سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے بھائی نجف حمید کا فراڈ کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے بھائی نجف حمید نے فراڈ کیس میں ضمانت بحالی کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔
نجف حمید نے ایف آئی اے مقدمے میں ضمانت منسوخی کا فیصلہ چیلنج کردیا، نجف حمید نے اسپیشل جج سینٹرل کا ضمانت منسوخی کا 24 جنوری کا فیصلہ چیلنج کیا۔
اسپیشل جج سینٹرل نے ایف آئی اے کی نجف حمید کی ضمانت منسوخی کی درخواست منظور کی تھی۔
نجف حمید نے درخواست میں مؤقف اپنایا کہ قانون پسند شہری ہوں، بدنیتی پر مبنی مقدمے میں گھسیٹا جارہا ہے، ضمانت منسوخی کا فیصلہ قانون کی نظر میں برقرار نہیں رہ سکتا۔
درخواست میں مؤقف اپنایا کہ اسپیشل جج سینٹرل کا ضمانت منسوخی کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، ضمانت قبل از گرفتاری کو بحال کیا جائے۔
درخواست میں ریاست، ایف آئی اے اور مدعی مقدمہ کو فریق بنایا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ضمانت منسوخی کا کا فیصلہ
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔