محسن نقوی نے ماسٹر اسٹروک کھیلا، وزیراطلاعات عطا تارڑ کا انڈیا سے میچ کے بائیکاٹ کے فیصلے پر تبصرہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
وفاقی وزیر عطا تارڑ نے کہا کہ بھارت کے خلاف میچ سے بائیکاٹ کا فیصلہ واپس نہیں ہوگا اور بھارت کو جواب دینا پڑے گا۔
وی نیوز کے نمائندے گفتگو کرتے انہوں نے مزید کہا کہ چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی نے ماسٹر اسٹروک کھیلا ہے اور اس حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف سے مشاورت بھی ہوئی۔ سوشل میڈیا پر بھارت پر تنقید بھی جاری ہے، اور بھارت اس فیصلے کو سمجھ نہیں پا رہا۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان کا ٹی20 ورلڈ کپ میں بھارت کے ساتھ میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ، آئی سی سی کا ردعمل آگیا
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں حکومت پاکستان نے واضح کر دیا تھا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم ٹی20 ورلڈ کپ میں شرکت کرے گی، تاہم بھارت کے خلاف میچ نہیں کھیلے گی۔ یہ میچ 15 فروری کو شیڈول ہے۔
پاکستان نے یہ فیصلہ بنگلہ دیش کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر احتجاجاً کیا ہے۔ اس سے قبل انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے بنگلہ دیش کے تحفظات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ایونٹ سے باہر کر دیا تھا اور اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کی ٹیم کو شامل کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: ٹی20 ورلڈ کپ: پاکستان بھارت میچ نہ ہونے سے بھارتی براڈکاسٹرز کو اربوں روپے کا مالی نقصان متوقع
پاکستان نے آئی سی سی کے اس فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور بنگلہ دیش کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی سی سی پی سی بی عطا تارڑ محسن نقوی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی سی بی عطا تارڑ محسن نقوی
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔