پیٹ کمنز کی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سے دستبرداری کی اصل وجہ سامنے آ گئی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
آسٹریلوی ٹیسٹ اور ون ڈے کپتان پیٹ کمنز نے انکشاف کیا ہے کہ آنے والے 18 ماہ کے انتہائی مصروف شیڈول میں زیادہ سے زیادہ ٹیسٹ میچز کھیلنے کی خواہش ہی ان کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سے باہر ہونے کی بڑی وجہ بنی۔
کرکٹ آسٹریلیا کے مطابق کمنز نے کہا کہ وہ خود کو بہتر محسوس کر رہے ہیں، مگر ورلڈکپ میں شرکت نہ کرنا بدقسمتی ہے۔
پیٹ کمنز کا کہنا تھا کہ ایڈیلیڈ ٹیسٹ کے بعد 4 سے 8 ہفتوں کی بحالی متوقع تھی، تاہم تازہ اسکین کے بعد ڈاکٹروں نے مزید آرام کا مشورہ دیا۔ کمر کی انجری کے باعث وہ طویل المدتی فٹنس کو ترجیح دینا چاہتے ہیں تاکہ مستقبل میں مسائل سے بچا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ اگست سے شروع ہونے والا آسٹریلیا کا شیڈول غیر معمولی طور پر سخت ہے، جس میں بنگلا دیش کے خلاف ہوم ٹیسٹ، جنوبی افریقا کا دورہ، نیوزی لینڈ سیریز، بھارت کا پانچ ٹیسٹ کا دورہ، ایشز، ون ڈے ورلڈکپ اور ممکنہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ فائنل شامل ہیں۔
پیٹ کمنز نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ آنے والے 18 ماہ انجری کے پیچھے بھاگتے گزریں، اس لیے بروقت احتیاط ضروری ہے۔ واضح رہے کہ وہ پاکستان کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں بھی شامل نہیں تھے اور سری لنکا و بھارت میں ہونے والے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کیلئے اسکواڈ سے باہر کر دیے گئے ہیں، جہاں ان کی جگہ فاسٹ بولر بین ڈوارشوس کو شامل کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
جاپان نے شدید گرمی میں کام کرنے والے افراد کے لیے ایک منفرد ٹھنڈا کرنے والا کیبن متعارف کرا دیا ہے جسے ‘انسانی ریفریجریٹر’ کہا جا رہا ہے۔
یہ آلہ چند منٹ میں جسم کا درجہ حرارت کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور خاص طور پر تعمیراتی شعبے، فیکٹریوں اور کھلے مقامات پر کام کرنے والے افراد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں بڑھتی گرمی انسانی دماغ پر کیا اثر ڈال رہی ہے؟
جاپانی کمپنیوں کی تیار کردہ اس مشین کو ‘دو ہائیمون باکس’ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک چھوٹے کمرے یا کیبن کی طرح ہے جس میں ایک شخص داخل ہوکر گرمی سے فوری راحت حاصل کرسکتا ہے۔ اس کے اندر درجہ حرارت تقریباً 15 ڈگری سینٹی گریڈ رکھا جاتا ہے جبکہ ٹھنڈی ہوا سر، گردن، کندھوں اور کمر کی جانب پھینکی جاتی ہے۔
کمپنی کے مطابق چند منٹ کے استعمال سے جسم کو ٹھنڈک کا احساس ہونا شروع ہوجاتا ہے، جبکہ تقریباً 10 منٹ تک اس میں رہنے سے شدید گرمی کے اثرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ نظام پورے کمرے کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے صرف انسان کے جسم کو ٹھنڈا کرنے پر توجہ دیتا ہے، جس سے توانائی کی بچت بھی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ریفریجریٹر سے پہلے پانی ٹھنڈا کرنے کی سعودی صحرائی ایجاد کیا تھی؟
یہ ایجاد ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جاپان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں شدید گرمی کی لہریں بڑھ رہی ہیں اور بیرونی کام کرنے والے افراد کو گرمی سے متعلق مسائل کا سامنا ہے۔
‘دو ہائیمون باکس’ کو کاروباری اداروں کے لیے فروخت کیا جا رہا ہے اور اسے فیکٹریوں، تعمیراتی مقامات اور دیگر گرم ماحول والی جگہوں پر استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انسانی فریج جاپان گرمی