Express News:
2026-07-24@08:17:04 GMT

کرکٹ ڈپلومیسی

اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT

آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں پاکستان مشروط شرکت کر رہا ہے۔ پاکستان نے بھارت کے ساتھ میچ نہ کھیلنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان میچ پوائنٹس کھو دے گا۔ بھارت کو کھیلے بغیر جیت کے پوائنٹس مل جائیں گے۔ لیکن یہ اتنی سادہ بات نہیں ہے۔ حالانکہ بھارت کو کھیلے بغیر جیت کے پوائنٹس مل رہے ہیں لیکن پھر بھی بھارت سے چیخوں کی آوازیں آرہی ہیں۔ بھارت رو رہا ہے۔ آئی سی سی بھی منتیں کر رہا ہے۔

اس سے پہلے پاکستان نے ایسے اشارے دیے تھے کہ پاکستان ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کا مکمل بائیکاٹ بھی کر سکتا ہے۔ بھارت اور آئی سی سی کے لیے یہ بہت خطرناک تھا۔ بنگلہ دیش کو پہلے ہی آئی سی سی ورلڈ کپ سے نکال چکا ہے۔

اس کے بعد اگر پاکستان بھی ورلڈ کپ کھیلنے سے انکار کر دیتا تو یقیناً ورلڈ کپ اپنی ساکھ کھو دیتا۔ بھارت جس نے آئی سی سی پر اپنی مالی بالا دستی قائم کی ہوئی ہے یقیناً پریشان تھا۔ ایسی خبریں بھی آئیں کہ بھارت کے بورڈ چئیرمین محسن نقوی کو ورلڈ کپ کھیلنے پر قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ لیکن اب دیکھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کے فیصلے سے بھارت کو کتنا نقصان اور کتنا فائدہ ہوا ہے۔

کرکٹ میں سیاست بھارت لے کر آیا ہے۔ پہلے پاکستان کے ساتھ کرکٹ کھیلنے سے انکار کیا۔ اس کے بعد کھلاڑیوں نے ہاتھ ملانے بند کیے۔ پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے انکار کیا۔ اس لے آج بھارت یہ نہیں کہہ سکتا کہ پاکستان کرکٹ میں سیاست کو لے کر آیا ہے۔ پاکستان نے توکرکٹ کو سیاست سے دور رکھنے کی بہت کوشش کی ہے۔ پاکستان نے دو طرفہ کرکٹ تعلقات کو بحال کرنے کی بہت کوشش کی۔ عالمی کرکٹ میں بھارت کو سیاست ختم کرنے کے مشورے دیے لیکن بھارت نے ایک نہ سنی۔ آج حالات یہاں پہنچ گئے ہیں۔

یہ درست ہے کہ آج پاکستان بنگلہ دیش کے ساتھ کھڑا ہے۔ پہلے بنگلہ دیش کو ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ سے باہر کیا گیا۔ آج بنگلہ دیش اور بھارت کے اچھے تعلقات نہیں ہیں۔ اس لیے بھارت کرکٹ میں بھی بنگلہ دیش کے ساتھ برا سلوک کر رہا تھا جیسے پہلے پاکستان کے ساتھ کیا۔ یہاں یہ بات بھی حقیقت ہے کہ جب بھارت پاکستان کے خلاف اقدامات کر رہا تھا تو بنگلہ دیش بھارت کے ساتھ کھڑا تھا کیونکہ اس وقت بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کی حکومت تھی۔ آج بنگلہ دیش میں بھارت نواز حکومت نہیں ہے تو بھارت نے بنگلہ دیش کو بھی کرکٹ میں انتقامی کارروائی کا نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ ماضی کی تمام دوستیاں ختم۔

میں نے ایک دفعہ ایک بھارتی سفارتکار سے پوچھا کہ بھارت پاکستان کے ساتھ ہاکی کھیلنے کو تیار ہے، فٹ بال کھیلنے کو تیار ہے، سب کھیلنے کو تیار ہے، صرف کرکٹ نہ کھیلنے کی کیا وجہ ہے تو بھارتی سفارتکار نے آسان جواب دیا۔ اس نے کہا کہ کرکٹ اب کھیل نہیں ایک تجارت ہے اس میں بہت پیسہ ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت بند ہے اس لیے کرکٹ بھی بند ہے۔ بھارت سمجھتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات سے کرکٹ مشروط ہونی چاہیے۔ اب عام فہم میں تو یہ بات غلط لگتی ہے۔ لیکن کرکٹ میں اس قدر پیسہ آگیا ہے کہ بھارت نے اس پیسے پر اپنی مالی بالادستی قائم کی ہے اور اس کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ پاکستان نے جو بھارت کے ساتھ میچ کا بائیکاٹ کیا ہے۔ اس کا بھارت کو کیا نقصان ہوگا۔ یہ بات سمجھیں اس وقت کرکٹ پر بھارت کے براڈ کاسٹرز کی بالا دستی ہے۔ آج بھی ورلڈ کپ کا سب سے بڑا میچ پاک بھارت میچ ہی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق صرف پاک بھارت میچ سارے ورلڈ کپ کا ساٹھ فیصد سے زائد ہے۔ اگر یہ ایک میچ نہیں ہوتا تو بھارتی براڈ کاسٹرز کو ساٹھ فیصد نقصان ہو سکتا ہے۔ اس سے آئی سی سی کو بھی نقصان ہوگا۔اسی نقصان کی وجہ سے بھارت پریشان ہے۔ ورنہ جہاں بنگلہ دیش کے جانے کو اہمیت نہیں دی گئی وہاں پاکستان کی بھی کوئی اہمیت نہ سمجھی جاتی۔

سوال یہ بھی ہے کہ پاکستان نے مکمل بائیکاٹ کیوں نہیںکیا۔ شائد اس کی وجہ یہ ہے کہ آئی سی سی میں ایک میچ نہ کھیلنے کی ماضی میں مثالیں موجود ہیں۔ تقریباً تمام ٹیمیں کسی نہ کسی ایونٹ میں ایک یا دوسری وجہ کی بنیاد پر میچ کھیلنے سے انکارکر چکی ہیں اور ان تمام مواقع پر ان ٹیموں اور ان ممالک کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔ اس لیے پاکستان کا ایک مضبوط کیس ہوگا کہ ایک میچ کھیلنے پر کوئی ایکشن نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ ماضی میں ایسا نہیں ہوا اس لیے اس بار بھی نہیں ہو سکتا۔

بھارت سے چیخیں آرہی ہیں۔ میں نے بھارتی صحافیوں کے ٹوئٹس پڑھے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ بھارت کا جو بھی نقصان ہو رہا ہے وہ پاکستان سے پورا کیا جائے۔ نقصان ان کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔ کل وہ پاکستان کو نقصان پہنچا کر خوش تھے۔ آج جب خود کو نقصان پہنچ رہا ہے تو پریشان ہے۔ بھارتی براڈ کاسٹرز بھی پریشان ہیں، آئی سی سی بھی پریشان ہے۔ ان کا ورلڈ کپ مکمل طورپر خراب ہوگیا ہے، متنازعہ ہوگیا ہے۔ ان کی مالی بالا دستی بھی ان کے کوئی کام نہیں آرہی۔ یہ بات بھی کہی جا رہی ہے کہ پاکستان کے فیصلے کے بعد ابھی مذاکرات کی گنجائش باقی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ کوئی بریک تھرو ممکن ہے۔ لیکن بھارت کے لیے یہ بہت مشکل ہوگا۔ کیونکہ بنگلہ دیش کی واپسی ایک شکل ہو سکتی ہے کہ پاکستان اپنا فیصلہ واپس لے لے۔ لیکن یہ بہت مشکل ہے۔ اس لیے شائد اس دفعہ تو نہیں آیندہ کہیں کوئی بات طے ہو جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان کے ساتھ ہے کہ پاکستان پاکستان نے بنگلہ دیش بھارت کو کہ بھارت بھارت کے کرکٹ میں نقصان ہو ورلڈ کپ نہیں ہو یہ بات اس لیے کر رہا رہا ہے

پڑھیں:

ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ

امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا

امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایشین گیمز: پاکستان، بھارت، بنگلادیش، سری لنکا براہِ راست ناک آؤٹ مرحلے میں
  • جوز بٹلر نے یونیورس باس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا