15 شعبان المعظم کو گلگت اور سکردو میں عام تعطیل کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
گلگت اور سکردو کے ڈپٹی کمشنرز کی جانب سے جاری الگ الگ نوٹیفکیشن کے مطابق 4 فروری کو گلگت اور سکردو میں عام تعطیل ہو گی جبکہ شبِ برات کے موقع پر اختیاری تعطیل بھی دی گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ 15 شعبان المعظم کو حضرت امام مہدی کی ولادت باسعادت کے موقع پر گلگت اور سکردو میں عام تعطیل کا اعلان کر دیا گیا۔ گلگت اور سکردو کے ڈپٹی کمشنرز کی جانب سے جاری الگ الگ نوٹیفکیشن کے مطابق 4 فروری کو گلگت اور سکردو میں عام تعطیل ہو گی جبکہ شبِ برات کے موقع پر اختیاری تعطیل بھی دی گئی ہے۔ تعطیل کا اطلاق ضلع گلگت میں واقع تمام سرکاری دفاتر، تعلیمی اداروں اور متعلقہ محکموں پر ہو گا، البتہ ایمرجنسی سروسز، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور دیگر لازمی خدمات معمول کے مطابق انجام دیتے رہیں گے۔ ادھر سکردو میں بھی عام تعطیل کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گلگت اور سکردو میں عام تعطیل تعطیل کا
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔