بنگلادیشی کرکٹر زکوIPL معاہدے سے محروم نہیں کرنا چاہیے تھا: ششی تھرور
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
بھارت (ویب ڈیسک)کرکٹ لوگوں کو جوڑنے کا ذریعہ ہونی چاہیے، تمام فریقین ہنگامی بنیادوں پر ایک دوسرے سے رابطہ کریں۔بھارت کے رکنی پارلیمنٹ ششی تھرور نے بھارتی حکومت کی نااہلی بیان کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ بنگلادیشی کرکٹر کو آئی پی ایل معاہدے سے محروم نہیں کرنا چاہیے تھا، کھیلوں کو سیاست کی نذرکرنا افسوسناک ہے ۔
بھارتی رکن پارلیمنٹ ششی تھروور کا کہناتھا کہ بنگلہ دیش کا ردعمل زیادہ تھا لیکن اسی واقعہ کا ری ایکشن تھا، کرکٹ لوگوں کو جوڑنے کا ذریعہ ہونی چاہیے، تمام فریقین ہنگامی بنیادوں پر ایک دوسرے سے رابطہ کریں۔
یاد رہے کہ پاکستان نے بنگلہ دیش سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ورلڈکپ میں 15 فروری کو شیڈول بھارت کیخلاف میچ کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کر دیا ہے جبکہ پاکستانی ٹیم دیگر ٹیموں کے ساتھ سری لنکا میں میچز کھیلے گی ۔
یہ فیصلہ گزشتہ روز وزیراعظم شہبازشریف اور چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کے درمیان ہونے والی ملاقات میں کیا گیا ۔
یاد رہے کہ بنگلہ دیش نے سیکیورٹی مسائل کے باعث بھارت میں کھیلنے سے انکار کر دیا تھا اور میچز نیوٹرل وینیو پر منتقل کرنے کی درخواست کی لیکن آئی سی سی نے درخواست کو مسترد کر دیا اور بنگلہ دیش کی جگہ سکاٹ لینڈ کو ورلڈکپ میں شامل کر لیا۔یاد رہے کہ ٹی ٹوینٹی ورلڈکپ میں اس مرتبہ 20 ٹیمیں شامل ہو رہی ہیں ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔