بلوچستان: گرفتار دہشت گردوں نے بتایا بھارت مدد کر رہا ہے: خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2026 GMT
راولپنڈی + کوئٹہ (این این آئی + آئی این پی + نوائے وقت رپورٹ) بلوچستان میں سکیورٹی فورسز نے دو دنوں میں آپریشن کے دوران فتنہ الہندوستان کے 145 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا افغان سرزمین بھی پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ ان دہشتگردوں کے ساتھ افغان بھی شامل ہیں۔ انٹیلی جنس رپورٹس تھیں کہ دہشتگردی کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے، دہشتگرد ہزار حملے کرلیں ہم سے دھرتی کا ایک انچ بھی نہیں لے سکتے۔ دہشتگردوں کے ساتھ مقابلے میں17 سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے جبکہ 145 دہشتگردوں کی نعشیں ہمارے پاس موجود ہیں۔ گزشتہ روز کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پورے سال کے دوران1 ہزار500 دہشت گرد مارے گئے۔40 گھنٹوں میں145 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ درد ناک پہلو یہ تھا کہ گوادر میں خضدار کے رہائشی بلوچ فیملی زندگی کی بھیک مانگتے رہے۔ بی ایل اے نے5 خواتین اور3 بچوں کو بے دردی سے بھون ڈالا کیوں کہ بھارت کے ایماء پر بلوچوں کو ایندھن بنایا جا رہا ہے۔ دہشتگردوں نے بچوں کو شیلڈ کے طور پر استعمال کیا۔ دہشتگرد ہمیشہ سافٹ ٹارگٹ ڈھونڈتے ہیں، یہ حق اور باطل کی جنگ ہے اور پاکستان یہ جنگ کبھی نہیں ہارے گا۔ دہشت گرد بندوق کی نوک پر اپنا نظریہ مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی در پے قوتیں کامیاب نہیں ہوں گی۔ ہماری ہمدردیاں دہشت گردی کے حملوں میں شہید ہونے والے بہادر غازیوں کے ورثا کے ساتھ ہیں۔ دہشتگردوں نے31 معصوم شہریوں کو شہید کیا۔ افغان سر زمین بھی پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ ان دہشتگردوں کے ساتھ افغانی بھی شامل ہیں۔ آج بشیر زیب، رحمان گل اور اللہ نظر افغانستان میں موجود ہے۔ ہمارے پاس دہشتگرد حملے کی انٹیلی جنس رپورٹ موجود تھی، یہ لوگ ہندوستان کے ایماء پر ایسے واقعات کر کے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم ایک سیکنڈ کیلئے بھی سرنڈر کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں، ہم ایک ہزار سال تک ان کے خلاف جنگ لڑیں گے، انہوں نے کوئٹہ کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا۔ سکیورٹی اہلکاروں سے ملاقات کی۔ بلوچستان میں دہشت گردی کے12 مختلف واقعات کے بعد کوئٹہ شہر میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی جبکہ موبائل فون انٹر نیٹ سروس دوسرے روز بھی معطل رہی۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق شہر کے پوش علاقوں کے راستے سیل کر دیئے گئے۔ داخلی اور خارجی راستوں میں پولیس اور سکیورٹی اہلکار تعینات ہیں۔ شہر بھر میں پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کا گشت جاری ہیں، شہر کے مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن کے دوران متعدد مشکوک افراد حراست میں لیے گئے۔ سرفراز بگٹی نے نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کہا ہے کہ دہشتگرد حملوں سے پہلے ہمارے آپریشن کی وجہ سے حملوں کی شدت کم رہی۔ نوشکی میں کومبنگ آپریشن اب بھی جاری ہے۔ بلوچستان کے باقی شہروں میں آپریشن ختم ہو چکا ہے۔ بین الاقوامی صحافتی اداروں سے درخواست کروں گا‘ ان دہشتگردوں کو دہشتگرد کہیں۔ اگر یہ سیاسی مسئلہ ہوتا تو بات چیت سے حل ہو جاتا۔ بلوچستان میں دہشتگردوں کی تعداد چار سے 5 ہزار سے زیادہ نہیں ہو گی۔ بلوچستان میں دہشتگردی کی وجہ لوگوں کی محرومی نہیں ہے۔ لاپتہ افراد کا معاملہ تشدد کو جسٹی فائی کرنے کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ سب سے بڑی دستاویز نیشنل ایکشن پلان ہے۔ خیبر پی کے میں بھی لاپتہ افراد کا مسئلہ ے۔ مگر شور صرف بلوچستان پر مچایا جاتا ہے۔ شبیر زیب کو افغانستان میں پشت پناہی حاصل ہے۔ دوران جنگ ہر طبقہ فکر کو ریاست کے ساتھ کھڑے ہونا چاہئے۔ افغان عبوری حکومت نے دنیا سے وعدہ کیا تھا کہ ان کی سرزمین کسی کیخلاف استعمال نہیں ہو گی۔ دہشتگردوں کو دو تین فیصد سے زیادہ عوام کی حمایت حاصل نہیں۔
اسلام آباد + سیالکوٹ + لاہور + فیصل آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے + اے پی پی + آئی این پی) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے بلوچستان میں دہشتگردوں کا منظم حملہ مکمل طور پر ناکام بنایا گیا، صوبے کے طول و عرض میں مکمل امن قائم ہو چکا ہے۔ سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائیوں کے باعث تمام دہشتگرد حملہ آوروں کو ٹھکانے لگا دیا گیا ہے ، یہ لوگ بیشمار لاشیں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ حملوں میں دو جگہ خواتین کو استعمال کیا گیا،،کلیئرنس آپریشن اب بھی جاری ہے، کالعدم بی ایل اے کو بھارت سے فنڈنگ ہوتی ہے، یہ لوگ ہمیشہ شہری حدود کو نشانہ بناتے ہیں۔ غریب، مزدور اور بے روزگاروں کو نشانہ بناتے ہیں۔ عورتوں بچوں کو استعمال کرتے ہیں، یہ سلسلہ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ بی ایل اے اور انڈیا، لاپتہ افراد کا معاملہ مکمل فراڈ ہے۔ دہشتگردوں نے انسانی حقوق کا لبادہ بھی اوڑھ رکھا ہے، پورے ملک سے دہشتگردی کا مکمل خاتمہ کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ پچھلے دودن میں 100سے زائد دہشت گرد جہنم واصل کیے گئے۔ وطن عزیز ترقی کے سفر پر گامزن ہو چکا ہے، دہشتگرد ہماری سالمیت کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، گرفتاردہشتگردوں کے بیانات ہندوستان کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کل بلوچستان کے 12 شہروں میں دہشتگردی کے واقعات ہوئے، ان 12 دہشتگردی کے واقعات میں2 جگہ خواتین بھی ملوث پائی گئیں، پسنی میں بھی ایک خودکش حملہ آور نوجوان بچی پائی گئی ہے، ہو سکتا ہے مارے گئے دہشتگردوں کی تعداد مزید بڑھے۔ انشاء اللہ فتح پاکستان کی ہی ہو گی۔ ہم دہشتگردوں کو ضرور خاتمہ کریں گے۔ کوئی بھی پاکستان دشمن رعایت کی توقع نہ رکھے، دہشتگرد بلوچستان میں اپنے بے شمار ساتھیوں کی لاشیں چھوڑ کر فرار ہوئے۔ سکیورٹی فورسز کلیئرنس آپریشن میں مصروف ہیں، ان لوگوں نے انسانی حقوق کا بھی لبادہ اوڑھا ہوا ہے۔ بھارتی سہولت کاروں کو بھی وہیں پہنچائیں گے جہاں دہشتگردوں کو پہنچایا۔ انہوں نے کہا ہمیں دوبارہ معاشی اندھیروں میں دھکیلنا چاہتے ہیں، جو لوگ گرفتار کیے گئے ہیں ان کے انکشافات سے ثابت ہوتا ہے کہ دہشتگردی کے واقعات میں بھارت ملوث ہے۔ بی ایل اے ایک فارن فنڈڈ دہشت گرد تنظیم ہے۔ یہ دیگرمما لک میں بھی ہے۔ کالعدم بی ایل اے کو بھارت سے فنڈنگ ہوتی ہے، یہ لوگ ہمیشہ شہری حدود کو نشانہ بناتے ہیں۔ غریب، مزدور اور بے روزگاروں کو نشانہ بناتے ہیں۔ عورتوں بچوں کو استعمال کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور افغانستان بی ایل اے، ٹی ٹی پی جیسے فرنچائزز استعمال نہ کریں، ہم طویل عرصے سے ان کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔ دہشتگردوں کا مکمل طور پر خاتمہ کریں گے۔ مودی اسرائیل کی خوشنودی، امریکا کی قربت کیلئے مجرے کراتا ہے اور خود بھی ڈانس کرتا ہے، یہ میں نہیں کہہ رہا، ہندوستان کی کانگریس پارٹی کہہ رہی ہے۔ ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ پاکستان نے ہندوستان کے7 جہاز گرائے۔ وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں نے انسانی حقوق کا لبادہ بھی اوڑھ رکھا ہے۔ یہ مسنگ پرسنز ٹوٹل فراڈ ہے، صرف ایک بیانیہ بنایا گیا ہے، ان کے زیادہ تر لوگ دبئی اور مسقط میں رہتے ہیں، اب یہ خواتین اور بچوں کو بھی استعمال کر رہے ہیں۔ زیادہ تر لاپتہ افراد کالعدم بی ایل اے کے ممبران ہیں، جب دہشتگرد مارے جاتے ہیں تو ثابت ہوتا ہے کہ ان کا نام لاپتہ افراد میں شامل ہے۔ ان کے لواحقین لاپتہ افراد کا الائونس بھی لیتے ہیں اور یہ لوگ چھوٹے بچوں اور خواتین کو استعمال بھی کر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ کے پی نے دہشتگردی کی مذمت کی ہے جو اچھی بات ہے، سہیل آفریدی کا صوبہ سب سے زیادہ دہشتگردی سے متاثر ہے، دہشتگردی کے خلاف سیاسی قیادت میں کسی قسم کا اختلاف نہیں ہونا چاہیے۔ دہشتگرد کارروائیوں میں تمام صوبوں کی بچیاں اور بچے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ جنگ میں شکست پر بھارت کو سخت تکلیف ہے۔ سکیورٹی ادارے بھارتی پراکسیز کا خاتمہ کر کے دم لیں گے، خیبر پی کے حکومت بے عقل موج کے اندر مبتلا ہے، ان کا کام صرف احتجاج اور اڈیالہ کے باہر بیٹھنا ہے، انہیں صوبے میں صحت، تعلیم اور انفراسٹرکچر پر توجہ دینے کا بالکل احساس نہیں، یہ ابھی تک خیبر پی کے میں کوئی ایک بھی کام نہیں کر سکے، خیبر پی کے حکومت بتائے تیراہ کیلئے دیئے گئے چار ارب روپے کہاں گئے؟ باڑہ کا سیاسی اتحاد کہہ رہا ہے کہ بد انتظامی اور بدعنوانی ہوئی ہے۔ گورنر راج کا آئینی آپشن ہر حکومت کو میسر ہوتا ہے لیکن کوشش کی جاتی ہے کہ اس کی نوبت نہ آئے، خیبر پی کے حکومت کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز لاہور کے حلقہ این اے 127 مین والٹن روڈ قینچی بازار چونگی امرسدھو میں پاکستان مسلم لیگ ن کے دفتر کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کی طرف سے بزدلانہ حملہ کیا گیا اور ایک منظم سازش کے تحت بلوچستان کا امن تباہ کرنے کی کوشش کی لیکن میں سکیورٹی فورسز، پاک فوج، پولیس اور بلوچستان حکومت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے 80 سے زائد دہشت گردوں کو جہنم واصل کرتے ہوئے بھرپور طریقے سے دہشت گردوں کو پسپا ہونے پر مجبور کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ان دہشت گردوں کو بھارت سے مدد ملتی ہے، وزیراعظم محمد شہباز شریف مکمل طور پر اس صورتحال سے آگاہ اور سکیورٹی اداروں سے رابطے میں رہے، انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں افواج پاکستان نے معرکہ حق میں فتح حاصل کی، بھارت کو اس کی بہت تکلیف ہے اور وہ اب پراکسی وار کے ذریعے پاکستان پر حملہ آور ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ میں بھارت کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ جب تم نے براہ راست پاکستان پر حملہ کیا تو ہم نے تمہیں وہ سبق سکھایا کہ جو تمہیں ہمیشہ یاد رہے گا، تمہیں دم دبا کے بھاگنا پڑا، اب تمہارے بچونگڑے جو تمہاری پراکسیز ہیں کا بھی خاتمہ کر کے دم لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج ملکی دفاع کے لیے ہر وقت تیار ہے۔ ابھی تک یہ خیبر پی کے میں کوئی ایک بھی کام نہیں کر سکے، ان کو بالکل احساس نہیں کہ انہوں نے صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر پر توجہ دینی ہے، خیبر پی کے کے ترجمان ٹی وی پر بیٹھ کر زبان درازی کرتے ہیں لیکن کارکردگی بالکل صفر ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ انہیں پنجاب سے سیکھنا چاہئے جہاں وزیراعلیٰ مریم نواز نمایاں کام کر رہی ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ آپ پنجاب سے سیکھو کہ کس طرح عوام کی خدمت کی جاتی ہے، جب پنجاب میں محمد شہباز شریف وزیراعلیٰ تھے تو پی کے ایل آئی ہسپتال، راولپنڈی کارڈیالوجی ہسپتال، اورنج لائن ٹرین، فرانزک لیب،، سی ٹی ڈی سمیت جنوبی پنجاب کے ہسپتالوں تک پراجیکٹس بنے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے کہا کہ گورنر راج آئینی آپشن ہے، ہر حکومت کو یہ میسر ہوتا ہے لیکن کوشش کی جاتی ہے کہ اس کی نوبت نہ آئے، بانی پی ٹی آئی کا معمولی سا علاج ہوا، بانی پی ٹی آئی کی رضامندی سے ان کا طبی علاج کیا گیا، روبصحت ہونے کے بعد انہیں اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔ ادھر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور کور کمانڈر بلوچستان سی ایم ایچ کوئٹہ پہنچے اور دہشت گردی کے واقعے میں زخمی پولیس اہل کاروں کی عیادت کی۔ اس موقع پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے اہلکاروں کے بلند حوصلے کو سراہا اور کہا کہ اہلکاروں نے شیروں کی طرح دہشت گردوں کے حملوں کا مقابلہ کیا اور انہیں ناکام بنایا۔ وزیر مملکت برائے امورِ داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں نیشنل ایکشن پلان کے تحت پوری قوت سے جاری ہیں اور ریاستِ پاکستان زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ وہ اپنی رہائش گاہ پر گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا اور خصوصاً بھارتی میڈیا پر بلوچستان کے حوالے سے منظم، جھوٹا اور گمراہ کن پراپیگنڈا کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جعلی ویڈیوز اور جھوٹے دعوے پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بیرونی سرپرستی اور فنڈنگ کا ثبوت ہیں۔ وزیرِ مملکت نے وادی تیراہ کے حوالے سے کہا کہ وہاں کے مسائل دہشت گردی نہیں بلکہ صوبائی حکومت کی ناکامی اور وعدوں کی عدم تکمیل کا نتیجہ ہیں۔ بلوچستان میں امن بحال ہو رہا ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں پوری قوت سے جاری ہیں اور اس پر تمام سیاسی جماعتوں کا مکمل اتفاق رائے موجود ہے۔ وفاقی حکومت بلوچستان حکومت کے ساتھ کھڑی ہے۔ شہداء کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی اور ناقابل فراموش ہیں، ہمارے حوصلے بلند ہیں اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کو نیست و نابود کیا جائے گا۔ دہشت گرد بلوچستان میں ترقی نہیں دیکھنا چاہتے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان میں امن بحال ہو رہا ہے اور متعدد ترقیاتی منصوبے جاری ہیں۔ وادی تیراہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ وہاں کے مسائل خیبر پی کے حکومت کی ناکامی اور وعدہ خلافی کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 9 سال گزرنے کے باوجود نہ سکول بنے، نہ ہسپتال اور نہ ہی تھانے قائم کیے گئے جو کے پی کے حکومت کی نااہلی کا واضح ثبوت ہے جبکہ عوام کے لیے مختص اربوں روپے کہاں گئے، اس کا جواب صوبائی حکومت کو دینا ہوگا۔ حقوق کے نام پر سکولوں‘ ہسپتالوں اور بازاروں کو نشانہ بنانا قابل مذمت جرم‘ ریاست ایسے عناصر کیخلاف پوری قوت سے کارروائی کر رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کو نشانہ بناتے ہیں بلوچستان میں دہشت خیبر پی کے حکومت انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کا سکیورٹی فورسز دہشت گردوں کو وزیر اطلاعات دہشتگردوں کے دہشتگردوں نے دہشت گردی کے دہشتگردی کے ہندوستان کے وفاقی وزیر کو استعمال کہ دہشتگرد ان کے خلاف کرتے ہوئے بی ایل اے حکومت کو گردوں کے خاتمہ کر کرتے ہیں جاری ہیں کا مکمل کیا گیا ہیں اور کرنے کی نہیں ہو بچوں کو رہے ہیں ہوتا ہے کے ساتھ کہ دہشت کر رہے یہ لوگ ہیں کہ کہا ہے رہی ہے رہا ہے ہے اور
پڑھیں:
کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
اسلام آباد،اوورسیز چیمبر آف کامرس سروے (overseas chamer commerce)میں بتایا گیا کہ پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور ہوگیا، 70 سے 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر ہوئے۔
سروے میں بتایا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9 فیصد پوائنٹس کمی سے مثبت 13 فیصد رہ گیا، خدمات کے شعبے میں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔
اوورسیز چیمبر سروے کے مطابق مینوفیکچرنگ کے شعبے میں کاروباری اعتماد 7 پوائنٹس کم ہوگیا، صرف ریٹیل سیکٹر میں کاروباری اعتماد 3 پوائنٹس اضافے سے مثبت 20 فیصد ہوگیا۔
مزید پڑھیں:سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
سروے میں یہ بھی بتایا گیا کہ نئی سرمایہ کاری انڈیکس 10 پوائنٹس کمی سے صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا۔