پاکستان اور ازبکستان کا تجارت، سرمایہ کاری اور رابطہ کاری تیز کرنے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
پاکستان اور ازبکستان کا تجارت، سرمایہ کاری اور رابطہ کاری تیز کرنے پر اتفاق WhatsAppFacebookTwitter 0 3 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) پاکستان اور ازبکستان نے دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی رابطہ کاری کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔ اس عزم کا اظہار وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور ازبکستان کے وزیر تجارت و سرمایہ کاری لذیز قدرتوف کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی اہم ملاقات کے دوران کیا گیا۔
ملاقات میں پاکستان–ازبکستان اقتصادی تعاون کو عملی شکل دینے، تجارتی رکاوٹوں کے خاتمے اور ترجیحی تجارتی فریم ورک کو وسعت دینے پر زور دیا گیا۔ فریقین نے گزشتہ سال دوطرفہ تجارت میں 10 فیصد اضافے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے بتایا کہ اس دوران ازبکستان کی پاکستان سے درآمدات میں 12 فیصد جبکہ برآمدات میں 8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارت کا ہدف دو ارب ڈالر مقرر کرنے پر اتفاق کیا۔ اس مقصد کے لیے ترجیحی تجارتی فریم ورک کے تحت مصنوعات کی فہرست 34 سے بڑھا کر 92 کرنے میں پیش رفت پر بھی اطمینان کا اظہار کیا گیا۔
ملاقات میں بتایا گیا کہ اس وقت ازبکستان میں 228 پاکستانی کمپنیاں فعال ہیں جبکہ گزشتہ سال 80 نئی پاکستانی کمپنیوں کی رجسٹریشن عمل میں آئی، جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے کاروباری اعتماد کا ثبوت ہے۔
فضائی رابطہ کاری کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست پروازوں میں نمایاں اضافے پر بھی بات چیت ہوئی۔ اسلام آباد اور لاہور سے ہفتہ وار پروازیں جاری ہیں جبکہ کراچی سے براہِ راست پروازیں شروع کرنے کے منصوبے پر بھی غور کیا گیا۔
فریقین نے متبادل تجارتی راستوں، شمالی کوریڈور کے استعمال، اور پاکستان، چین اور وسطی ایشیا کے مابین “گرین کوریڈور” کی تجویز پر مشاورت کی۔ اس کے علاوہ کان کنی، معدنیات، خوراک اور زراعت کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں پر اتفاق کیا گیا۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں ممالک نے قریبی فالو اپ، بزنس ٹو بزنس (B2B) روابط مضبوط بنانے اور اقتصادی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربیورو کریسی کے لیے بڑی اور اچھی خبر کی تفصیلات اور نوٹیفکیشن سب نیوز پر بیورو کریسی کے لیے بڑی اور اچھی خبر کی تفصیلات اور نوٹیفکیشن سب نیوز پر پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان بحری تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق پاکستان اور کینیڈا کا تجارت، کان کنی اور زرعی شعبہ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ہمدردی یا اخلاقیات قانون کی جگہ نہیں لے سکتے، ججز انصاف سے فیصلے کریں، وفاقی آئینی عدالت ٹرمپ انتظامیہ کی پاکستان سمیت 75 ممالک کے امیگرنٹ ویزوں کی پروسیسنگ معطلی کے خلاف وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر جاپانی سفارت خانے کے زیرِ اہتمام پشاور میں جاپانی کیلنڈرز 2026 کی نمائش، پاکستان-جاپان ثقافتی تعلقات کو فروغCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاکستان اور ا اور ازبکستان دونوں ممالک سرمایہ کاری رابطہ کاری کے درمیان پر اتفاق کیا گیا سب نیوز کے لیے
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :