خواجہ نافع کا کوپر کونولی کو اسٹمپ، آؤٹ یا ناٹ آؤٹ؟ بحث چھڑ گئی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تیسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں کوپر کونولی کے اسٹمپڈ آؤٹ پر بحث چھڑ گئی۔
تفصیلات کے مطابق آسٹریلوی ٹیم ہدف کے تعاقب میں مشکلات کا شکار تھی اور اسے 38 گیندوں پر 126 رنز درکار تھے جبکہ 4 وکٹیں باقی تھیں۔
ایسے میں کوپر کونولی نے میچ کے سب سے کامیاب بولر محمد نواز کی گیند پر آگے نکل کھیلنے کی کوشش کی تاہم گیند ان کی لیگ سائیڈ سے کیپر کے ہاتھوں میں چلی گئی جنہوں نے پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک مشکل اسٹمپ کیا۔
FIFER! Nawaz spins it past Cooper Connolly and Khawaja Nafay whips off the stumps ⚡
???? Watch live in the UK region, sign up now at https://t.
— Pakistan Cricket (@TheRealPCB) February 1, 2026
وہاں موجود امپائر، دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں اور یہاں تک کہ تھرڈ امپائر نے بھی اس وقت یہ بات نوٹ نہ کی یہ اسٹمپ آئی سی سی قوانین کے مطابق درست نہیں تھا۔
ہوا کچھ یوں کہ خواجہ نافع نے اسٹمپ بائیں ہاتھ سے کیا جبکہ گیند ان کے دائیں ہاتھ میں تھی۔
آئی سی سی قوانین کے مطابق اسٹمپنگ کو تب ہی درست سمجھا جاتا ہے جب گیند اسی ہاتھ میں ہو جس سے وکٹوں کو نشانہ بنایا جائے۔
بعد ازاں اس معاملے کو لے کر سوشل میڈیا پر ایک نہ ختم ہونے والی بحث چھڑ گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔