امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے سخت اور تنبیہی بیان کے بعد ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے حوالے سے امید کا اظہار کیا ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود سفارتی حل کی گنجائش برقرار دکھائی دیتی ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں فوجی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور عالمی سطح پر اس صورتحال کو گہری تشویش کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای نے اپنے حالیہ خطاب میں خبردار کیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران کے خلاف کسی قسم کی فوجی کارروائی کی تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے میں اس کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران نہ تو کسی ملک کے خلاف جنگ کا آغاز کرتا ہے اور نہ ہی تصادم چاہتا ہے، تاہم اگر ایرانی قوم کو نشانہ بنایا گیا یا دباؤ میں لانے کی کوشش کی گئی تو اس کا سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

خامنہ ای نے امریکی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام ایسے بیانات سے خوفزدہ ہونے والے نہیں ہیں اور ملک کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ ان کے اس بیان کو خطے میں طاقت کے توازن اور ممکنہ تصادم کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

ایرانی قیادت کے اس مؤقف پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ وہ اب بھی ایران کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے کسی معاہدے تک پہنچنے کے خواہاں ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ خامنہ ای کی جانب سے علاقائی جنگ کے خدشات کا اظہار کوئی غیر متوقع بات نہیں، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا سفارت کاری کو موقع دیا جاتا ہے یا نہیں۔

صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگر مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ نہ صرف امریکا اور ایران بلکہ پورے خطے کے لیے بہتر ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر بات چیت ناکام ہوئی تو پھر یہ دیکھا جائے گا کہ ایران کی جانب سے ظاہر کیے گئے خدشات کس حد تک درست ثابت ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کی ترجیح یہ ہے کہ معاملات بات چیت کے ذریعے حل ہوں، نہ کہ جنگ کے ذریعے۔

واضح رہے کہ امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ امریکی بحریہ کے مطابق خطے میں اس وقت متعدد جنگی جہاز، ایک طیارہ بردار بحری جہاز اور جدید جنگی صلاحیتوں سے لیس بحری یونٹس تعینات ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ فوجی نقل و حرکت ایک طرف دباؤ کی علامت ہے تو دوسری جانب اسے مذاکرات میں برتری حاصل کرنے کی کوشش بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل جا رہا ہے خامنہ ای ایران کے دیا جا

پڑھیں:

انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران

ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔

ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل