Express News:
2026-07-23@23:55:18 GMT

کرکٹ ڈپلومیسی

اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT

آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں پاکستان مشروط شرکت کر رہا ہے۔ پاکستان نے بھارت کے ساتھ میچ نہ کھیلنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان میچ پوائنٹس کھو دے گا۔ بھارت کو کھیلے بغیر جیت کے پوائنٹس مل جائیں گے۔ لیکن یہ اتنی سادہ بات نہیں ہے۔ حالانکہ بھارت کو کھیلے بغیر جیت کے پوائنٹس مل رہے ہیں لیکن پھر بھی بھارت سے چیخوں کی آوازیں آرہی ہیں۔ بھارت رو رہا ہے۔ آئی سی سی بھی منتیں کر رہا ہے۔

اس سے پہلے پاکستان نے ایسے اشارے دیے تھے کہ پاکستان ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کا مکمل بائیکاٹ بھی کر سکتا ہے۔ بھارت اور آئی سی سی کے لیے یہ بہت خطرناک تھا۔ بنگلہ دیش کو پہلے ہی آئی سی سی ورلڈ کپ سے نکال چکا ہے۔

اس کے بعد اگر پاکستان بھی ورلڈ کپ کھیلنے سے انکار کر دیتا تو یقیناً ورلڈ کپ اپنی ساکھ کھو دیتا۔ بھارت جس نے آئی سی سی پر اپنی مالی بالا دستی قائم کی ہوئی ہے یقیناً پریشان تھا۔ ایسی خبریں بھی آئیں کہ بھارت کے بورڈ چئیرمین محسن نقوی کو ورلڈ کپ کھیلنے پر قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ لیکن اب دیکھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کے فیصلے سے بھارت کو کتنا نقصان اور کتنا فائدہ ہوا ہے۔

کرکٹ میں سیاست بھارت لے کر آیا ہے۔ پہلے پاکستان کے ساتھ کرکٹ کھیلنے سے انکار کیا۔ اس کے بعد کھلاڑیوں نے ہاتھ ملانے بند کیے۔ پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے انکار کیا۔ اس لے آج بھارت یہ نہیں کہہ سکتا کہ پاکستان کرکٹ میں سیاست کو لے کر آیا ہے۔ پاکستان نے توکرکٹ کو سیاست سے دور رکھنے کی بہت کوشش کی ہے۔ پاکستان نے دو طرفہ کرکٹ تعلقات کو بحال کرنے کی بہت کوشش کی۔ عالمی کرکٹ میں بھارت کو سیاست ختم کرنے کے مشورے دیے لیکن بھارت نے ایک نہ سنی۔ آج حالات یہاں پہنچ گئے ہیں۔

یہ درست ہے کہ آج پاکستان بنگلہ دیش کے ساتھ کھڑا ہے۔ پہلے بنگلہ دیش کو ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ سے باہر کیا گیا۔ آج بنگلہ دیش اور بھارت کے اچھے تعلقات نہیں ہیں۔ اس لیے بھارت کرکٹ میں بھی بنگلہ دیش کے ساتھ برا سلوک کر رہا تھا جیسے پہلے پاکستان کے ساتھ کیا۔ یہاں یہ بات بھی حقیقت ہے کہ جب بھارت پاکستان کے خلاف اقدامات کر رہا تھا تو بنگلہ دیش بھارت کے ساتھ کھڑا تھا کیونکہ اس وقت بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کی حکومت تھی۔ آج بنگلہ دیش میں بھارت نواز حکومت نہیں ہے تو بھارت نے بنگلہ دیش کو بھی کرکٹ میں انتقامی کارروائی کا نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ ماضی کی تمام دوستیاں ختم۔

میں نے ایک دفعہ ایک بھارتی سفارتکار سے پوچھا کہ بھارت پاکستان کے ساتھ ہاکی کھیلنے کو تیار ہے، فٹ بال کھیلنے کو تیار ہے، سب کھیلنے کو تیار ہے، صرف کرکٹ نہ کھیلنے کی کیا وجہ ہے تو بھارتی سفارتکار نے آسان جواب دیا۔ اس نے کہا کہ کرکٹ اب کھیل نہیں ایک تجارت ہے اس میں بہت پیسہ ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت بند ہے اس لیے کرکٹ بھی بند ہے۔ بھارت سمجھتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات سے کرکٹ مشروط ہونی چاہیے۔ اب عام فہم میں تو یہ بات غلط لگتی ہے۔ لیکن کرکٹ میں اس قدر پیسہ آگیا ہے کہ بھارت نے اس پیسے پر اپنی مالی بالادستی قائم کی ہے اور اس کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ پاکستان نے جو بھارت کے ساتھ میچ کا بائیکاٹ کیا ہے۔ اس کا بھارت کو کیا نقصان ہوگا۔ یہ بات سمجھیں اس وقت کرکٹ پر بھارت کے براڈ کاسٹرز کی بالا دستی ہے۔ آج بھی ورلڈ کپ کا سب سے بڑا میچ پاک بھارت میچ ہی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق صرف پاک بھارت میچ سارے ورلڈ کپ کا ساٹھ فیصد سے زائد ہے۔ اگر یہ ایک میچ نہیں ہوتا تو بھارتی براڈ کاسٹرز کو ساٹھ فیصد نقصان ہو سکتا ہے۔ اس سے آئی سی سی کو بھی نقصان ہوگا۔اسی نقصان کی وجہ سے بھارت پریشان ہے۔ ورنہ جہاں بنگلہ دیش کے جانے کو اہمیت نہیں دی گئی وہاں پاکستان کی بھی کوئی اہمیت نہ سمجھی جاتی۔

سوال یہ بھی ہے کہ پاکستان نے مکمل بائیکاٹ کیوں نہیںکیا۔ شائد اس کی وجہ یہ ہے کہ آئی سی سی میں ایک میچ نہ کھیلنے کی ماضی میں مثالیں موجود ہیں۔ تقریباً تمام ٹیمیں کسی نہ کسی ایونٹ میں ایک یا دوسری وجہ کی بنیاد پر میچ کھیلنے سے انکارکر چکی ہیں اور ان تمام مواقع پر ان ٹیموں اور ان ممالک کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔ اس لیے پاکستان کا ایک مضبوط کیس ہوگا کہ ایک میچ کھیلنے پر کوئی ایکشن نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ ماضی میں ایسا نہیں ہوا اس لیے اس بار بھی نہیں ہو سکتا۔

بھارت سے چیخیں آرہی ہیں۔ میں نے بھارتی صحافیوں کے ٹوئٹس پڑھے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ بھارت کا جو بھی نقصان ہو رہا ہے وہ پاکستان سے پورا کیا جائے۔ نقصان ان کے لیے پریشانی کا باعث ہے۔ کل وہ پاکستان کو نقصان پہنچا کر خوش تھے۔ آج جب خود کو نقصان پہنچ رہا ہے تو پریشان ہے۔ بھارتی براڈ کاسٹرز بھی پریشان ہیں، آئی سی سی بھی پریشان ہے۔ ان کا ورلڈ کپ مکمل طورپر خراب ہوگیا ہے، متنازعہ ہوگیا ہے۔ ان کی مالی بالا دستی بھی ان کے کوئی کام نہیں آرہی۔ یہ بات بھی کہی جا رہی ہے کہ پاکستان کے فیصلے کے بعد ابھی مذاکرات کی گنجائش باقی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ کوئی بریک تھرو ممکن ہے۔ لیکن بھارت کے لیے یہ بہت مشکل ہوگا۔ کیونکہ بنگلہ دیش کی واپسی ایک شکل ہو سکتی ہے کہ پاکستان اپنا فیصلہ واپس لے لے۔ لیکن یہ بہت مشکل ہے۔ اس لیے شائد اس دفعہ تو نہیں آیندہ کہیں کوئی بات طے ہو جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان کے ساتھ ہے کہ پاکستان پاکستان نے بنگلہ دیش بھارت کو کہ بھارت بھارت کے کرکٹ میں نقصان ہو ورلڈ کپ نہیں ہو یہ بات اس لیے کر رہا رہا ہے

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف