے تو، ضرار اور دیگر شامل ہیں۔ وہ زیادہ تر منفی کردار ادا کرنے کے حوالے سے مشہور ہیں۔ راشد محمود ان مشہور شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جو سماجی، سیاسی اور میڈیا سے متعلق معاملات پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
راشد محمود راشد محمود صحت راشد محمود ویڈیو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: راشد محمود ویڈیو سینیئر اداکار کے لیے
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔