میچ منسوخی: بھارت کو ٹی 20 ورلڈ کپ میں 14000 کروڑ کا بڑا نقصان ہو سکتا ہے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کے اعلان نے بھارت سمیت عالمی کرکٹ حلقوں میں شدید ہلچل مچا دی ہے۔
کرکٹ ماہرین اور مالی تجزیہ کاروں کے مطابق اس فیصلے کے نتیجے میں بھارت کو تقریباً 14 ہزار کروڑ روپے کے بڑے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کی بنیادی وجہ پاک بھارت مقابلے سے جڑی غیر معمولی کمرشل ویلیو ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید کرکٹ میں کچھ میچز محض کھیل نہیں بلکہ پورے ٹورنامنٹ کی معیشت کی بنیاد ہوتے ہیں، اور پاک بھارت مقابلہ اسی زمرے میں آتا ہے۔
واضح رہے کہ ٹی 20 ورلڈ کپ میں یہ میچ براڈکاسٹنگ، اشتہارات، اسپانسرشپ، ٹکٹوں کی فروخت اور دیگر کمرشل سرگرمیوں کے ذریعے خطیر آمدن کا ذریعہ بنتا ہے۔ پاکستان کے انکار کے بعد اس پورے مالی ماڈل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاک بھارت میچ کی مجموعی کمرشل مالیت 50 کروڑ ڈالر کے قریب سمجھی جاتی ہے، جس میں براڈکاسٹ حقوق، اشتہاری پریمیم اور اسپانسرشپ ایکٹیویشن شامل ہیں۔ اس میچ کے دوران صرف 10 سیکنڈ کے اشتہار کی قیمت لاکھوں بھارتی روپے تک جا پہنچتی ہے، جو دیگر میچز کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہوتی ہے۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق اس ایک میچ کی بدولت پورے ٹورنامنٹ میں جان آتی ہے اور براڈکاسٹرز مہنگے داموں حقوق خریدنے پر آمادہ ہوتے ہیں۔ آئی سی سی بھی اسی آمدنی کی بنیاد پر ان کرکٹ بورڈز کی مالی معاونت کرتا ہے جو خود اتنی کمائی کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ پاک بھارت میچ کا نہ ہونا اس پورے مالی ڈھانچے کو متاثر کرنے کے مترادف ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق نقصان کا سب سے پہلا اثر براڈکاسٹرز پر پڑے گا، جو اشتہارات کی مد میں اربوں روپے کی آمدن سے محروم ہو جائیں گے۔
اندازوں کے مطابق صرف اشتہارات سے حاصل ہونے والی آمدن میں کئی ارب بھارتی روپے کی کمی واقع ہو سکتی ہے۔ ایسی صورتحال میں براڈکاسٹرز نقصان پورا کرنے کے لیے آئی سی سی پر دباؤ ڈال سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں دیگر بورڈز کے حصے میں آنے والی رقوم بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے اس فیصلے نے واضح کر دیا ہے کہ کرکٹ اب صرف کھیل نہیں بلکہ سیاسی اور معاشی عوامل سے بھی گہرائی سے جڑی ہوئی ہے۔ پاک بھارت میچ کے بغیر ٹی 20 ورلڈ کپ کی مالی کشش میں نمایاں کمی آ سکتی ہے، جو نہ صرف بھارت بلکہ عالمی کرکٹ معیشت کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاک بھارت کے مطابق ورلڈ کپ
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔