امیگرنٹ ویزوں کی پروسیسنگ معطل کرنے کا فیصلہ امریکی عدالت میں چیلنج
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
ٹرمپ انتظامیہ کا پاکستان سمیت 75 ممالک کے امیگرنٹ ویزوں کی پروسیسنگ معطل کرنے کا فیصلہ امریکی عدالت میں چیلنج کر دیا گیا۔
شہری حقوق کی تنظیموں کے گروپ نے امریکی محکمۂ خارجہ کے خلاف نیویارک کی عدالت میں مقدمہ دائر کیا ہے۔
مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی امیگریشن قانون کی دہائیوں پر محیط مستحکم بنیاد کو سخت نقصان پہنچا رہی ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی ویزہ پالیسی روکنے کے لیے عدالت حکم جاری کرے۔
واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کا امیگرنٹ ویزوں کی پراسیسنگ روکنے کا فیصلہ 21 جنوری سے نافذ العمل ہوا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ٹرمپ انتظامیہ
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔