ٹرمپ انتظامیہ کی پاکستان سمیت 75 ممالک کے امیگرنٹ ویزوں کی پروسیسنگ معطلی کے خلاف وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
ٹرمپ انتظامیہ کی پاکستان سمیت 75 ممالک کے امیگرنٹ ویزوں کی پروسیسنگ معطلی کے خلاف وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر WhatsAppFacebookTwitter 0 3 February, 2026 سب نیوز
نیویارک ( شاہ خالد خان): ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے 21 جنوری 2026 سے نافذ العمل 75 ممالک کے شہریوں کے امیگرنٹ ویزوں کی جاری کرنے پر عائد پابندی کو امریکی عدالت میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔ شہری حقوق کی تنظیموں، قانونی امدادی گروپس اور متاثرہ امریکی شہریوں نے منہٹن کی جنوبی ضلع وفاقی عدالت (U.
یہ مقدمہ نیشنل امیگریشن لا سینٹر (NILC)، ڈیموکریسی فارورڈ، دی لیگل ایڈ سوسائٹی، ویسٹرن سینٹر آن لا اینڈ پاورٹی، سینٹر فار کانسٹی ٹیوشنل رائٹس اور دیگر تنظیموں کی جانب سے دائر کیا گیا ہے۔ مقدمے میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ یہ پالیسی غیر قانونی قومی بنیاد پر امیگریشن پر پابندی ہے جو دہائیوں پرانے مستحکم امیگریشن قوانین کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔ یہ اقدام خاندانوں کو الگ کر رہا ہے اور محنتی افراد کو امریکہ آنے سے روک رہا ہے۔
محکمہ خارجہ نے 14 جنوری 2026 کو اعلان کیا تھا کہ 21 جنوری سے امیگرنٹ ویزوں (گرین کارڈ) کی جاری کرنے کا عمل ان 75 ممالک کے شہریوں کے لیے معطل کر دیا جائے گا جن کے شہریوں کو “پبلک چارج” (امریکی ویلفیئر سسٹم پر انحصار) کا زیادہ خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ پابندی صرف امیگرنٹ ویزوں پر ہے، نان امیگرنٹ ویزوں (جیسے ٹورسٹ، بزنس یا سٹوڈنٹ ویزوں) پر نہیں۔
متاثرہ ممالک کی فہرست میں پاکستان، افغانستان، بنگلادیش، الجزائر، البانیہ، آرمینیا، آذربائیجان، بیلاروس، بھوٹان، بوسنیا اینڈ ہرزیگووینا، برازیل، کیوبا، ایران، عراق، نائیجیریا، روس، صومالیہ، سوڈان، شام، تھائی لینڈ اور دیگر شامل ہیں
انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدام امریکی ٹیکس پیئرز کے وسائل کے تحفظ کے لیے ہے، جبکہ مقدمہ دائر کرنے والے اسے نسل پرستانہ اور غیر قانونی قرار دے رہے ہیں۔ مقدمے میں فوری طور پر پالیسی روکنے کے لیے عدالت سے انجیکشن (روک تھام کا حکم) مانگا گیا ہے۔
یہ مقدمہ ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسیوں کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی قانونی چیلنج ہے۔ مقدمے کی تازہ ترین اپ ڈیٹ کے مطابق، یہ 2 فروری 2026 کو دائر کیا گیا اور ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔ کوئی حتمی فیصلہ نہیں آیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجاپانی سفارت خانے کے زیرِ اہتمام پشاور میں جاپانی کیلنڈرز 2026 کی نمائش، پاکستان-جاپان ثقافتی تعلقات کو فروغ جاپانی سفارت خانے کے زیرِ اہتمام پشاور میں جاپانی کیلنڈرز 2026 کی نمائش، پاکستان-جاپان ثقافتی تعلقات کو فروغ بلوچستان میں بڑے پیمانے پر فوج تعینات کرنے کی ضرورت ہے، خواجہ آصف اسلام آباد میں روایتی اسٹیمپ پیپر کی جگہ ای-سٹیمپ کا کامیاب اجراء وفاقی وزیر مواصلات علیم خان نے سینیٹر پلوشہ خان سے معافی مانگ لی بلوچستان حملے: چین کا پاکستان کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان تھائی سفارت خانے میں ملکہ سریکیت کی 100 ویں برسی پر دعا اور مدح سرائیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ٹرمپ انتظامیہ کی امیگرنٹ ویزوں ممالک کے کے خلاف کے لیے گیا ہے
پڑھیں:
پاکستان میں سریے کی قیمت آج 23 جولائی 2026، تازہ ریٹس جاری
اسلام آباد: پاکستان میں سریے کی قیمت جمعرات 23 جولائی 2026 کو مجموعی طور پر مستحکم رہی، تاہم مختلف برانڈز اور گریڈز کے لحاظ سے معمولی فرق دیکھا گیا۔ تعمیراتی شعبے سے وابستہ افراد کے لیے جاری کردہ تازہ مارکیٹ اپ ڈیٹ کے مطابق ملک بھر میں سریے کی قیمت 258 روپے سے 265 روپے فی کلوگرام کے درمیان برقرار ہے۔
تعمیراتی ماہرین کے مطابق رہائشی اور کمرشل منصوبوں میں سب سے زیادہ گریڈ 40 اور گریڈ 60 سریا استعمال کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ مضبوطی اور معیار کے لحاظ سے موزوں تصور کیے جاتے ہیں۔
پاکستان میں سریے کے تازہ ریٹس
سریے کا گریڈ قیمت (روپے فی کلوگرام)
گریڈ 40 260 روپے
گریڈ 60 265 روپے
مارکیٹ ریٹ 258 سے 265 روپے
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سریے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کئی عوامل سے متاثر ہوتا ہے، جن میں خام مال کی قیمت، بجلی اور گیس کے نرخ، ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور تعمیراتی شعبے کی مجموعی طلب شامل ہیں۔
انہوں نے خریداروں اور بلڈرز کو مشورہ دیا ہے کہ بڑی مقدار میں سریا خریدنے سے قبل مقامی ڈیلرز سے تازہ نرخ ضرور معلوم کریں، کیونکہ مختلف شہروں، برانڈز اور مینوفیکچررز کے لحاظ سے قیمتوں میں معمولی فرق ہو سکتا ہے۔
تعمیراتی صنعت سے وابستہ ماہرین کے مطابق اگر خام مال یا توانائی کی قیمتوں میں نمایاں تبدیلی آتی ہے تو آئندہ دنوں میں پاکستان میں سریے کی قیمت بھی متاثر ہو سکتی ہے، اس لیے مارکیٹ کی صورتحال پر نظر رکھنا ضروری ہے۔