ملتان سلطانز کی نیلامی سے متعلق بڑی پیشرفت
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
پاکستان سپر لیگ کی فرنچائز ملتان سلطانز کی نیلامی سے متعلق بڑی پیشرفت ہوئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق سابق اونر علی ترین کے پی سی بی سے اختلافات کے بعد چیئرمین پی سی بی نے ٹیم کو رواں سیزن میں بورڈ کے زیر انتظام چلانے کا فیصلہ کیا تھا۔
تاہم دو نئی ٹیموں کی کامیاب نیلامی کے بعد بورڈ اراکین کے پر زور اسرار پر چیئرمین پی سی بی نے ملتان سلطانز کی نیلامی کا بھی فیصلہ کرلیا۔
پی سی بی نے ٹیم خریدنے کی خواہشمند پارٹیز سے 2 فروری تک پیشکشیں طلب کی تھیں۔
پی سی بی کو ڈیڈلائن تک 6 پیشکشیں موصول ہوئیں جن کی ٹیکنیکل ایویلوایشن مکمل کرنے کے بعد 5 پارٹیز کو بولی کے لیے کامیاب قرار دیا گیا۔
The PCB Bid Committee has completed the technical evaluation of proposals for the sale of Multan Sultans.
Further details to be shared soon.
Read more: https://t.co/4M5dCVlVU2#HBLPSL | #NewEra
— PakistanSuperLeague (@thePSLt20) February 2, 2026
نیلامی کی تاریخ اور جگہ سے متعلق اعلان جلد متوقع ہے۔
Who will be our Franchise Owner? ????
Six proposals received by @thePSLt20
Kahaan baat paki ho gee? ????
— Multan Sultans (@MultanSultans) February 2, 2026
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پی سی بی
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔