آئینی عدالت کی پسند کی شادی کرنے والی خاتون کو شوہر کیساتھ جانے کی اجازت
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
آئینی عدالت کی پسند کی شادی کرنے والی خاتون کو شوہر کیساتھ جانے کی اجازت WhatsAppFacebookTwitter 0 3 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) وفاقی آئینی عدالت نے پسند کی شادی کرنے والی خاتون کو شوہر کیساتھ جانے کی اجازت دیدی۔
عدالت نے لڑکی کے والدین کو مبینہ جعلی نکاح پر متعلقہ فورم سے رجوع کی ہدایت کی، لڑکی نے آئینی عدالت میں مؤقف اپنایا کہ مجھے اغواء نہیں کیا گیا مرضی سے سے شادی کی۔
والدین کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ بچی کی عمر بارہ سال ہے، کم سن بچی کا نکاح نہیں ہو سکتا۔
جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ برتھ سرٹیفکیٹ اور ب فارم 10 سال کی تاخیر سے لیا گیا،لڑکی 12 سال کسی طرح سے نہیں لگتی، لڑکی نے مجسٹریٹ کے روبرو سیکشن 164 کا بیان دیا، لڑکی کہہ رہی ہے وہ اغواء نہیں ہوئی، لڑکی خود کو بالغ بتا رہی ہے۔
جسٹس حسن رضوی نے کہا کہ لڑکی کی شادی کو چھ ماہ ہو چکے ہے، لڑکی نے شادی سے قبل اسلام قبول کیا، آئینی عدالت نے پسند کی شادی کا کیس نمٹا دیا۔
جسٹس حسن رضوی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروفاقی آئینی عدالت نے کوئٹہ بلدیاتی انتخابات و حلقہ بندیوں سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا وفاقی آئینی عدالت نے کوئٹہ بلدیاتی انتخابات و حلقہ بندیوں سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا پاکستان اور ازبکستان کا تجارت، سرمایہ کاری اور رابطہ کاری تیز کرنے پر اتفاق بیورو کریسی کے لیے بڑی اور اچھی خبر کی تفصیلات اور نوٹیفکیشن سب نیوز پر پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان بحری تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق پاکستان اور کینیڈا کا تجارت، کان کنی اور زرعی شعبہ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ہمدردی یا اخلاقیات قانون کی جگہ نہیں لے سکتے، ججز انصاف سے فیصلے کریں، وفاقی آئینی عدالتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ا ئینی عدالت پسند کی شادی
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔