برطانیہ کا ایران پر نیا وار، 10 شخصیات اور ایک ادارہ پر نئی پابندیاں لگادیں
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
برطانیہ کا ایران پر نیا وار، 10 شخصیات اور ایک ادارہ پر نئی پابندیاں لگادیں WhatsAppFacebookTwitter 0 3 February, 2026 سب نیوز
لندن (آئی پی ایس) برطانیہ نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات پر ایرانی شخصیات اور ایک ادارے کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کر دیا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق برطانوی حکومت نے 10 ایرانی شخصیات اور ایک ایرانی ادارے کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے پر عائد کی گئی ہیں۔
برطانوی حکام کے مطابق پابندیوں کے تحت نامزد افراد اور ادارے کے برطانیہ میں موجود اثاثے منجمد کر دیے جائیں گے جبکہ ان افراد پر برطانیہ کا سفر کرنے پر بھی پابندی عائد ہو گی۔
برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ایسے اقدامات ضروری ہیں اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی جاری رکھی جائے گی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبردکانداروں نے گاہکوں کو باہر نکلنے سے روکا، سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات میں اہم انکشافات دکانداروں نے گاہکوں کو باہر نکلنے سے روکا، سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات میں اہم انکشافات آئینی عدالت کی پسند کی شادی کرنے والی خاتون کو شوہر کیساتھ جانے کی اجازت وفاقی آئینی عدالت نے کوئٹہ بلدیاتی انتخابات و حلقہ بندیوں سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا پاکستان اور ازبکستان کا تجارت، سرمایہ کاری اور رابطہ کاری تیز کرنے پر اتفاق بیورو کریسی کے لیے بڑی اور اچھی خبر کی تفصیلات اور نوٹیفکیشن سب نیوز پر پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان بحری تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاقCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: شخصیات اور ایک
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔